راگ، نغمہ، دھن اور آہنگ درحقیقت ایک ہی سر کے مختلف نام ہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب زندگی کی رفتار نہایت پرسکون اور متوازن تھی اور انسانی حواس و عقل گوشہ تنہائی میں موسیقی کے مدھر سنگیت سے سکون کشید کرتے تھے۔ برصغیر کی فلمی صنعت نے عوام کو تاریخ اور انسانی نفسیات کے گہرے شعور سے ہمکنار کیا اور معاشرتی تضادات کو فن کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا۔ موسیقاروں نے ایسی لافانی دھنیں ترتیب دیں جو انسانی جذبات کی ترجمان بن گئیں۔ سن 1949 میں فلم پتنگا کے ایک مشہور دوگانے نے افسردہ دلوں میں خوشیاں بکھیر دیں، جسے شمشاد بیگم اور سی رام چندر نے اپنی آوازوں سے یادگار بنا دیا۔ اس گیت کے بول” اے میرے پیا گئے رنگون وہاں سے آیا ہے ٹیلیفون ” اس دور کی ایک اہم ایجاد کی بھی نشاندہی کرتے تھے اور آج 77 سال گزرنے کے بعد بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔فلمی صنعت کو وقار بخشنے میں اے آر کاردار کا کردار نہایت اہم رہا ہے جنہیں ادب اور شاعری سے گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے سن 1946 میں ایک مشاعرے کے دوران مجروح سلطان پوری کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں نوشاد علی کے پاس لے گئے۔ اس وقت فلم شاہجہاں کی تیاری جاری تھی جس کا سکرپٹ کمال امروہوی نے تحریر کیا تھا۔ ابتدا میں مجروح سلطان پوری نے فلمی دنیا کے لیے لکھنے سے معذرت کر لی تھی تاہم اپنے استاد جگر مراد آبادی کے مشورے اور نوشاد علی کی یقین دہانی پر وہ اس جانب راغب ہوئے۔ جگر مراد آبادی نے انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی تخلیقی آزادی کے ساتھ لکھیں اور یہی تجربہ ان کی فنی زندگی میں سنگ میل ثابت ہوا۔ مجروح سلطان پوری جو بنیادی طور پر ترقی پسند ادب سے وابستہ تھے، فلمی دنیا میں بھی اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ سن 1949 میں محبوب خان کی فلم انداز کے تمام گیت نہایت مقبول ہوئے، خاص طور پر” جھوم جھوم کر ناچو ”گلی گلی گونجا۔ اس دوران سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں بلراج ساہنی کے ہمراہ دو سال قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں لیکن انہوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
سن 1954 میں گرو دت جیسے عبقری فلم ساز نے اپنی فلم آر پار کے گیت مجروح سے لکھوائے جس کا نغمہ ”کبھی آر کبھی پار ”بے حد مشہور ہوا۔ فلمی میدان کو معیاری بلندیوں تک پہنچانے میں محبوب خان، اے آر کاردار، نوشاد علی، گرو دت، شکیل بدایونی، دلیپ کمار، راج کپور، شنکر جے کشن اور روشن جیسے فنکاروں کا کلیدی ہاتھ رہا ہے۔ سن 1944 میں ریلیز ہونے والی فلم رتن نے بھی اپنی موسیقی کی بدولت تاریخ رقم کی۔ اس سنہری دور میں کلاسک فلموں کی تخلیق ہوئی اور کے آصف نے مغل اعظم جیسی شاہکار فلم بنا کر خود کو تاریخ میں امر کر دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دلیپ کمار اداکاری کے افق پر چھائے ہوئے تھے اور راج کپور نے نہ صرف بطور اداکار بلکہ ہدایت کار اور پروڈیوسر کے طور پر بھی نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروایا۔ اسی طرح موسیقی کی دنیا میں غلام حیدر وہ شخصیت تھے جنہوں نے لتا منگیشکر کی آواز کو دنیا سے روشناس کرایا۔
ماضی کا وہ پرسکون ماحول وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بے چینی اور معاشرتی گراوٹ میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ پاکستان کے ابتدائی سالوں کے بعد ہر شعبہ زندگی میں تنزلی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ سیاسی منظرنامے پر عمران خان کی آمد نے پنجاب کی روایتی سیاست اور کرپشن کے بیانیے کو عوامی سطح پر آشکار کیا۔ موجودہ دور میں سیاسی قیادت اور مریم نواز کی انتظامی پالیسیاں بحث کا مرکز ہیں جبکہ دوسری جانب شہباز شریف اور ریاستی اداروں کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ملکی سیاست میں بیرونی مداخلت اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بین الاقوامی کرداروں کے اثرات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج کا دور امن کے بجائے سیاسی بھونچال اور معاشی عدم استحکام کا شکار نظر آتا ہے، جہاں داخلی سیاست اور عالمی مفادات کے ٹکراؤ نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ملک اس بحران سے نکل پائے گا یا پھر یہ بے یقینی مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔













