میڈیا وارکی باگ ڈور اور عالمی طاقتوں کا نیا کھیل

0
4

میڈیا وارکی باگ ڈور اور عالمی طاقتوں کا نیا کھیل

موجودہ دور میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے اور خطرناک فکری انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے جہاں خبروں کی ترسیل اور معلومات کا بہاؤ محض چند طاقتور ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی عالمی بساط ہے جس کے مہرے بظاہر جدید ٹیکنالوجی اور تجارتی مفادات نظر آتے ہیں مگر ان کے پسِ پردہ ایک مخصوص نظریاتی تسلط کا خواب چھپا ہوا ہے۔ جب ہم مغربی دنیا کے بڑے نشریاتی اداروں کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اب خبر محض اطلاع نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار بن چکی ہے جسے عوام کے ذہنوں کو مسخر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پورے منظر نامے کا سب سے اہم کھلاڑی وہ خاندان ہے جس نے گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور یورپ کے بڑے میڈیا گھرانوں پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا ہے۔ لیری ایلیسن اور ان کے صاحبزادے ڈیوڈ ایلیسن کی کہانی صرف دولت کے انبار لگانے کی داستان نہیں بلکہ یہ اس طاقت کے حصول کی کوشش ہے جو دنیا کے کروڑوں انسانوں کے نظریات کو تبدیل کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ اوریکل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے بانی ہونے کے ناطے ان کا ماضی امریکی خفیہ اداروں اور حساس سرکاری ڈیٹا کی حفاظت سے جڑا رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں غیر معمولی رسائی حاصل رہی ہے۔
2025 کے آغاز کے ساتھ ہی جب عالمی سیاست میں نئی تبدیلیاں رونما ہوئیں تو اس خاندان نے نہایت خاموشی مگر تیزی کے ساتھ فلمی صنعت اور خبری اداروں کے بڑے ستونوں کو خریدنا شروع کیا۔ پیرا ماؤنٹ اور وارنر بردرز جیسے دیوہیکل اداروں کا ایک ہی چھتری تلے آ جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ان اداروں کے پاس دنیا کے وہ مشہور چینلز اور پیداواری گھرانے موجود ہیں جو دہائیوں سے عالمی بیانیہ ترتیب دیتے آئے ہیں۔ یہاں یہ سوال اٹھانا نہایت ضروری ہے کہ جب ایک ہی خاندان جس کے مفادات ایک مخصوص ریاست اور فوجی نظریے سے جڑے ہوں وہ پوری دنیا کی خبروں کا بلا شرکتِ غیرے مالک بن جائے گا تو پھر سچائی کی تلاش کہاں ممکن ہو سکے گی۔ اس قبضے کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ اب مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر کے اصولوں کو انسانی صحافیوں کی جگہ دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خبروں کی تیاری میں سے انسانی ضمیر اور اخلاقیات کے عنصر کو مکمل طور پر نکال باہر کیا جائے۔ مشین وہی کہے گی جو اسے سکھایا جائے گا اور الگورتھم صرف وہی بیانیہ عام کرے گا جو مالکان کے سیاسی اور نظریاتی مقاصد کو تقویت پہنچائے۔
اس پورے عمل میں وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں اور بعض خلیجی ممالک کے مالیاتی تعاون نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض ایک فرد کا جنون نہیں بلکہ ایک منظم عالمی گٹھ جوڑ ہے۔ جیری کارڈینال جیسے کردار جو خود کو عالمگیریت کا علمبردار کہتے ہیں دراصل دنیا بھر کی معیشت اور ذرائع ابلاغ کو ایک ہی مرکز سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صحافت کو ایک ایسی تفریح میں بدل دینا ہے جہاں صرف جرائم، جنسی ہیجان اور سطحی خبروں کو جگہ ملے تاکہ عام انسان سنجیدہ عالمی مسائل اور مظلوم اقوام پر ہونیوالے مظالم سے بے خبر رہے۔ جب خبروں کے بڑے ادارے کسی مخصوص سیاسی گروہ کے مفادات کے محافظ بن جائیں تو پھر جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ امریکہ کے بڑے نشریاتی اداروں کی فہرست اب سکڑ کر نصف رہ گئی ہے اور جو باقی بچے ہیں ان کے مالکان بھی بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے سربراہ ہیں جنہوں نے اپنے غیر ملکی نامہ نگاروں کے شعبے ختم کر کے حقائق تک رسائی کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب کسی بھی ملک میں ہونے والی فوجی کارروائی، انسانی حقوق کی پامالی یا قتلِ عام کی خبریں عوام تک اس طرح پہنچائی جائیں گی کہ ظالم کو مظلوم اور جارحیت کو دفاع بنا کر پیش کیا جائے۔ بیری ویس جیسے لوگوں کو کلیدی عہدوں پر فائز کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اب کسی بھی ایسی آواز کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو رائج شدہ بیانیے سے اختلاف کرے۔ ان لوگوں نے ماضی میں بھی آزادیِ صحافت کے نام پر صرف مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کی ہے اور اب تو ان کے پاس لامحدود وسائل اور سرکاری پشت پناہی بھی موجود ہے۔ یہ جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ یہ ہمارے گھروں میں موجود اسکرینوں اور ہمارے ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ پروپیگنڈے کے اس سیلاب میں سچ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور عوام کو ایک مصنوعی دنیا میں قید کر دیا گیا ہے جہاں وہ وہی دیکھتے اور سوچتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے۔
اگر آج ہم نے اس میڈیا وار کی گہرائی کو نہ سمجھا اور معلومات کے ذرائع پر تنقیدی نگاہ نہ ڈالی تو ہم اپنی آزادانہ سوچنے کی صلاحیت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں گے۔ یہ جدید استعمار کی ایک ایسی قسم ہے جس میں زنجیریں نظر نہیں آتیں مگر ذہن غلام بنا لیے جاتے ہیں۔ ایلیسن خاندان کی یہ میڈیا سلطنت محض ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی قلعہ ہے جس کے ذریعے وہ پوری دنیا کے شعور کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات کے حصول کے لیے صرف ان ذرائع پر انحصار نہ کرے جو کسی خاص نظریے کی ترویج کے لیے وقف ہیں۔ ہمیں سچائی کی تلاش میں خود کوشش کرنی ہوگی اور ان عالمی سازشوں کے پردے چاک کرنے ہوں گے جو انسانیت کو ایک تاریک فکری دور کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ صرف خبروں کا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں اور ان کے مستقبل کے تحفظ کا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here