بنگالی برصغیر کی واحد قوم ہے جس نے آزادی کا علم ہمیشہ بلند رکھا ہے ہوا ہے جس نے 1757 اور1857 کی انگریزوں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں جس کی وجہ سے انگریز ہندوستان میں کمزور پڑ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ انگریز بنگالی شخص کی فوج میں بھرتی نہیں کیا کرتا تھا۔ بنگال نے بڑے بڑے لیڈر پیدا کیئے جس میں تو اب سراج الدولہ، قاضی نظر السلام، قاضی فضل الحق، روہندر ناتھ ٹیگور سبھاس چندر بوس حسین شہید وادی شیخ مجیب، مولانا عبدالصمد خان بھاشانی اور دوسرے لوگ بنگالی قوم سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے مختلف ادوار اور زمانوں میں ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں جانوں کے فطرانے دے کر بنگال سے بنگلہ دیش کا خونی سفر طے کیاہے پاکستان کے وجود سے پہلے متحدہ بنگال میں شیخ مجیب بن کر رہے گا پاکستان کا نعرہ بلند کر رہا تھا۔ مولانا بھاشانی متحدہ بنگال میں کسانوں کی تحریک چلا رہے تھے۔ حسین شہید سروردی متحدہ بنگال کے وزیراعلیٰ تھے۔ قاضی فضل الحق بنگال کے مسلم لیگ بانی تھے لہذا سب نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ قاضی فضل الحق پہلے آزاد بنگال کے وزیراعلیٰ نامزد ہوئے۔ حسین سہروردی پاکستان کے وزیر قانون اور وزیراعظم بنائے گئے جنہوں نے عوامی لیگ کی بنیاد رکھی تھی جن کو لبنان میں زہر دے کر شہید کردیاگیا جن کے پیروکار شیخ مجیب عوامی لیگ کے سربراہ بنے جن پر اگر تلہ سازش کیس بنا کر جیل میں ڈال دیا گیا جنہوں کو بعد رہا گیا تو انہوں نے 1970 کے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی تو انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لئے فوجی آپریشن جاری ہوا جس میں لاکھوں انسان مارا گیا جو پاکستان ٹوٹنے کا باعث بنا جو پاکستان کے جاگیرداروں اور جنرلوں کی سازش کا حصہ تھا کہ پاکستان دولخت کرکے بنگال کو الگ کردیا جائے جس کی قیادت شیخ مجیب اور مولانا بھاشانی پاکستان کے آمرانہ، جابرانہ جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف سرپیکار تھی۔ جس میں مولانا بھاشانی نیشنل عوامی پارٹی(بھاشانی گروپ) کے سربراہ تھے۔ جن کے بعد سایہ لاتعداد پاکستان کی ترقی پسند طلباء مزدور اور کسان تنظیمیں کام کر رہی تھیں جن کے خوف سے پاکستان کے جاگیردار، سرمایہ دار اجارہ دار گھبرا رہا تھا جو آخرکار پاکستان کو توڑنے کا سبب بنا تاکہ مغربی پاکستان کی فوجی حکومتوں اور جاگیرداری نظام کو بچایا جائے تاہم جنگ وجدل اور خون خرابے کے بعد بنگال سے بنگلہ دیش وجود میں آگیا جس میں بنگلہ دیش کے پہلے وزیراعظم شیخ مجیب بنے جن کو چند سالوں کے بعد فوجی بغاوت میں بمعہ خاندان قتل کر دیا گیا جس میں جسٹس واجد اٹلی میں رہائش کی وجہہ سے بچ گئیں جن کے بعد بنگلہ دیش کا سربراہ جنرل ضیاء الرحمان بنے جن کو بھی فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا جن کے بعد بیگم خالدہ ضیاء لیڈر بن کر سامنے آئیں چنانچہ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء دونوں بنگالی خواتین کے درمیان سیاسی جنگ جاری رہی جس میں حسینہ واجد پندرہ سال تک وزیراعظم بنی رہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں ہزاروں مخالفین کو قتل اور پھانسیوں پر چڑھایا ہے جو ان کے اقتدار کے زوال کا باعث بنا ہے کہ پچھلے سال بنگالی طلبا مزدوروں نے حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک سے بھاگنے پر مجبور کردیا جو آجکل بھارت میں پناہ گزیں ہیں جن کو بنگلہ دیش کی عدالتوں ن سزائے موت کی سزا بھی سنا رکھی ہے۔ بہرحال 13 فروری کو امسال عام انتخابات متفقہ ہوئے جس میں خالدہ ضیاء مرحومہ کی صاحبزادے طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے299 میں سے 212 نشتیں حاصل کرکے ملک کی وزارت اعظم کا عہدہ لینے کا حق دار بن چکا ہے جنہوں نے گزشتہ 55 سالہ پاکستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور عسکری تعلقات کا بائیکاٹ کو بحال کرنے کا اعادہ بھی کیا ہے جس میں بنگلہ دیش دوبارہ پاکستان کے ساتھ مل کر ایک مضبوط ریاست بنے گا۔ جس میں دونوں ملکوں کے عوام کا دوبارہ آپس کا ملاپ ہوگا جیسا یورپ کے عوام سینکڑوں سالوں کی جنگ وبدل اور کروڑوں انسانوں کے قتل کے بعد آپس میں یورپین یونین کی شکل میں مل چکے ہیں جس کے برصغیر کے عوام پر بہت بڑے اثرات اُبھر کرسامنے آئیں گے کہ شاید بھارت اپنی ہٹ دھرمیوں سے ترک کرکے دوبارہ اتحادی بن جائے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)






