قارئین اور عزیزانِ وطن! آج 79واں یومِ آزادی منایا جائے گا۔ سرکاری سطح سے لے کر نیم سرکاری اداروں اور میلوں ٹھیلوں کے منتظمین تک، سبھی بڑی گرم جوشی کے ساتھ 14اگست کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہر بڑے شہر میں فوجی پریڈز منعقد ہوتی ہیں، بالخصوص دارالحکومت اسلام آباد میں 21توپوں کی سلامی سے صبح کا آغاز ہوتا ہے۔ سیاسی اور حکومتی ایوانوں میں موجود شخصیات ان تقاریب کی صدارت کرتی ہیں اور فوجی و شہری قیادتیں پریڈ کی سلامی لیتی ہیں۔ صدر مملکت کی جانب سے لکھی ہوئی تقریریں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور مختلف شخصیات میں تمغے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ یہی سلسلہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں دہرایا جاتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتِ حال کے باعث ایسی بڑی تقاریب کا انعقاد اس پیمانے پر نہیں دکھائی دیتا۔
وطنِ عزیز سے ہٹ کر بیرونِ ملک، بالخصوص امریکہ میں بھی جشنِ آزادی کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ صرف نیویارک ریاست میں متعدد پریڈز اور میلے سجائے جاتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی یکساں جوش و خروش سے یہ دن منا رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی اپنے اپنے بیانات کے ذریعے اس جشن میں شمولیت کا حق ادا کرتے ہیں۔ آج کے دور میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بیشتر ادارے مخصوص نگرانی اور اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کے نزدیک ان کی اہمیت اور اعتبار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اسی بنا پر خبر رسانی کے لیے سوشل میڈیا کا کردار اہم ہو چکا ہے، جس نے ہر شہری کو خبر کا حصہ دار بنا دیا ہے۔ اب کسی کو روایتی ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
تصور کے آئینے میں دیکھا جائے تو بانیانِ پاکستان اپنے عظیم قائد حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سرپرستی میں گزشتہ دہائیوں کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور فکر مند ہو کر پوچھ رہے ہیں کہ جس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی، کیا اس کا مقصد یہی تھا کہ اقتدار کی کشمکش اور بیرونی اثر و رسوخ کے باعث اسے مسائل کی آگ میں دھکیل دیا جائے۔ ماضی میں وکلا تحریک اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کے دوران عوامی جوش و خروش تو نظر آیا، لیکن بعد میں سیاسی و سماجی نتائج کے حوالے سے مختلف تحفظات سامنے آئے۔ اعتزاز احسن نے جیل اور عوامی ردِ عمل کے پس منظر میں عوامی مزاج پر ایک شعر پڑھا تھا جس کا ایک مصرع تھا:
یہ پنجاب کی زمیں ہے ایران تو نہیں ہے
اہلِ دانش اس فکر کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جب بھی 14اگست آتی ہے، قائد اور ان کے رفقا ملک کی موجودہ صورتِ حال اور کروڑوں عوام کے درپیش مسائل پر افسردہ دکھائی دیتے ہیں کہ کس طرح اقتدار کی رسہ کشی اور مخصوص مفادات نے ملک کا حشر کر دیا ہے۔ اس کے باوجود ایوانوں میں محض ان کے نام کی تقریریں اور نعرے لگائے جاتے ہیں۔ قیادت کی روح شاید نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ شعور اور انقلاب کی شمع روشن کریں۔ جیسے ایک بھارتی نوجوان شاعر نے ایک مصرعے میں حقیقت بیان کی:
ایک ضحیف علی حسینی خامنہ ای نے
اپنی جان دے کر آزادی کی قیمت بتائی
کاش ہمارے اندر بھی کوئی ایسا سچا اور مخلص رہنما پیدا ہو جائے۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! آج جب ہم 79واں یومِ آزادی منا رہے ہیں، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ مقتدر حلقے قائدِ اعظم کی کاوشوں کو صرف تقریروں اور نمائش کی نذر نہ کریں، بلکہ قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد پر غور کریں اور ملک کو عوام کی امنگوں کے مطابق چلنے دیں۔ ملک کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ لٹیروں اور مفاد پرست عناصر سے نجات دلا کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ حالیہ دنوں میں نئے صوبوں اور انتظامی حد بندیوں کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ لیکن ملک کو محض انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ علاقائی، لسانی اور ثقافتی حقیقتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ اگر سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ثقافتی و جغرافیائی بنیادوں پر مزید صوبے بنا دئیے جائیں تو اس سے عوام کی بہتری اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگر مقتدرہ واقعی قائد کے پاکستان کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے یہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اور بانیانِ پاکستان جو عالمِ ارواح میں قائد کو گھیرے بیٹھے ہیں، ان کی روحوں کی تسکین کے لیے آئیں ہم بھی دعا گو ہوں:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
سْن لے تو فریاد خدایا میری
اے خدا کب تیری جانب سے مدد آئی گی













