واشنگٹن (پاکستان نیوز) ٹرمپ حکومت نے سفری پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 36ممالک کی فہرست پر سفری پابندیوں کے لیے غور شروع کر دیا ہے، روئٹرزکے مطابق مجموعی طور پر 41 ممالک کو تین الگ الگ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ افغانستان، ایران، شام، کیوبا اور شمالی کوریا سمیت 10 ممالک کے پہلے گروپ کے لیے مکمل ویزا معطلی ہوگی۔دوسرے گروپ میں پانچ ممالک کو جزوی طور پر معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں استثنیٰ کے ساتھ سیاحتی اور سٹوڈنٹ ویزوں کے ساتھ ساتھ دیگر ویزے بھی شامل ہوں گے۔ تیسرے گروپ میں مجموعی طور پر 26 ممالک پر امریکی ویزا جاری کرنے کی جزوی معطلی کے لیے غور کیا جائے گا اگر ان کی حکومتیں 60 دنوں کے اندر خامیوں کو دور کرنے کے لیے کوششیں نہیں کرتیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے بتایاہے کہ یہ ممکنہ اقدام صدر ٹرمپ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مہم کا اگلا مرحلہ ہو گا، نئی پالیسی کے تحت جن ممالک کو پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے ان میں 25 افریقی ممالک شامل ہیں، جن میں امریکا کے قریبی اتحادی مصر اور جیبوتی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کیریبین، وسطی ایشیا اور بحرالکاہل کے جزائر بھی ممکنہ طور پر متاثر ہوں گے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ متعدد ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں مقیم ہے جبکہ بعض شہریوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ امریکا مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اگر کوئی ملک تیسرے ملک کے شہریوں کو واپس قبول کرنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو امریکا اس پر عائد ویزا پابندیاں نرم کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔اس موقع پر صدر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی شہریوں کو غیر ملکی دہشت گردوں اور قومی سلامتی کے دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی مجوزہ پالیسی پر انسانی حقوق کے اداروں، تارکین وطن کے حمایتی گروہوں اور بعض عالمی حکومتوں کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان ہے۔میمو میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سفری پابندی میں 36 ممالک کو شامل کرنے کا وزن رکھتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط شدہ داخلی سفارتی کیبل میں، محکمہ خارجہ نے زیربحث ممالک کے بارے میں درجن بھر خدشات کا خاکہ پیش کیا اور اصلاحی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ غیر قانونی تارکین وطن امریکہ کی آبادی کا تین فیصد اور بیرون ملک پیدا ہونے والی آبادی کا 22 فیصد ہیں تاہم ان میں مکمل دستاویزات کے بغیر امریکہ آنے والے انڈین شہریوں کی تعداد مختلف سرویز میں مختلف آئی ہے۔پیو ریسرچ سینٹر اور سینٹر فار مائیگریشن سٹڈیز آف نیو یارک (سی ایم ایس) کا اندازہ ہے کہ 2022 تک تقریباً 700،000 افراد تھے جو میکسیکو اور ایل سلواڈور کے بعد تیسرا سب سے بڑا گروپ بناتے ہیں۔اس کے برعکس مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایم پی آئی) کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 375,000 ہے، جس سے انڈین شہری غیر قانونی طریقے سے امریکہ پہنچتے ہیں اور یہ غیر قانونی طریقے سے سفر کرنے والے مْمالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ (ڈی ایچ ایس) کے سرکاری اعداد و شمار تخمینوں میں وسیع فرق غیر دستاویزی انڈین آبادی کے حقیقی حجم کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔












