آج کل ابراہیمی معاہداور ادیان کے اتحاد پر مبنی تجاویز کے حوالے سے شدید بحث اور تشویش دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی کوششوں پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو یہ باور کروانا ہے کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان تمام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں، اس لیے ان تمام گروہوں کو یکجا کر دیا جائے۔ اس سوچ کے تحت یہ تجاویز بھی سامنے آئیں کہ مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ کو ایک ہی احاطے میں تعمیر کیا جائے اور قرآن، انجیل اور تورات کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ مختلف حلقوں کے مطابق اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو سفارتی اور سیاسی سطح پر تسلیم کروانا ہے۔
سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء کے فتویٰ نمبر 19402 کے مندرجات کا میڈیا پر کثرت سے حوالہ دیا جاتا ہے۔ علمی تحقیق کے مطابق یہ فتویٰ 25 محرم 1418ھ بمطابق 31 مئی 1997 کو شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کی زیرِ صدارت جاری ہوا تھا، جسے حالیہ سالوں میں سوشل میڈیا پر نئے سیاسی تناظر کے ساتھ دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔ سعودی فتاویٰ کمیٹی کے اس فیصلے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
اسلامی عقیدے کی بنیادی اصل یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کرنے والا آخری دین ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے جس نے تورات، زبور اور انجیل کو منسوخ کر دیا ہے۔ تمام سابقہ کتب میں انسانوں کی جانب سے تحریف کی جا چکی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اسلام قبول نہ کرے، اس کے عقیدے پر شرعی احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔
فتاویٰ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق مذاہب کے اتحاد کی دعوت کا مقصد اسلام کے بنیادی اصولوں کو ضعیف کرنا ہے۔ اس سے اسلام اور کفر کا امتیاز ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان دانستہ طور پر اس نظریے کی ترویج کرے جو اسلام کے بنیادی مسلمہ عقائد سے متصادم ہو تو یہ دین سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا مسلمانوں کے لیے اس تحریک میں شرکت کرنا یا اسے فروغ دینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تینوں الہامی کتب کو ایک جلد میں شائع کرنا یا ایک ہی احاطے میں تمام مذاہب کی عبادت گاہیں بنانا شرعی اعتبار سے ناپسندیدہ اور نا جائز قرار دیا گیا ہے۔
٭٭٭












