عیدِ قرباں ،روحانیت سے مصروفیت !!!

0
9

عیدِ قرباں ایک دینی تہوار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تجربہ بھی ہے، جس میں روحانیت کی گہرائی بھی شامل ہے اور زندگی کی مصروف حقیقت بھی۔ نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد جب باہم گلے ملنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو دل قربانی کی اصل روح سے سرشار ہو جاتا ہے۔ ایثار، شکرگزاری اور سنتِ ابراہیمی علیہ السلام کی یاد دلوں کو گرماتی ہے، مگر جونہی لوگ اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں، مصروفیت کی ایک نئی داستان شروع ہو جاتی ہے۔
گھر آتے ہی سب سے نمایاں تبدیلی حلیے میں نظر آتی ہے۔ عید کے خوبصورت اور قیمتی کپڑے احتیاط سے سمیٹ کر رکھ دئیے جاتے ہیں، جیسے انہیں آنیوالے مراحل کی آمیزش سے محفوظ رکھا جا رہا ہو، اور ان کی جگہ سادہ و آرام دہ لباس لے لیتا ہے۔ مرد حضرات بھی فوراً روایتی عید کے پہناوے سے نکل کر ایسے تیار ہو جاتے ہیں جیسے کسی اہم مہم پر روانہ ہونا ہو۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی سرکاری حکم نامے کی جگہ گھر والوں کی ہدایات اور ضرورتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ اس دوران صحن کا منظر بھی یکسر بدل جاتا ہے۔ چھریاں، بالٹیاں، ٹب اور بڑے بڑے برتن یوں سامنے آ جاتے ہیں جیسے پورا سال اسی ایک دن کے منتظر رہے ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے صحن ایک مصروف مرکز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ شدید گرمی کے باوجود پنکھوں کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے اور ہر پنکھا گویا کسی نہ کسی خاص ڈیوٹی پر مامور دکھائی دیتا ہے، جن میں سے کوئی قصائی کے لیے تو کوئی کام کرنے والے دیگر افراد کے لیے وقف ہوتا ہے۔
اس ماحول میں قصائی کی آمد کسی خاص اور وی آئی پی مہمان سے کم نہیں ہوتی، جس کے لیے چائے، شربت اور ٹھنڈے پانی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر قصائی نیا ہو تو گھر والوں کے دل میں ہلکی سی تشویش بھی جنم لیتی ہے، جو جلد ہی اس خاموش دعا میں بدل جاتی ہے کہ سارا معاملہ بخیر و عافیت گزر جائے۔ بعض اوقات قصائی کے اناڑی پن یا اندازِ گفتگو سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آج صبر کا دامن مضبوطی سے تھامنا ہوگا، مگر عید کی خوشی اور جوش ہر مشکل کو آسان بنا دیتا ہے۔
دوسری جانب گھر کی خواتین پوری تیاری کے ساتھ کچن کے محاذ پر مصروف ہوتی ہیں۔ قربانی کے فوراً بعد کلیجی پکانا ایک لازمی اور اہم مرحلہ ہوتا ہے، جس کے بعد مصالحے تیار کرنا، گوشت کی صفائی اور اسے ترتیب دینا جیسے مراحل آتے ہیں۔ کچن ایک مصروف مگر منظم یونٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں ہر کام تیزی سے مگر سلیقے کے ساتھ انجام پاتا ہے۔
گوشت کی تقسیم بھی عیدِ قرباں کی ایک باقاعدہ اور خوبصورت روایت ہے۔ رشتے داروں، ضرورت مندوں اور ہمسایوں کے لیے حصے الگ کر کے ٹرے ترتیب دئیے جاتے ہیں، جن میں خلوص اور محبت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اسی دوران خواتین کو ایک ہلکی سی فکر یہ بھی لاحق رہتی ہے کہ ان کے برتن خیریت سے واپس آئیں یا کم از کم ان کی واپسی کی کوئی امید باقی رہے۔ شام تک گوشت کی کٹائی، بنائی اور تقسیم کا یہ سلسلہ متواتر جاری رہتا ہے، اور جب آخرکار سب کچھ مکمل ہو جاتا ہے تو گھر ایک خوشگوار خاموشی میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ خاموشی دراصل دن بھر کی محنت، مسکراہٹوں اور ایک عظیم مذہبی ذمہ داری کی کامیاب تکمیل کی گواہ ہوتی ہے۔
یوں عیدِ قرباں ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل قربانی صرف ایک ظاہری رسم نہیں، بلکہ وہ باطنی جذبہ ہے جو ہمیں نعمتیں بانٹنے، رشتے نبھانے اور خلوص کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتا ہے۔
قبول ہو یہ عبادت،رہے سدا یہ سعادت
ہر ایک دل میں محبت،ہر ایک گھر میں راحت

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here