موجودہ دور میں بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی کشیدگی نے دنیا کو جس خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے وہاں ہر ذی ہوش انسان کو گہری تشویش میں مبتلا کر دینا چاہیے۔ مشرق وسطی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص ایران کے گرد منڈلاتے ہوئے جنگی بادلوں نے اب صرف سیاسی تجزیہ کاروں ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگی کو بھی براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تہران کی انتظامیہ کی طرف سے اپنے عوام کے لیے جاری کردہ ہنگامی حفاظتی ہدایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاستیں اب بدترین حالات کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ایک ایسا بھیانک تصور ہے جو نسل انسانی کی بقا کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس پس منظر میں یہ دیکھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہو جائے تو عام شہری کس طرح اپنی جان بچانے کے لیے حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔ جنگ کے یہ سائے صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، معاشرت اور انسانی اقدار پر مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں گردش کرنے والی خبریں اور مختلف ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم خطرات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ ایٹمی دھماکے کے وقت جو خوفناک مناظر سامنے آتے ہیں ان کا تصور ہی روح کو لرز دینے کے لیے کافی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر جاری کی جانے والی ان ہدایات کا مقصد لوگوں میں خوف پھیلانا نہیں بلکہ انہیں ممکنہ تباہی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار کرنا ہے۔ جب تک عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں تب تک عام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے تمام ممکنہ ذرائع سے آگاہ رہیں۔
کسی بھی جوہری دھماکے کے فوری بعد جو ابتدائی لمحات ہوتے ہیں وہ انسانی زندگی کے بقا کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ دھماکے کے وقت پیدا ہونے والی شدید روشنی کو براہ راست دیکھنے سے گریز کرنا سب سے پہلا اور اہم قدم ہے کیونکہ یہ روشنی آنکھوں اور بینائی کو ہمیشہ کے لیے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس وقت کھلی فضا میں موجود ہو تو اسے فوری طور پر کسی قریبی عمارت یا مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینی چاہیے۔ زمین پر لیٹ جانا اور اپنے سر اور چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ لینا اس زہریلے اثر سے بچنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں جو طاقتور موجیں یا جھٹکے پیدا ہوتے ہیں ان کے گزرنے کا انتظار کرنا لازم ہے۔ اس دوران محض نظارہ کرنے یا تصویریں بنانے کے شوق میں باہر کھڑے رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ گاڑیوں کے اندر پناہ لینے کی کوشش بھی سراسر حماقت ہے کیونکہ گاڑیاں اس نوعیت کے خطرات سے بچانے میں بالکل ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ دھماکے کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے کسی بھی قریبی عمارت کے تہہ خانے یا اندرونی کمروں میں چلے جانا چاہیے۔ کھڑکیوں اور بیرونی دیواروں سے جتنا ہو سکے دور رہنا چاہیے تاکہ شیشے کے ٹوٹنے سے لگنے والے زخموں سے بچا جا سکے۔ تمام کھڑکیوں اور دروازوں کو مضبوطی سے بند کر دینا چاہیے تاکہ باہر موجود آلودہ اور زہریلی ہوا اندر داخل نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ عمارت میں موجود ائر کنڈیشننگ اور ہوا کی ترسیل کے تمام نظاموں کو فوری طور پر بند کر دینا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
صرف دھماکہ ہی خطرناک نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد فضا میں پھیلنے والے تابکار ذرات بھی انسانی صحت کے لیے ایک زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی کے لباس پر یہ تابکار ذرات گرنے کا شبہ ہو تو اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے کپڑے اتار دینے چاہئیں۔ ان کپڑوں کو زور سے جھٹکنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ زہریلے ذرات ہوا میں دوبارہ شامل نہ ہوں۔ ان کپڑوں کو ایک بند پلاسٹک کے تھیلے میں محفوظ کر کے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھ دینا چاہیے۔ اس کے بعد نیم گرم پانی اور صابن کا استعمال کرتے ہوئے اچھی طرح غسل کرنا نہایت ضروری ہے۔ عام شیمپو کا استعمال کیا جا سکتاہے لیکن کنڈیشنر لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ تابکار ذرات کو جلد یا بالوں سے چپکائے رکھ سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے غسل کرنا ممکن نہ ہو تو گیلے کپڑے یا ٹشو پیپر کی مدد سے چہرہ ہاتھ اور جسم کے کھلے حصوں کو اچھی طرح صاف کر لینا چاہیے۔ اس دوران پینے کے لیے صرف بوتل کا پانی اور کھانے کے لیے بند ڈبوں میں محفوظ غذائیں ہی استعمال کی جانی چاہئیں۔ کم از کم چوبیس گھنٹے تک پناہ گاہوں کے اندر رہنے کی تیاری رکھنی چاہیے اور یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ ایک دن گزرنے کے بعد خطرہ ٹل چکا ہے۔ جب تک متعلقہ اداروں کی طرف سے باضابطہ ہدایات جاری نہ کی جائیں باہر نکلنے کی ہرگز کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر خدانخواستہ پناہ گاہ والی عمارت میں آگ لگ جائے یا اس کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے تب ہی کسی دوسری محفوظ جگہ کا رخ کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے ہنگامی حالات میں اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو پہلے سے ہی تمام باتوں سے آگاہ رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ وقت آنے پر افرا تفری اور خوف و ہراس کی فضا پیدا نہ ہو۔ امن کی یہ تگ و دو اور زندگی کی بقا کی یہ جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جسے پوری سنجیدگی اور بیداری کے ساتھ نبھانے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭







