واشنگٹن (پاکستان نیوز)ایران کے ساتھ جاری جنگ پر 45ارب ڈالر کی خطیر لاگت آئی ہے جس کی تفصیلات پینٹاگون نے امریکی کانگریس کے سامنے پیش کر دی ہیں۔ امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے کانگریس کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک مجموعی طور پر 45 ارب ڈالر کے اخراجات آ چکے ہیں۔ معلومات کے مطابق تین ستمبر تک جنگی حکمت عملی اور نقل و حرکت پر ارب ڈالر صرف ہوئے جبکہ اضافی ایندھن کی فراہمی کے لیے مزید1.5ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی۔ تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل لاگت کا حتمی احاطہ نہیں کرتے کیونکہ اس میں متاثرہ امریکی فوجی اڈوں، عمارتوں اور تنصیبات کی مرمت کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس سے قبل امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر نے اگست کے آغاز تک اس جنگ کا تخمینہ ٨٣ ارب ڈالر لگایا تھا جس میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کا استعمال سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ بجٹ دفتر کے مطابق اگر جنگ اسی طرح جاری رہی تو امریکی خزانے کو ہر ماہ دو سے تین ارب ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات 2027کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے اندر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں جس سے عام شہریوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔










