فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین!١٤٤٨ھ2026ء کا ربیع الاوّل شریف اپنی پوری رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ اہل ایمان عشاقان مصطفیٰ ۖ میلاد مصطفیٰ ۖ کی تیاریاں خوب توجہ اور ذوق وشوق سے کر رہے ہیں۔ ہر طرف درودو سلام کی صدائیں بلند ہیں۔ اوراس دفع ربیع الاوّل موسم بہار میں ہے۔ ادھر سے بارشیں زمین کو اور درختوں کو سرسبز وشادب کر رہی ہیں۔ ادھر سے ربیع الاوّل کی آمد نبی پاکۖ کے سے اہل ایمان کے دلوں کو خوش وخرم اور منور کر رہی ہے۔ اس سال حسین امتزاج ہے موسم بہار میں ربیع الاوّل شریف کی آمد کا۔ اس سارے مہینے میں بالعموم اور12 ربیع الاوّل شریف کو بالخصوص اہل اسلام میلاد النبیۖ کی تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ جگہ جگہ محافل میلاد ومجالس ذکر و درود کا انعقاد ہوتا ہے۔ قریہ قریہ عظیم الشان جلوس نکالے جاتے ہیں۔
بڑے بڑے وسیع پیمانے پر خیرات ہوتی ہے طعام وشیرینی کا اہتمام ہوتاہے اور ذکر مصطفیٰۖ کے اعزاز وشوکت کیلئے محافل وجلوس کی زیب وزینت سے بارگاہ رسالت میں عقیدت ومحبت کے پھول پیش کرکے نیاز مندی وعقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور حساس علماء وصاحب دل عوام سیرت نبوی وتعلیم محمدیۖ کی روشنی سے اپنی گفتارو کردار کو آراستہ کرتے ہیں۔ اور شکر خداوندی بجا لاتے ہیں۔ کہ جس نے اتنا بڑا احسان فرمایا اور امت محمدی علی صاحبھاالصّلٰوة والسّلام میں پیدا فرمایا۔ میلاد شریف منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس عظیم نعمت کے ملنے پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں اور آپۖ کی سیرت مطہرہ کو جان کر عمل کی پوری پوری کوشش کریں اور اپنی نئی نسل کو رسول اللہۖ کی محبت سکھائیں۔ باقی آپۖ کی آمد و میلاد شریف کی تذکرے کرنا اور اوصاف مبارکہ کا بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت مبارکہ ہے اور خود رسول اللہ ۖ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ پھر صحابہ، اہل بیت اور اولیاء امت کی سنت مبارکہ ہے۔ (رضی اللہ عنھم اور پیدائش مبارکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ اور انبُیاء علیھم الصّلوٰة والسّلام کی سنت مبارکہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کس انداز میں آمد مصطفیٰۖ اور اوصاف کا تذکرہ کیا ہے قرآن مجید سے جانتے ہیں ترجمہ: اور یاد کرو جب اللہ نے انبیاء علیھم الصّلٰوة والسّلام سے ان کا عہد لیا۔ جو میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول(ۖ) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں؟ تم نے اقرار کرلیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا۔ سب نبیوں علیھم الصّلواة والسّلام نے عرض کی کہ ہم نے اقرار کیا: فرمایا(اس اللہ نے) کہ ایک دوسرے پر گواہ ہوجائو۔ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔(پارہ نمبر٣ رکوع نمبر16 آیت نمبر82-81 آل عمران ابن عسا کر سّیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حضورۖ کے بارے میں آدم اور ان کے بعد سب انبیاء علیھم الصّلواة والسّلام سے پیشین گوئی فرماتا رہا اور سب امتیں ہمیشہ حضورۖ کی آمد کا سن کر خوشیاں مناتیں۔ اور آپ ۖ کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح مانگتیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضورۖ کو ظاہر فرما کر امت کو، زمانہ کو، صحابہ کو اور شہر کو بہترین بنا دیا۔
معلوم ہوا کہ ہمارے رسول ۖ نبیوں کے نبی اور رسول ہیں رسولوں کے امتیوں پر فرض ہے کہ رسولوں پر ایمان لائیں اور رسولوں سے یہ عہد ہے کہ حضرت محمدۖ پر ایمان لائیں۔ سب انبیاء ورسُل علیھم السّلام اور ان کی امتیں حضورۖ کے امتی ہیں۔ معراج کی رات انبیاء ومرسلین کا حضور علیہ الصّلوة والسّلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمانا اسی حقیقت کا مظاہرہ تھا۔ اور قیامت کے دن اس شان کا پورا ظہوریوں ہوگا کہ تمام انبیا ومرسلین علیھم الصّلوٰة والسّلام حضورۖ کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔ حضورۖ کی تشریف وعظمت وشان کے بیان کے لئے محافل کا اہتمام وانعقاد آپ کی تشریف آوری کی خوشیاں کرنا اور آپ کے وسیلہ سے دعائیں مانگنا حضرات انبیاء کرام اور سابقہ احم سے ثابت ہے۔ جب پہلی امتوں کے لئے حضور علیہ الصّلٰوة والسّلام کی تشریف آوری کا ذکر اور اس پر خوشی کا اظہار اور آپ کا توسل جائز ہے۔ تو جب رسول اللہۖ کی دنیا میں تشریف آوری ہوگئی تو اپنی امت کے لئے ناجائز اور بدعت وشرک کیسے ہوسکتا ہے؟ بلکہ بدرجہ اولیٰ جائز وباعث برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ حقائق کو سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور عالم اسلام کے لئے برکتیں اور خوشیاں عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












