عباس ملک ایک کہنہ مشق ادیب ادبی دانشور اور کالم نگار ہیں۔ ”فرض کی قیمت” کا مسودہ موصول ہوا۔ اس کتاب کے عنوان کو پڑھ کر میں حیرت زدہ ہو گیا اور اس گہری سوچ میں پڑھ گیا کہ فرض کی تو کوئی قیمت ہو ہی نہیں سکتی تو پھر کتاب کا عنوان یہ کیوں بنا؟ وجدان نے آواز دی کہ ہاں فرض کی قیمت ” ہدیۂ جاں” ہے اور جن لوگوں نے اپنا قومی فرض نبھاتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ امر بھی ہو گئے اور ہدیہ جاں قرضِ جاں کی صورت ادا کر کے فرض کی قیمت بھی ادا کر گئے۔ بقول فیض احمد فیض!
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دْشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چْکا دیا
عباس ملک نے پولیس کے اْن شہیدوں کا ذکر کیا ہے جو دہشت گردوں، ڈاکہ زنوں، مجروں اور سماجی دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور بڑی جوانمردی سے جامِ شہادت پی کر امر ہو گئے۔ شہید کا غم ذاتی نہیں بلکہ قومی غم ہوتا ہے جس میں ہم سب شریک ہیں۔ عباس ملک نے اِن شہدوں کی داستان لکھ کر اْن خاندانوں کے زخمی دلوں پر پنبہ رکھا ہے جو اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے۔ یہ کتاب قربانیوں کی داستاں، شہیدوں کا بیاں اور نوحہ دلِ غم زدگاں ہے۔دہشت گردی ایک لعنت ہے جس کی جتنی بھی مذّمت کی جائے کم ہے۔ پاکستانی فوج اور پولیس کی قربانیاں بیمثال اور لازوال ہیں۔ انہی بہادر سپوتوں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ گْلشنِ وطنِ عزیز ثمر بار ہے اور ” بنیان المرصوص” وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جس سے حفظِ وطن تابدہ و تابدار ہے۔
وطن کو مادرِ وطن کہا جاتا ہے۔ جیسے ہر انسان کو ”حْرمتِ مادر” عزیز ہوتی ہے ویسے ہر باغیرت اور محّبِ وطن کو ” حفاظتِ مادرِ وطن” عزیز ہوتی ہے۔
پولیس کے جن شہیدوں کا ذکر عباس ملک نے اس کتاب میں کیا ہے یہ عظیم لوگ مادرِوطن کی حفاظت و حْرمت کی خاطر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عازمِ مْلکِ عدم ہوئے اور زندہ جاوید ہو گئے۔ کتاب میں ہر شہید کی موت کا تذکرہ قوم کے ہر فرد کے لیے مینارہ نْور ہے اور کوہِ عزم و عمل اور جانسپاری کا درس اور محرّک ہے۔ ایسی فکر خیز ، ولولہ انگیز اور ایمان افروز کتاب لکھنے پر میں تہہِ دل سے عباس ملک کو مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے بڑی جگر کاوی، دردمندی اور قومی حمیّت سے آنسوؤں کے چراغ بھی جلائے اور قوم کو جانثاری، وفا داری، بہادری اور قربانی کے درخشاں نجوم بھی دکھائے۔ ”فرض کی قیمت” اِن شہیدوں کا خون ہے جو لالہ وگْل کے صورت ہویدا ہے۔ بقولِ مرزا غالب!!!
سب کہاں، کْچھ لالہ و گْل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
یہ روحانی معجزہ اور دلیلِ عظمتِ شہادت ہے کہ خاکِ لحد شہیدوں کی خاک کو فنا نہیں کرتی۔ از روْئے قرآنِ مجید شہید زندہ ہوتے ہیں اور رب کی طرف سے اْنہیں رزق ملتا ہے یہ وہ رزقِ روحانیت ہے جس کا ادراک صرف اور صرف ارواحِ شہدا اور نفوسِ مقدّسہ کو ہے۔ شہادت کی تمنّا صرف صادقین ہی کرتے ہیں۔ سْورة بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے” فتمنوالموت ان کنتم صادقین” :اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔
موت کی تمنا وہی کرتا ہے جو صداقت، شہادت ، جرات، حمّیت اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو۔ بقولِ نظیری نیشا پوری
گریزد از صفِ ما ہر کہ مردِ غوغا نیست
کسے کہ کْشتہ نشد از قبیلہ ما نیست
میں شہیدوں کے خانوادوں کو بصد خلوص و احترام سلامِ عقیدت اور دلّی تعزیت پیش کرتا ہوں اوراْن کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ یہ کیا کم ہے کہ اْن کا ذاتی غم اب قومی غم ہے۔ ہر فرد کی پلکوں پر عقیدت کے چراغ فروزاں ہیں اور دل اْن کی لحد ہے۔ بقولِ شاعر
بعد از وفات برسرِ تْربت مرا مجو
در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ














