ڈاکٹر سارہ قریشی: پاکستانی ہیرو کی داستان!!!

0
7

پاکستان کی قابل فخر بیٹی ڈاکٹر سارہ قریشی کی داستانِ ہمت اور کامیابی ہر پاکستانی کے لیے مشعل راہ ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ 2001 میں نسٹ یونیورسٹی کی مکینیکل انجینئرنگ کی فیکلٹی میں 60 لڑکوں کے درمیان ایک اکیلی لڑکی داخل ہوئی جس کا نام سارہ قریشی تھا۔ اس وقت ماحول ایسا تھا کہ اسے طنزیہ طور پر ہوم اکنامکس کی کلاس کا راستہ دکھایا گیا مگر سارہ نے ثابت قدمی سے اپنی منزل کی جانب قدم بڑھایا۔ وہ چار سال تک لیب میں سب سے دیر تک کام کرنے والی طالبہ رہی اور جب گارڈ اسے گھر جانے کا کہتا تو وہ جہاز کا انجن بنانے کا عزم ظاہر کرتی۔ 2005 میں وہ نسٹ کی تاریخ کی پہلی خاتون مکینیکل انجینئر بن کر ابھریں۔
عملی زندگی کے آغاز میں انہوں نے ڈرونز کے لیے خودکار نظام وضع کیا جس نے ان کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کی کرین فیلڈ یونیورسٹی گئیں جہاں انہوں نے ایرو اسپیس پروپلشن میں پی ایچ ڈی مکمل کی اور غیر ملکی طلبا کو انجن سازی کی تعلیم بھی دی۔ وہاں انہوں نے ہوابازی کی صنعت کے ایک بڑے مسئلے یعنی فضا میں بننے والی سفید لکیروں پر تحقیق کی جو عالمی تپش کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ہمراہ ایک ایسا ماحول دوست انجن ڈیزائن کیا جو اخراج کو پانی میں تبدیل کر دیتا ہے جس سے نہ صرف آلودگی ختم ہوتی ہے بلکہ مصنوعی بارش بھی ممکن ہے۔
اس کامیابی کے بعد انہوں نے دو بین الاقوامی پیٹنٹ حاصل کیے اور 2018 میں پاکستان واپس آ کر اپنی کمپنی ایرو انجن کرافٹ کی بنیاد رکھی۔ ان کی قیادت میں پاکستان کمرشل جیٹ انجن بنانے کی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا چھٹا ملک بن گیا۔ ڈاکٹر سارہ نے نہ صرف انجن بنائے بلکہ پائلٹ کا لائسنس بھی حاصل کیا تاکہ وہ اپنی ایجاد کو پائلٹ کے نقطہ نظر سے بھی سمجھ سکیں۔ ان کی یہ جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی میدان خواتین کے لیے ممنوع نہیں۔ آج وہ تمغہ امتیاز اور 20 سے زائد عالمی اعزازات کے ساتھ ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ ان کی زندگی کا اصل مقصد وہ دن ہے جب پاکستانی جہازوں پر یہاں کے بنے ہوئے انجن نصب ہوں گے اور دنیا پاکستان کی تکنیکی مہارت کا اعتراف کرے گی۔ یہ کہانی ہر اس طالب علم کے لیے پیغام ہے جو نامساعد حالات کا رونا روتا ہے کہ عزم صادق ہو تو ہر رکاوٹ دور کی جا سکتی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here