بھری آنکھوں سے خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا!!!

0
9

یہ اسی (1980ء ) کی دہائی کے آخری سال کی ایک تاریک رات کا ذکر ہے جب میں اپنے پیارے ملک پاکستان سے ہزاروں میل دور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں لگاتار تین ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد شہرِ کراچی کی جانب رواں دواں تھا۔ ایک دیو ہیکل طیارے کی چھوٹی سی نشست پر سمٹ کر بیٹھے ہوئے بھی مجھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں جذبات کے وسیع اور بپھرے ہوئے سمندر کی بے رحم لہروں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے دو لخت ہو جاؤں گا۔ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی بیس سال صوبہ سندھ میں گزارے تھے جہاں کے دارالحکومت کراچی میں میرا آنا جانا کثرت سے رہتا تھا۔ میں نے تقریباً ڈیڑھ سال تک وہاں کی مشہور زمانہ این ای ڈی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کراچی کا چپہ چپہ دیکھا جو ان دنوں واقعی ایک رہنے کے قابل شہر ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں شہر کی تعلیم، صنعت، تجارت، سیاست، معیشت، ثقافت اور ٹرانسپورٹ کے معیار اگر عالمی سطح سے بلند نہیں تھے تو ان کے ہم پلہ ضرور تھے۔ شہر کا ساحل، بندرگاہ اور ہوائی اڈہ تو یقیناً مثالی حیثیت رکھتے تھے۔ میرا طیارہ جب کراچی کے قریب پہنچا تو پو پھٹ رہی تھی اور سحر کے ان خوبصورت لمحات میں جب روشنیوں کے شہر پر نظر پڑی تو فرطِ جذبات سے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے اپنا کراچی امریکہ اور یورپ کے تمام علاقوں سے زیادہ خوبصورت لگا لیکن جب میری سسکیاں ساتھ والے مسافروں کے لیے قابلِ توجہ بننے لگیں تو میں نے خود پر قابو پایا۔
لینڈنگ کے وقت فجر کی سپیدی پھیل رہی تھی مگر اس وقت بھی کراچی ہوائی اڈے پر غیر معمولی رونق تھی جہاں درجنوں پروازوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ مسافروں سمیت تمام لوگ خوش و خرم نظر آ رہے تھے اور ہر کام نہایت سلیقے سے ہو رہا تھا۔ ہم کسی بھی ذہنی دباؤ کے بغیر آرام سے اپنے میزبان بھائیوں تک جا پہنچے جہاں ٹرمینل کے باہر درجنوں افراد فٹ پاتھ پر ہی کرنسی کے تبادلے کا کام کر رہے تھے۔ وہ ڈالروں اور روپوں کی گڈیاں ہوا میں لہرا کر مسافروں کو اچھے نرخوں کی ترغیب دے رہے تھے لہٰذا میں نے بھی کچھ ڈالر تبدیل کروا لیے تاکہ اندرونِ سندھ سفر کے دوران پریشانی نہ ہو۔ میں یہ قصہ پارینہ آج اس لیے سنا رہا ہوں کہ میرے نہایت قریبی اور پیارے دوست برادر معوذ صدیقی نے پچھلے ہفتے کراچی سے واپسی پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شہر کے حالات کے حوالے سے ایک ایسی تحریر لکھی جس نے مجھے رلا دیا اور یہ مضمون لکھنے پر مجبور کر دیا۔ بقول افتخار عارف:
لہو دینے لگی ہے چشم خوں بستہ سو اس بار
بھری آنکھوں سے خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا
جب ہمارا وطن کراچی ایک ہنستا بستا اور خوشیوں کا خوبصورت جزیرہ ہوا کرتا تھا تو اس وقت دبئی محض چند درجن مچھیروں کی بستی تھی۔ کراچی ہوائی اڈے پر جہازوں کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ پارکنگ کے لیے جگہ ملنا محال ہو جاتا تھا اور بندرگاہ کی مصروفیت کا بھی یہی عالم تھا۔ نیا کراچی ہو یا پرانا، ہر سڑک اور راستہ کشادہ اور دلکش نظر آتا تھا۔ امن و امان کی صورتحال ایسی مثالی تھی کہ ہم رات بھر شہر کے ہر حصے میں بے خوف و خطر گھومتے پھرتے تھے۔ افتخار عارف نے شاید اسی کیفیت کی ترجمانی کی تھی کہ:
انہی میں جیتے انہی بستیوں میں مر رہتے
یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے
پھر نہ جانے کس کی نظرِ بد نے اس شہر کی روشنیوں اور خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ لسانی اور نسلی تعصب نے بزرگوں کی اعلیٰ سیاسی روایات کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں بدامنی کے اژدہوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی۔ جب کاروبار تباہ ہوا تو بے روزگاری نے حالات مزید ابتر کر دئیے۔ تعلیم و ثقافت کے معیار تو تعصب کی نذر ہونے ہی تھے لیکن جب شہر کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو کرپشن کا ناسور نگل گیا تو ہمارا خوبصورت شہر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ ایک مرتبہ جب میں دس بارہ سال کے وقفے کے بعد کراچی گیا تو وہاں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی ظالم دیو نے اس بستی کو پامال کر دیا ہو۔ بعض لوگ اس تباہی کا ذمہ دار بیرونی قوتوں یا عرب شیوخ کو قرار دیتے ہیں تو کہیں یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ جب پڑھے لکھے طبقے نے بیرونِ ملک ہجرت کر لی تو آبائی شہروں کا یہی حال ہونا تھا۔ ہم اکثر افتخار عارف کے اس مشہور شعر کا حوالہ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑاتے رہتے ہیں کہ:
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
معوذ صدیقی نے کراچی کی موجودہ ابتر صورتحال پر جو تصاویر اور تاثرات شیئر کیے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ اگرچہ اتنے بڑے شہر کی فلاح و بہبود کا کام صرف حکومت ہی انجام دے سکتی ہے لیکن پاکستان کے موجودہ مایوس کن سیاسی حالات کے پیشِ نظر امریکہ میں مقیم خوشحال پاکستانی الخدمت فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے ذریعے ایسے مثبت اقدامات کر سکتے ہیں جو وہاں کے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کر سکیں۔ آخر میں افتخار عارف کا یہ کلام حالات کی سنگینی کو واضح کرتا ہے:
پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے
پر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here