
نیویارک (پاکستان نیوز)وسط المدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن میں دھاندلی کے شدید خدشات ظاہر کرتے ہوئے انتخابی نظام کو کرپٹ قرار دے دیا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انتخابی سروے اور تخمینے ان کی پارٹی کے لیے انتہائی تشویشناک نتائج کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ برازیل جیسے ممالک میں 125 ملین ووٹوں کے نتائج اسی دن سامنے آ جاتے ہیں، جبکہ ڈوئٹروئٹ، فلاڈیلفیا اور کیلیفورنیا جیسے امریکی شہروں اور ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے نام پر ہفتوں لگائے جاتے ہیں۔ نومبر کے 3 تاریخ کو ہونے والے ان اہم انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر فیصلہ ہوگا۔ اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے، لیکن تاز ترین جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے 87 فیصد اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے 73 فیصد امکانات ہیں۔ کوک پولیٹیکل رپورٹ اور سباٹو کرسٹل بال جیسے معتبر اداروں کے ماڈلز بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی اور ریپبلکنز کے لیے بھاری نقصان کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ متعدد ریاستوں میں قبل از وقت ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور عوام میں صدر اور ان کے ایجنڈے کے خلاف بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ معاشی صورتحال اور ملکی سمت کے حوالے سے ووٹرز کے تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات نے ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور امیدواروں کے لیے وسط المدتی معرکے میں سخت مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔









