آج ملک دہشت گردی، بیروزگاری اور ہوشربا مہنگائی کی شدید لپیٹ میں ہے۔ حکمرانوں کی نااہلیوں اور غلط پالیسیوں کی بدولت غیر ملکی ایجنٹ پورے ملک میں متحرک ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں پورا ملک خصوصا صوبہ بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ وہاں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادتیں سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ بلوچستان میں بیرونی عناصر کی شہ پر ہونے والی اس دہشت گردی کا ذمہ دار پنجاب، سندھ یا خیبر پختونخوا میں رہنے والے محب وطن بلوچ بہن بھائیوں کو ہرگز نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی ان سے کوئی بدسلوکی روا رکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہ موجودہ سنگین صورتحال حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
جب پولیس، انتظامیہ یا سیکیورٹی اداروں میں بھرتیاں میرٹ کی بجائے مبینہ رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر کی جائیں تو اداروں کی مجموعی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے اور جب اہم مناصب پر من پسند نااہل افراد کو مسلط کیا جائے تو پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے جیسا کہ ماضی میں کراچی کی صورتحال سے واضح ہے۔ کراچی جیسے بڑے صنعتی شہر اور پورے صوبہ سندھ کو مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے نقصان پہنچایا۔ جب قومی اداروں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی جائیں تو ایسے ہی منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی تجوریاں بھرنے اور عہدوں کی بندر بانٹ میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ملکی صنعتیں اور کارخانے تیزی سے بند ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں میں اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے حالات مزید ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی روایتی حکمران برسرِاقتدار آتے ہیں تو ملکی صنعت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے، سٹریٹ کرائمز اور دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ عدم تحفظ کے اسی ماحول کی وجہ سے سینکڑوں بڑی کمپنیاں ملک چھوڑ چکی ہیں جبکہ پڑھے لکھے نوجوان، ڈاکٹرز، انجینئرز اور معلوماتتی ٹیکنالوجی کے ماہرین تیزی سے بیرون ملک ہجرت کر رہے ہیں جس سے ملک قابلِ قدر انسانی سرمائے سے محروم ہو رہا ہے۔ بھاری بلوں اور ٹیکسوں کی بھر مار سے کاروباری طبقہ شدید پریشان ہے اور ان کے لیے کاروبار چلانا نامکن ہو چکا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں صرف طاقت کے حصول کی سیاست میں مصروف ہیں، عدالتیں بعض اوقات من پسند فیصلوں کے الزامات کی زد میں ہیں اور مقتدر حلقے سیاسی جوڑ توڑ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں زراعت اور اراضی کی الاٹمنٹ کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ قومی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔
مختلف گروہوں کے ذاتی مفادات کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے اور اسی لیے ماضی کی غلطیوں کو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے حالات کو سدھارنے میں کوئی مخلصانہ پیش رفت نہیں ہوسکی اور ہر چند سال بعد وہاں تشدد کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ مقامی عوام میں احساسِ محرومی، کرپشن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے شدید مایوسی پھیل رہی ہے جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اٹھا رہے ہیں۔ اب یہ منفی سوچ نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی پروان چڑھ رہی ہے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ بلوچستان کو طاقت کے مختلف زاویوں سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بسوں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا جبکہ پولیس اسٹیشنوں اور چوکیوں پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے جن میں متعدد قیمتی جانوں کا زیاں ہوا جو کہ ایک انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے بجائے ملک میں امن و امان قائم کرے۔
موجودہ صورتحال میں عام شہری شدید پریشان ہیں کیونکہ روزمرہ کی اشیاء ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ذخیرہ اندوز، چینی مافیا اور نجی بجلی گھر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جس سے متوسط طبقہ مکمل طور پر پس کر رہ گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومتوں کی جانب سے اربوں روپے کے مہنگے طیاروں کی خریداری جیسے شاہانہ اخراجات عوامی امنگوں کی توہین ہیں جبکہ اس کے برعکس دنیا کے دیگر خطوں میں عوامی فلاح کے لیے سستی یا مفت بجلی فراہم کرنے کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔
ان دگرگوں حالات میں جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت دکھائی دیتی ہے جو قومی مسائل، عوام کی مشکلات، بجلی کے بلوں، مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے قائد حافظ نعیم الرحمن حکمران طبقے کی بدعنوانیوں اور شاہانہ اخراجات کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک و قوم کو ان روایتی سیاسی جماعتوں کے چنگل سے بچایا جائے جنہوں نے گزشتہ تیس سال سے عوام کو بیوقوف بنایا ہے۔ قوم کو چاہیے کہ وہ ان مروجہ رہنماؤں کے بجائے جماعت اسلامی جیسے متبادل کے ہاتھ مضبوط کرے تاکہ قومی مجرموں کا محاسبہ کیا جا سکے کیونکہ موجودہ تاریکی میں وہی امید کی کرن نظر آتی ہے۔ آئیے آگے بڑھیں اور ملکی بقا، بزنس کمیونٹی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ملک ہی ہماری اصل پہچان اور غیرت ہے۔
















