واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے امریکہ اور کینیڈا کے 15 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنسوں کی ڈیجیٹل سکین شدہ کاپیاں چوری ہونے اور انہیں ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سائبر سیکیورٹی صحافی برائن کربس کے مطابق یہ ڈیٹا ایک روسی سائیبر کرائم فورم پر ڈارک ویب سروس کے ذریعے فروخت کیا جا رہا تھا۔ ڈیٹا بیس میں ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ 1 کروڑ شناختی کارڈ، لاکھوں سفری دستاویزات اور 5 لاکھ 79 ہزار طبی کارڈز شامل ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران تصدیق شدہ کئی ڈرائیونگ لائسنسوں کی فرنٹ، بیک اور بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) و زیریں سرخ (انفراریڈ) روشنی میں لی گئی اعلیٰ کوالٹی تصاویر ملی ہیں۔ ڈیٹا پر درج وقت کے نشانات کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معلومات گاڑیوں کے کرائے کے اداروں اور لائسنس سکین کرنے والی دیگر تجارتی کمپنیوں کے سسٹمز سے لی گئی ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لائسنس کے دونوں اطراف کی کاپیوں اور سیکیورٹی خصوصیات کی چوری سے جعلی دستاویزات تیار کرنے اور مالیاتی دھوکہ دہی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایف بی آئی اور متعلقہ ادارے ڈیٹا چوری کے اس مبینہ واقعے کی باریک بینی سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل ماخذ اور پھیلاؤ کا تعین کیا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کریڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیں، اپنے اکاؤنٹس کی کڑی نگرانی کریں اور مشکوک پیغامات سے ہوشیار رہیں۔









