کالم نگاری کا سفراور کتاب ”آنکھوں دیکھا”

0
3
عامر بیگ

فیس بک پر لکھنا شروع کیا تو شاید کبھی یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہ سلسلہ ایک دن کتاب کی صورت اختیار کر لے گا۔ مگر لکھنے کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے، آپ اپنے دل کی بات لکھتے ہیں اور پھر کہیں دور بیٹھا کوئی قاری اسے پڑھ کر آپ سے جڑ جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے مجھے میری تحریروں کے حوالے سے جاننا شروع کیا اور کچھ قارئین ایسے بھی تھے جو میری تحریر کا انتظار کرتے تھے۔ یہی انتظار اور یہی محبت شاید کسی بھی لکھنے والے کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
تقریباً نو برس قبل پاپا کے صدر خرم شہزاد نے سب سے پہلے میری تحریروں میں چھپی ہوئی اس چنگاری کو محسوس کیا۔ انہوں نے میری تحریروں کو پڑھا، ان میں جان محسوس کی اور مجھے اپنے آن لائن روزنامے کے لیے لکھنے کی دعوت دی۔ یہ میرے لیے حوصلہ افزائی کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ اسی دوران نیویارک سے شاعر اور مہربان ڈاکٹر محمد شفیق نے مختلف ادبی محفلوں میں کئی بار یہ بات کہی کہ مجھے اپنے کالم اخبارات میں چھپنے کے لیے دینے چاہئیں۔ ان کا خیال تھا کہ میری تحریروں میں اخبار کے کالم کے لیے ضروری قوت موجود ہے۔ میں نے اس ضمن میں ناصر علی سید سے بھی مشورہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ یہ بھی کہا کہ مجھے ضرور لکھنا چاہیے اور ڈاکٹر شفیق درست کہتے ہیں کہ آپ میں لکھنے کی بھرپور طاقت ہے۔ ان الفاظ نے میرے اندر موجود ایک خاموش اعتماد کو آواز دی۔
پھر نیویارک کے معروف کالم نگار اور افسانہ نگار کامل احمر سے تعلق بنا۔ انہوں نے نہ صرف میری تحریروں کو پسند کیا بلکہ میری تحریریں لے کر پاکستان نیوز نیویارک کے ایڈیٹر انچیف مجیب لودھی کے گھر گئے اور ان سے کہا کہ مجھے اداریہ یا کالم لکھنے کے لیے جگہ دی جائے کیونکہ میں اچھا لکھتا ہوں۔ مجیب لودھی پہلے ہی میری تحریریں دیکھتے رہتے تھے، انہوں نے نہ صرف ہاں کی بلکہ مجھے نیو جرسی کا ریجنل ایڈیٹر بھی بنا دیا۔ بس پھر یہ سفر شروع ہوا اور آج بھی جاری ہے۔کامل احمر کے مشورے پر جب پاکستان نیوز نیویارک میں شائع ہونیوالے میرے کالموں کو کتابی شکل دینے کا خیال آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے مشاہدے، تجربے، سوچ اور احساس کا ایک ایسا سفر ہے جسے محفوظ کیا جانا چاہیے۔ یوں کتاب آنکھوں دیکھا آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کتاب سے پہلے میرے تین شعری مجموعے اور دو افسانوی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اردو غزلوں کا مجموعہ محبت استخارہ ہے، اردو نظموں کا مجموعہ محبت خدا ہے، پنجابی غزلوں کا مجموعہ ریجھاں، اور اردو افسانوں کے مجموعے مانتو اور چخ چخ پخ پخ میرے ادبی سفر کے مختلف پڑاؤ ہیں۔ ادبی تخلیقات کے بعد کتاب آنکھوں دیکھا ایک مختلف تجربہ ہے، جو حالات حاضرہ، معاشرے، سیاست اور زندگی کے مختلف رنگوں کو میری نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش ہے۔
میں نے پوری کوشش کی ہے کہ جو کچھ لکھوں سچ لکھوں اور کسی کے کہنے پر کچھ نہ لکھوں۔ بہت سے مواقع پر مجھے ڈالروں کا لالچ بھی دیا گیا اور دباؤ بھی ڈالا گیا، مگر میں نے وہی لکھا جو اپنی مرضی سے لکھنا مناسب سمجھا، جو اپنی آنکھوں سے دیکھا یا جو میرے فہم اور شعور میں آیا۔ میرا یقین ہے کہ قلم ایک امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آدھی سے زائد دنیا گھومنے پھرنے کی توفیق دی اور دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم اور تجربہ بھی عطا کیا۔ زندگی کے سفر میں جو کچھ میرے پاس علم، مشاہدے اور تجربے کی صورت میں آیا، مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔ شاید یہی وہ رزق ہے جو اللہ نے میرے حصے میں لکھا اور جسے بانٹنا بھی ایک ذمہ داری ہے تاکہ کل اس امانت کے بارے میں سوال ہو تو کم از کم یہ کہا جا سکے کہ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اسے آگے پہنچانے کی کوشش کی۔
یہ سچ ہے کہ حق پوری طرح ادا نہیں ہوا۔ انسان شاید کبھی بھی اپنے رب کی عطا کردہ صلاحیتوں اور نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتا، تاہم کوشش ضرور کی ہے کہ قلم کو ذاتی مفاد، خوف، دباؤ یا لالچ کا اسیر نہ ہونے دوں اور کتاب آنکھوں دیکھا اسی کوشش کا نام ہے۔ اس کتاب کے وجود میں آنے کے سفر میں چند لوگوں کا ذکر اور شکریہ میرے لیے ازحد ضروری ہے۔ کالم نگار و دانشور مظہر برلاس، شاعر، ادیب، کالم نگار و دانشور جبار مرزا، کالم نگار، مزاح نگار، اینکر و دانشور آفتاب اقبال، عزیز از جان کامل احمر، پاکستان نیوز نیویارک کے ایڈیٹر انچیف مجیب لودھی، واصف حسین واصف، ڈاکٹر شفیق اور سیدی ناصر علی سید کا میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ ان احباب کی حوصلہ افزائی، محبت، اعتماد اور بندہ پروری کے بغیر شاید اس سفر پر چلنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ بعض لوگ آپ کے سفر میں چند قدم چلتے ہیں مگر ان چند قدموں کی روشنی بہت دور تک ساتھ رہتی ہے، اور میرے لیے یہ تمام احباب اسی روشنی کی مانند ہیں۔
کتاب آنکھوں دیکھا میں جو کچھ ہے وہ میری آنکھ، میرے ذہن اور میرے قلم کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حاصل ہے۔ ممکن ہے ہر قاری ہر بات سے اتفاق نہ کرے کیونکہ اختلاف رائے فطری ہے اور ایک زندہ معاشرے کی علامت بھی ہے۔ میری کوشش صرف یہ رہی ہے کہ جو محسوس کیا اسے دیانت داری سے لفظوں میں ڈھال دوں۔ اب یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے اور یہاں سے میرا نہیں بلکہ آپ کا سفر شروع ہوتا ہے۔ امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی اور اگر کہیں میرے الفاظ آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں، کسی واقعے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیں یا دل کو چھو جائیں تو میں سمجھوں گا کہ میری قلمی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ ایک دفعہ پھر سے آپ تمام احباب کا شکریہ۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here