ٹورنٹو (پاکستان نیوز)کینیڈا کی بارڈر سروسز ایجنسی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 3323 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال 2025 میں کی جانے والی کل 3779 ملک بدریوں کا تقریباً 88 فیصد بنتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں برس ملک بدری کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ اس کارروائی کے بعد کینیڈا سے سے زیادہ بے دخل کیے جانے والے غیر ملکیوں میں بھارتی شہری پہلے نمبر پر آ گئے ہیں اور انہوں نے میکسیکو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو گزشتہ پانچ سالوں سے اس فہرست میں سب سے آگے تھا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی شہریوں کی ملک بدری میں سال 2021 سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سال 2021 میں 603، سال 2022 میں 786، سال 2023 میں 1132 اور سال 2024 میں 2004 بھارتیوں کو واپس ان کے ملک بھیجا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ملک بدری کی بنیادی وجوہات میں ویزا قوانین کی خلاف ورزی، ویزے کی مدت سے زیادہ قیام، پناہ کی درخواستوں کا مسترد ہونا اور جعلی دستاویزی یا ویزا فراڈ شامل ہیں۔ اس وقت بھی کینیڈا میں 7669 بھارتی شہری ایسے ہیں جن کی ملک بدری کے عمل کے مراحل جاری ہیں۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے تارکین وطن اور عارضی رہائشیوں کے قوانین میں سختی کے بعد سے طلبائ اور غیر ملکی کارکنان کی آمد و رفت کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، جاری سال کے پہلے چھ ماہ میں کینیڈا سے بھیجے جانے والے بھارتیوں کی یہ تعداد امریکہ کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔










