صدر ٹرمپ اپنی بیباک گفتگو کے لیے مشہور رہے ہیں لیکن جب سے وہ دوبارہ صدر بنے ہیں، ان کے بعض اقدامات اور بیانات سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے انہیں دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور فوجی طاقت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا مکمل ادراک نہیں ہے۔ وہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے مسلسل ایسی متنازع باتیں کر رہے ہیں جن کی مثال ماضی کے صدور میں نہیں ملتی۔ ایک وقت تھا جب جارج بش کے صاحبزادے کی گفتگو اور ہر طرف نئے محاذ کھولنے کی پالیسی پر تنقید کی جاتی تھی، مگر وہ بھی کم بولتے تھے اور ان کی جگہ بیشتر معاملات ڈک چینی سنبھالتے تھے۔ ان تمام سابقہ پالیسیوں نے امریکہ کو نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ آج بھی وہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔ امریکہ میں اظہارِ رائے کی آزادی مسلمہ ہے، لیکن ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت سے اخلاقی دائرے میں رہنے کی امید کی جاتی ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ موجودہ صدر قانون اور اداروں کو اپنی مرضی کے تابع سمجھ رہے ہیں۔ حال ہی میں جب وفاقی ٹیکس کے ادارے آئی آر ایس نے ان کے اور ان کی اولاد کے مبینہ غیر قانونی مالی معاملات کی تحقیقات کا دائرہ تنگ کیا، تو انہوں نے اس ادارے پر دس بلین ڈالر کا مقدمہ کر دیا۔ بعد میں جب یہ کیسز واپس لیے گئے تو صدر ٹرمپ نے ایک اور بھاری ہرجانے کی بات کی اور چھ جنوری 2020 کو کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے باغیوں اور نیم فوجی گروہوں کی مالی اعانت کے لیے ایک اعشاریہ صفر آٹھ آٹھ بلین ڈالر کے فنڈ کا دعویٰ کر دیا۔ یہ وہ رقم ہے جو دراصل امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اب یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ گرفتاریوں اور جیل کی سزائیں کاٹنے والے ان افراد کو ٹیکس دہندگان کی رقم سے ہرجانہ دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے اس سخت موقف پر دونوں سیاسی جماعتوں کے قانون دانوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ سینیٹر مچ مکونل نے اسے ایک انتہائی احمقانہ اور غیر اخلاقی عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قانون ہاتھ میں لیا اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جن کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ناانصافی کی گئی اور جنہیں جوبائیڈن کی حکومت کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس صورتحال کا موازنہ پاکستان میں عمران خان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے بھی کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ جب سے دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، وہ امریکی عوام کی فلاح کے بجائے یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کے لیے عوام نے انہیں ہرگز ووٹ نہیں دیا تھا۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ان کا رویہ تبدیل نہیں ہوا، وہ مشرقِ وسطیٰ میں غزہ، ایران اور لبنان کے معاملات ہوں یا وینزویلا کے صدر مدورو پر دباؤ ڈال کر نیویارک کی جیل تک لانے کی بات ہو، مسلسل ایسے تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں جن کا امریکی عوام نے کبھی تقاضا نہیں کیا تھا۔
صدر بننے سے پہلے ٹرمپ ایک ٹیلی ویڑن پروگرام دی اپرنٹس کی مہم چلاتے تھے جس میں وہ ملازمین کو برطرف یا بھرتی کرتے تھے اور ان کا یہ جملہ کہ آپ کو نوکری سے نکالا جاتا ہے، بہت مشہور ہوا تھا۔ اس پروگرام میں ان کی اہلیہ بھی شرکت کرتی تھیں اور تیرہ سال تک چلنے والے اس شو کے اثرات اب بھی ان کے طرزِ حکمرانی پر نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کابینہ میں وزرا کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران چار اہم خواتین عہدیداروں کو سبکدوش ہونا پڑا ہے جن میں وزیر محنت لوری شاویز، وزیر داخلہ کرسٹی نوئم، اٹارنی جنرل پام بونڈی اور قومی سراغ رساں ادارے کی سربراہ تلسی گیبارڈ شامل ہیں۔ اس کا حتمی جواب شاید خود صدر کے پاس بھی نہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ اہم فیصلے تنہا کرتے ہیں اور کسی وزیر کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔ حال ہی میں چین کے دورے پر وہ اپنے ساتھ اٹھارہ بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو لے گئے، مگر یہ دورہ امریکی عوام کے لیے کتنا فائدہ مند تھا، اس کا علم تسیلی بخش طور پر کسی کو نہیں ہے۔ اب تک کے ڈیڑھ سالہ دورِ اقتدار میں کیے گئے فیصلوں سے عام امریکی اب تک لاعلم اور فائدے سے محروم ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی حقیقی مقبولیت کا اندازہ ہو سکے گا کیونکہ فی الحال ڈیموکریٹس ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہیں۔ تاہم اس وقت دونوں بڑی جماعتیں کیپیٹل ہل کے ہنگامہ آرائیوں میں ملوث افراد کے لیے ایک اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر کی مالی امداد کے سخت خلاف ہیں اور اس معاملے پر بحث جاری ہے۔















