پوری دنیا کی نظریں اس وقت مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں اور ہر فرد کی یہ خواہش ہے کہ یہ عمل کامیاب ہو تاکہ عالمی معیشت کا پہیہ دوبارہ رواں ہو سکے۔ اس وقت عالمی تجارتی برادری شدید مخمصے کا شکار ہے اور عوام میں یہ خوف سرایت کر چکا ہے کہ کہیں یہ کشیدگی تیسری عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ ہر آنکھ اجالے کی امید لیے اس آس میں ہے کہ کاروبارِ زندگی کی روانی پہلے جیسی ہو جائے مگر اسرائیلی لابی ان مذاکرات کو ثمر آور ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ دوسری جانب امریکہ کسی بھی قیمت پر فاتح کا تمغہ اپنے نام سجانے کا خواہش مند ہے۔ گزشتہ چوالیس سال سے ایران کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کے بیانیے سے پیچھے ہٹنا امریکہ اپنی سبکی تصور کرتا ہے اسی لیے مذاکرات کو سبوتاڑ کرنے کے لیے امریکی صدر آئے روز تلخ بیانات داغ رہے ہیں۔ امریکی رویے میں تضاد کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں تو دوسری طرف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے خلیج میں بحری بیڑے ناکہ بندی کے لیے روانہ کر دیتے ہیں۔
ان حالات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ امریکی بحریہ نے چین سے واپس آنے والے ایرانی جہاز کو روکنے کے اعلانات کیے اور تیل بردار جہاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی حالانکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضا مند ہو چکا تھا۔ اگرچہ فریقین کی جانب سے فتح کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں تاہم ایران چالیس دن تک اس جنگ میں ڈٹا رہا اور اس نے ہر محاذ پر امریکہ کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے اسے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اسرائیل میں ہونے والی تباہی نے ہی بالآخر امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا مگر اب امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو زبردستی کھلوانے کی ضد نے تلخی بڑھا دی ہے۔ ایرانی تیل بردار جہازوں کو روکنا اور ان پر قبضہ کرنا مذاکرات میں تعطل کا سبب بن رہا ہے کیونکہ کوئی بھی معاہدہ فریقین کی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں اور ایران کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔
پاکستان اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان سفارت کاری میں کامیابی سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے لیکن امریکی صدر کے غیر متوازن بیانات کی وجہ سے آبنائے ہرمز پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ امریکہ نے بحیرہ ہرمز کے گھیراؤ کی بھرپور کوشش کی جسے ایران نے کئی بار ناکام بنایا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک طرف مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ امریکی بحریہ کی بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت بھی تشویشناک ہے جو مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک ان مذاکرات میں جیرڈ کشنر اور سٹیو وینکاف جیسے افراد شامل ہیں کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ یہ شخصیات اسرائیلی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور صدر ٹرمپ ان کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر ایران نے اپنی میزائل فورس کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور ایرانی شرائط تسلیم کیے بغیر شروع نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اتفاق رائے ناممکن نظر آ رہا ہے اور جنگ کے بادل دوبارہ منڈلا رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پوری دنیا کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے جس کی وجہ سے مبصرین کو اپنے تجزیے روزانہ تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں اور دانشور اپنی رائے کے اظہار میں احتیاط برت رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مزاج پل بھر میں تبدیل ہوتا ہے جہاں ایک طرف دھمکیاں دی جاتی ہیں تو دوسری طرف مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مخالف فریق دھمکیوں اور خاتمے کی باتیں کرتا رہے تب تک امن کا قیام ناممکن رہتا ہے۔ جب تک اشتعال انگیزی کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوتا امن مذاکرات کی کامیابی ایک خواب ہی رہے گی۔
پاکستان کی جانب سے امن مشن بدستور جاری ہے جہاں جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم کی انتھک کوششیں دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا باعث بنیں۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان نے اس خطرناک بحران کو قابو کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انسانیت کی بقا کے لیے جنگ بندی ناگزیر ہے اور اگرچہ ماضی میں پاکستان کے مثبت کردار کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کا وہ حقدار تھا مگر اب تاریخ میں پہلی بار عالمی سطح پر پاکستان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی عالمی برادری سخت اضطراب میں ہے کہ آنے والے لمحات کیا رخ اختیار کریں گے۔ پاکستان نے جنگ رکوانے اور فریقین کو آمادہ کرنے میں بہترین سفارت کاری دکھائی ہے تاہم کامیابی کے امکانات اب بھی برابر ہیں۔ اگر یہ کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں تو یہ جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اب جنگ بندی میں توسیع چاہتے ہیں کیونکہ ایران نے انہیں ہر محاذ پر سخت ٹکر دی ہے۔ پاکستان نے عرب ممالک اور ایران کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کیا ہے جس سے برادر اسلامی ممالک میں جنگ رکی اور عرب دنیا کا اعتماد پاکستان پر مزید مستحکم ہوا۔ دعا ہے کہ پاکستان کو ملنے والی یہ عزت برقرار رہے اور مذاکرات کی کامیابی سے پاکستان دنیا میں ایک طاقتور ریاست بن کر ابھرے۔













