راقم الحروف کئی مرتبہ اپنے مضامین میں ذکر کر چکا ہے۔ کہ پاکستان میں آئے دن لانگ مارچوں اور انقلابوں کا نعرہ بلند رہتاہے۔ ہر تھکا ماندہ سیاست دان لانگ مارچ اور انقلاب کی دھمکی دیتا نظر آتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ لانگ مارچ اور انقلاب کا مطلب اور مقصدموجودہ ظالم اور جابر حکمرانوں کا قلع و قمع کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح سے لانگ مارچ کے بانی چیر مین ماوزے تنگ نے چین سے ظالمانہ اور جابرانہ جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا تھا۔ جس کو ایک سال سے زیادہ عرصہ لگا تھا۔ جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ جس میں ہزاروںلوگ مختلف حالات میں مارے گئے تھے۔ اگر انقلابوں پر نظر دوڑائی جائے۔ تو انسانی زندگی کے پہلے موسوی انقلاب نے بنی اسرائیل کو فرعونوں کی غلامی سے آزادی دلوائی تھی۔ دوسرے انقلاب محمدی نے عہد جہالت کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی کہ جس میں مساوات محمدی قائم ہوا۔کہ مالک اور غلام میں کوئی فرق نہ رہا۔ سب انسان برابر ہونگے۔ انقلاب فرانس کو دیکھا جائے۔ تو آج کی جمہوریت اس انقلاب کی بدولت ملی تھی۔ جو بادشاہوںاور پادریوں کے خلاف تھا۔ جنہوں نے انسانوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ جس کے بعد انقلاب روس اور چین آیا۔ جس میں روس کی زاروں کی ظالمانہ اور جابرانہ بادشاہت خاتمے کے ساتھ اجارہ دار سرمایہ داری نظام کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح انقلاب چین میں جابر حکمرانوں کے ساتھ ساتھ جاگیری داری نظام کا خاتمہ ہوا۔ جس کی کوکھ سے پوری دنیا بھر میں انقلابات برپا ہوا۔ کہ جس کی وجہ سے مغرب میں مزدوروں۔ کسانوں اور محنت کشوں کو حقوق میسر آئے۔ تاہم پاکستان میں آئے دن انقلابوں اور لانگ مارچوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ہر مداری انقلابات اور مارچوں کا نعرہ بلند کرتا نظر آتا ہے کہ جن کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا ہے۔ جن کی لانگ مارچوں اور انقلابی تحریکوں میں چند سو یا چند ہزار لوگ نظر آتے ہیں۔ جو وقت آنے پر وقت سے پہلے ہی ختم تتر بتر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ لانگ مراچ اور انقلاب کا مطلب اور مقصد نظام کی تبدیلی اور حکمرانوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جس میں یہ انقلابی اور لانگ مارچی بری طرح ناکام ہوتے نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر مداری انقلابی حکمرانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے مجوزہ تبدیلوں کا نعرہ لگاتے ہیں۔ جو وقت آنے پر مصالحت کر لیتے ہیں۔ظاہر ہے یہ لوگ ماضی میں چین اور روس کے انقلابات کیخلاف رہے ہیں۔ جو ان انقلابوں کا نام لینے والوں کو مارتے پیٹتے تھے۔ یا پھر کافر قرار دے کر نفرت کرتے تھے۔ جو آج دائیں بازو اور مذہبی پارٹیوں کے سربراہ دن رات لانگ مارچوں اور انقلابوں کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ مزید برآں لانگ مارچ اور انقلاب کا نعرہ بلند کرکے اسی طرح مذاق اڑایا جاتا ہے۔ جس طرح ماضی میں شوشلزم کا مذاق اڑایا گیا تھا کہ پاکستان کے جاگیردار شوشلزم کا کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ جو خود بڑے بڑے جاگیردار تھے۔ جن کے کھیتوں میں ھاری اور کسان غلام بنے ہوئے تھے۔ جو ایک دکھ کی بات ہے۔ کہ آج ان متبرک تحریکوں کے ناموں کا سہارا لیا جارہا ہے جس سے انسانیت کو آزادی ملی تھی۔ بحر حال کل کے انقلاب اور لانگ مارچ کے دشمن آج ان کا نام لے کر سیاست کر رہے ہیں۔ شاید وہ وقت بھی آ جائے گا کہ کل پاکستان میں حقیقی لانگ مارچ اور انقلاب کا نعرہ بلند ہوجو ملک کے غریبوں۔ مسکینوں۔ بے سہاروں۔ بے کسوں اور بے اختیاروں کی نجات کا باعث بنے جس کو روکنے کیلئے جعلی نعروں سے کام لیا جا رہا ہے۔ تاکہ کوئی حقیقی انقلاب برپا نہ ہوجائے۔
٭٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)






