محترم قارئین کرام، سید کاظم رضا نقوی کا سلام قبول فرمائیے۔ لفظ پردیس اپنے اندر بے شمار دکھ، ہجرت کی تلخیاں اور اپنوں سے دوری کا غم سمیٹے ہوئے ہے۔ پردیس کے سخت حالات، تنہائی اور عید و تہوار پر اپنوں سے دور رہنے کی تکلیف برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر انسان کی مجبوریاں، رزقِ حلال کی تلاش، عزت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ضرورت اس سے یہ تمام سختیاں برداشت کرواتی ہیں۔ آج ایک ایسی ہی دردناک داستان قلمبند کی جا رہی ہے جو کسی کی آپ بیتی ہے۔ اگرچہ اس کے کردار بدلے جا سکتے ہیں مگر اس کا سبق یکساں ہے۔ اپنوں کی طرف سے دیا گیا دکھ اور نقصان غیروں کی اذیت سے کہیں زیادہ مہلک ہوتا ہے، لہذا عقلمند انسان وہی ہے جو دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے۔
ایک شخص تیرہ سال تک دبئی کی شدید گرمی میں محنت و مشقت کرتا رہا۔ جب وہ اپنے وطن واپس لوٹا تو اس کی بیوی نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی بچت موجود نہیں ہے۔ اس لمحے اسے پہلی بار یہ تلخ احساس ہوا کہ کچھ خواب مرتے نہیں بلکہ انسان کے اندر خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔ اس کا نام بلاول ہے اور وہ ان ہزاروں پاکستانی نوجوانوں میں سے ایک ہے جو اپنے بچوں کو ایک بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی جوانی غیر ملک کی سخت گرمی، دھول اور تنہائی کے نذر کر دیتے ہیں۔ تیرہ سال پہلے جب وہ دبئی گیا تو اس کا بڑا بیٹا تین سال کا تھا اور چھوٹی بیٹی چند ماہ کی تھی۔ اس نے رخصت ہوتے وقت اپنے بچوں کو سینے سے لگایا اور بیوی سے کہا کہ یہ بس کچھ سال کی بات ہے، اس کے بعد وہ اپنا ذاتی گھر بنائیں گے۔ وہ اسی ایک خواب کے سہارے پردیس میں دن گزارتا رہا۔
دوبئی میں ایک مزدور کی زندگی باہر سے جتنی آسان نظر آتی ہے، اندر سے اتنی ہی خاموش اور کٹھن ہوتی ہے۔ دن بھر کڑی دھوپ میں مشقت، شام کو ایک تنہا کمرہ، عید کے موقع پر ویڈیو کال پر گفتگو، بچوں کی سالگرہ موبائل کی اسکرین پر دیکھنا اور رات کو سوتے وقت یہی سوچنا کہ یہ تمام تر تگ و دو ان کے اچھے مستقبل کے لیے ہے۔ ہر ماہ تنخواہ ملنے پر وہ تقریباً تمام رقم پاکستان بھیج دیتا اور اپنے پاس صرف اتنا رکھتا جس سے گزر بسر ہو سکے۔ اس کے دیگر ساتھی نئے موبائل خریدتے، تفریح کے لیے جاتے یا چھٹیوں میں دیگر ممالک کا رخ کرتے، مگر وہ ہمیشہ حساب لگاتا اور اپنے گھر کے خواب کو ترجیح دیتے ہوئے خاموش رہتا۔ جب بھی بیوی سے فون پر بات ہوتی اور وہ بچت کے بارے میں دریافت کرتا تو بیوی ہنس کر جواب دیتی کہ وہ فکر نہ کریں، سب سنبھال رکھا ہے۔ وہ مطمئن ہو جاتا کیونکہ اعتماد بھی محبت کی ہی ایک شکل ہوتا ہے۔
تیرہ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد وہ دبئی سے مستقل طور پر واپس آ گیا۔ اس کے دل میں ایک انوکھی خوشی تھی جیسے کوئی طویل اور تھکا دینے والا سفر مکمل ہوا ہو۔ وہ راستے بھر حساب لگاتا رہا کہ اتنے سالوں کی جمع شدہ رقم سے کم از کم کسی اچھی جگہ زمین کا ٹکڑا آ جائے گا، شاید گھر کی بنیاد رکھی جا سکے گی اور اگلی عید اپنے ذاتی گھر کی چھت تلے منائی جائے گی۔ ایک شام کھانے کے دوران اس نے اپنی بیوی سے بچت کا حساب کرنے کو کہا۔ اس کی بات سن کر بیوی مکمل طور پر خاموش ہو گئی اور اس خاموشی نے اسے پہلی بار خوفزدہ کر دیا۔ پھر اس نے نظریں جھکا کر بتایا کہ ان کے پاس کوئی بچت نہیں ہے۔
بعض اوقات زندگی انسان کو کسی حادثے سے نہیں بلکہ ایک ہی جملے سے توڑ دیتی ہے۔ وہ اس لمحے کچھ نہ بول سکا اور صرف اپنی بیوی کو دیکھتا رہا۔ اسے لگا کہ شاید اس نے غلط سنا ہے مگر آہستہ آہستہ تمام سچائی سامنے آ گئی۔ وہ رقم جو ذاتی گھر کی اینٹوں میں بدلنی چاہیے تھی، وہ آن لائن خرید و فروخت، نئے موبائل فونز، روزمرہ کے پارسلز، مہنگے برانڈز، سیلز، نئے آرڈرز اور باہر سے کھانا کھانے کی عادت کی نذر ہو چکی تھی۔ رقم پیکٹوں، رسیدوں اور خالی ڈبوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔
وہ انسان مکمل طور پر خاموش رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے غصہ بھی نہیں آ رہا تھا، کیونکہ غصہ شاید اس وقت آتا ہے جب انسان کے پاس کھونے کو کچھ بچا ہو۔ اس کے اندر صرف ایک گہری اور وسیع خاموشی پھیل گئی تھی، بالکل ویسی ہی خاموشی جو کسی پرانے گھر کو گرانے کے بعد پیچھے رہ جاتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ کچھ دکھ انسان کو رلاتے نہیں بلکہ اس کے اندر ایک خالی کمرہ بنا دیتے ہیں۔ اس رات اس کے اندر بھی ایک بہت بڑا اور خاموش کمرہ بن گیا تھا جہاں بیٹھ کر وہ اپنے تیرہ سال، تنہائیاں، عیدیں، اضافی وقت کی مشقت اور وہ تمام خواب دیکھتا رہا جو اس نے اپنی تھکن کے نیچے چھپا رکھے تھے۔
پھر اس نے اپنے بچوں کو دیکھا جو اب جوان ہو چکے تھے اور اس تمام صورتحال سے ناواقف تھے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے باپ کا ایک خواب ابھی ابھی دفن ہوا ہے۔ اسی لمحے اسے یہ حقیقت سمجھ آئی کہ بچوں کا مستقبل صرف خوابوں سے نہیں بلکہ درست فیصلوں سے بنتا ہے۔ اس نے اپنی بیوی سے کوئی جھگڑا نہیں کیا، کوئی ڈرامہ نہیں رچایا اور نہ ہی کوئی سخت قدم اٹھایا۔ اس نے اگلے ہی دن دوبارہ اپنا پاسپورٹ نکالا، ویزا لگوایا اور چند دنوں بعد دوبارہ پردیس کی راہ لی۔
رخصت ہونے سے ایک رات پہلے اس کا بیٹا اس کے پاس آ کر بیٹھا اور پوچھا کہ کیا وہ دوبارہ جا رہے ہیں۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہاں، تاکہ ایک دن اس کے بیٹے کو پردیس نہ جانا پڑے۔ بیٹا شاید اس بات کی گہرائی نہ سمجھ سکا مگر وہ خود سب سمجھ چکا تھا کہ بعض مرد زندگی میں دو بار گھر بناتے ہیں، پہلی بار اینٹوں کا اور دوسری بار حوصلے کا۔ اس کا پہلا گھر بننے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا تھا اور اب وہ دوسرا گھر بنانے جا رہا تھا جسے کوئی نہیں گرا سکے گا۔
اس کہانی کا حاصل کلام یہ ہے کہ گھر والوں کو ہمیشہ اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ پردیس سے آنے والی رقم آسانی سے نہیں ملتی۔ وہ نوجوان شدید گرمی، اپنوں سے دوری اور سخت محنت کے بعد اپنی کمائی بھیجتا ہے۔ پردیس میں مقیم نوجوان کی جوانی اور اس کے پرسکون دن و رات داؤ پر لگے ہوتے ہیں، لہذا اس کی محنت اور رقم کو فضول خرچی میں ضائع کرنا درحقیقت اس کی قربانی کی توہین ہے۔
اے اللہ! پردیس جانے والے ان تمام نوجوانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ ان کے قدموں کو استقامت عطا فرما، ان کے رزق میں حلال، وسیع اور بابرکت اضافہ فرما، اور انہیں ہر قسم کی آزمائش، پریشانی اور برے راستوں سے محفوظ رکھ۔ آمین۔
قارئین کرام! بیرون ملک رہ کر سب کا خیال رکھیں اور سب کے کام آئیں، مگر خود کو کبھی فراموش نہ کریں۔ اپنی حکمت عملی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں اپنا مقام ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ دعا ہے کہ ایسا کٹھن امتحان کسی پر نہ آئے۔ آمین۔










