واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے حساس معلومات افشا کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے بڑے میڈیا ہاؤسز اورپریس کیخلاف غیر معمولی اقدامات پر دباؤ کے بعد وزارتِ انصاف نے میڈیا پر شکنجہ سخت کر دیا ہے اور صحافیوں کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد بڑے خبر رساں اداروں کو عدالتی احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک اہم ملاقات کے دوران قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو خبروں کے تراشے تھمائے جن پر جلی حروف میں غداری کا لفظ تحریر تھا اور انہوں نے وزارتِ انصاف پر زور دیا کہ ان صحافیوں کے فون ریکارڈ اور دستاویزات حاصل کی جائیں جنہوں نے ایران تنازع پر اعلیٰ عسکری قیادت کے اختلافات اور جنگی حکمتِ عملی کی ناکامیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ امریکی تاریخ میں صحافتی برادری پر یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت تفتیش کاروں کو قومی سلامتی کے نام پر نامہ نگاروں کے راز کھنگالنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ دوسری جانب قائم مقام اٹارنی جنرل نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خفیہ معلومات کا غیر قانونی پھیلاؤ روکنے کے لیے ہر ممکن حد تک جایا جائے گا جبکہ دوسری طرف صحافتی تنظیموں اور آئینی ماہرین نے اس اقدام کو آزادیِ پریس اور آئین کی پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کے جارحانہ ہتھکنڈوں سے قومی سلامتی سے جڑے اہم ترین امور پر سچی رپورٹنگ کا گلا گھونٹ دیا جائے گا۔











