حضرت سید محمد بن سلیمان جزولی رحمہ اللہ علیہ سے منسوب یہ ایمان افروز واقعہ درود شریف کی برکات اور عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ سفر کے دوران ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں نماز کا وقت ہو چکا تھا اور وہاں ایک کنواں تو موجود تھا مگر پانی نکالنے کے لیے ڈول یا رسی میسر نہ تھی۔ آپ اس تذبذب کی کیفیت میں مبتلا تھے کہ نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے اور پانی کی گہرائی کے باعث اس تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ اسی اثنا میں وہاں ایک چھوٹی بچی آئی اور دریافت کیا کہ محترم آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ بیٹی مجھے وضو کے لیے پانی چاہیے مگر اسے نکالنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ اس بچی نے آپ کا نام پوچھا تو آپ نے اپنا تعارف محمد بن سلیمان جزولی کے طور پر کروایا۔ بچی نے حیرت سے سوال کیا کہ کیا آپ وہی شخصیت ہیں جن کی بزرگی کے چرچے ہر طرف ہیں لیکن آپ ایک کنوئیں سے پانی نکالنے پر قادر نہیں؟ اس نے آپ سے کہا کہ آپ ایک طرف ہو جائیں اور پھر اس نے کنوئیں کے پانی میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ چشم زدن میں قدرت الٰہی کا یہ کرشمہ ظاہر ہوا کہ کنوئیں کا پانی کناروں تک ابل آیا۔ آپ نے حیران ہو کر اس بچی سے پوچھا کہ آخر وہ کون سا عمل ہے جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے لعاب میں ایسی تاثیر پیدا کر دی ہے؟ اس بچی نے کمال سادگی سے جواب دیا کہ چچا میں رسول کریم ۖ پر کثرت سے درود پاک پڑھتی ہوں اور جب میں اس عمل کا وسیلہ پیش کرتی ہوں تو اللہ تعالیٰ میری تمام حاجتیں پوری فرما دیتا ہے۔
اس واقعے سے متاثر ہو کر حضرت محمد بن سلیمان جزولی نے عہد کیا کہ وہ اپنے وطن واپسی پر درود پاک کے فضائل پر ایک جامع کتاب تالیف کریں گے جس کے نتیجے میں شہرہ آفاق کتاب دلائل الخیرات منصہ شہود پر آئی۔ سعادت الدارین اور مطالعہ المسرات جیسی مستند کتب کے مطابق اس کے بعد آپ نے درود پاک کو اپنا مستقل ورد بنا لیا۔ آپ کی جلالت علمی اور روحانیت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وصال کے بعد قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو آتی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وفات کے ستتر سال بعد جب آپ کے جسد مبارک کو سوس شہر سے مراکش منتقل کیا گیا تو وہ مکمل طور پر ترو تازہ تھا اور کفن تک بوسیدہ نہیں ہوا تھا۔ مروی ہے کہ جب آزمائش کے طور پر آپ کے رخسار مبارک کو دبایا گیا تو وہ جگہ خون کی گردش کی وجہ سے پہلے سفید اور پھر سرخ ہو گئی جیسے کسی زندہ انسان کا جسم ہوتا ہے۔ یہ تمام کرامات اور فضائل صرف اور صرف کثرت درود پاک کا ثمر ہیں۔
اس واقعے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذکر الٰہی اور محبت رسول ۖ انسان کو وہ مقام عطا کر دیتے ہیں جہاں قدرت کے قوانین بھی ان کے تابع ہو جاتے ہیں۔ درود پاک کی بدولت نہ صرف دنیاوی مشکلات حل ہوتی ہیں بلکہ یہ آخرت میں شفاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ بزرگان دین کا طریقہ رہا ہے کہ وہ کٹھن حالات میں درود شریف کا سہارا لیتے تھے کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو ہر حال میں بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے۔ حضرت جزولی کی زندگی کا یہ رخ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل اور خاص طور پر درود و سلام کی کثرت ہی وہ کنجی ہے جو معرفت کے بند دروازے کھولتی ہے۔ آج بھی جو شخص خلوص دل کے ساتھ اس وظیفے کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیتا ہے وہ اللہ کی خاص رحمتوں اور انوار و تجلیات کا مرکز بن جاتا ہے۔
٭٭٭

















