پی ٹی آئی، یوم تاسیس اور سمندر پار پاکستانی!!!

0
7
کوثر جاوید
کوثر جاوید

پاکستان تحریک انصاف کے قیام کو تیس برس بیت چکے ہیں۔ عمران خان نے محض بیس برس کی عمر میں عالمی سطح پر ایک ہیرو کی حیثیت حاصل کر لی تھی اور اپنے کرکٹ کیریئر کے عروج پر پاکستان کو وہ واحد ورلڈ کپ جتوایا جو آج بھی ایک ریکارڈ ہے۔ ان کی اسی مقبولیت کی بنیاد پر کئی حکمرانوں اور جرنیلوں نے انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دی۔ ضیائ الحق نے وزارت کی پیشکش کی، مشرف نے وزیراعظم بننے کا کہا اور نواز شریف نے بھی کئی بار ساتھ مل کر کام کرنے کی ترغیب دی، لیکن انہوں نے کسی بھی کرپٹ نظام کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ جب عمران خان کی والدہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئیں تو انہیں احساس ہوا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ بدعنوانی اور بدحالی کا شکار ہے جہاں عام شہری کو علاج کی سہولیات میسر نہیں۔ اسی دکھ اور عوام کو انصاف فراہم کرنے کے جذبے کے تحت انہوں نے ایک سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ ابتدا میں ان کا مذاق اڑایا گیا لیکن ایک سچے اور ایماندار انسان کے طور پر وہ بالآخر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گئے۔
تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی والدہ کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کیا جس کا واحد مقصد دکھی انسانیت کی خدمت اور غریب طبقے کو علاج کی سہولت پہنچانا تھا۔ تعلیم کے میدان میں بھی انہوں نے نمل یونیورسٹی اور القادر یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے قائم کرکے بے مثال کارنامے انجام دیے۔ اپنی حکومت کے دوران انہوں نے ہیلتھ کارڈ، پناہ گاہیں، لنگر خانے، کسانوں کے لیے سہولیات اور قیمتوں پر کنٹرول جیسے عوامی فلاح کے منصوبے شروع کیے۔ ان کے دور میں مذہبی رواداری میں بہتری آئی، خارجہ پالیسی میں پاکستان کا وقار بلند ہوا، بے روزگاری میں کمی آئی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی یہ ترقی روایتی سیاسی اشرافیہ کو نہ بھائی اور عمران خان کی مقبولیت سے بوکھلا کر سیاسی مخالفین نے مل کر ایک منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ ملک پر وہ لوگ مسلط کر دیے گئے جن پر کرپشن کے الزامات تھے اور عمران خان کو جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر پارٹی رہنماؤں پر بھی ظلم و بربریت کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بھی دور رس اصلاحات کیں جس کی وجہ سے وہ آج بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم اس کے برعکس امریکہ میں موجود کچھ پارٹی کارکن اور رہنما جو حکومت کے وقت عہدوں کی دوڑ میں پیش پیش رہتے تھے، آج کٹھن وقت میں کہیں نظر نہیں آ رہے۔ حال ہی میں پارٹی کا یوم تاسیس گزر گیا لیکن چند مخلص لوگوں کے سوا کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ان مشکل حالات میں ڈاکٹر شہباز گل جیسے لوگ نمایاں ہیں جو ہر محاذ پر عمران خان اور تحریک انصاف کا دفاع کر رہے ہیں جس سے پارٹی کے اندرونی حلقے بھی حیران ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن اور دیگر علاقوں کے کئی رہنما اور کارکنان پارٹی کی اس مشکل صورتحال سے بے خبر نجی تقریبات اور رنگا رنگ محفلوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس حقیقت سے چشم پوشی کر رہے ہیں کہ ان کا لیڈر اور ساتھی ناحق جیلوں میں قید ہیں۔ جب تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آئے گی تو یہی لوگ دوبارہ عہدوں کے لیے سامنے آئیں گے جیسے انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہوں۔ لیکن مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اس مشکل گھڑی میں ثابت قدم رہے۔ یوم تاسیس پر نارتھ امریکہ کی قیادت کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح قائد اعظم کی جیب میں کھوٹے سکے تھے، اسی طرح عمران خان کی صفوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف اچھے وقت کے ساتھی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here