پاکستان پر پنکیوں کا راج !!!

0
10
رمضان رانا
رمضان رانا

پاکستان کی مختصر تاریخ میں تین شخصیات پنکی کے نام یا عرفیت سے قابلِ ذکر رہی ہیں جن میں سے پہلی شخصیت کو عوامی نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے جبکہ بقیہ دو خواتین منفی تناظرات میں خبروں کا حصہ بنیں۔ پہلی پنکی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو شہید تھیں جنہوں نے اپنے خاندان کی سیاسی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا۔ دوسری پنکی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زوجہ بشریٰ بی بی ہیں جن پر بدعنوانی، رشوت ستانی اور مالی خرد برد کے سنگین الزامات عائد کیے گئے اور یہ تاثر عام رہا کہ پنجاب میں ان کی مرضی کے بغیر تقرر و تبادلے ممکن نہیں تھے۔ ان پر عدت کی مدت پوری کیے بغیر نکاح کرنے کا الزام بھی لگا جس پر ملک بھر میں شدید بحث اور تنقید ہوئی اور بعد ازاں دوبارہ نکاح پڑھایا گیا۔ تیسری پنکی انمول گھڑی نامی مبینہ منشیات فروش خاتون کے روپ میں سامنے آئی ہے جو اشرافیہ کے گھروں، بنگلوں اور فارم ہاؤسز میں منشیات فراہم کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ اس تیسری پنکی کی گرفتاری کے بعد کئی بااثر افراد قانونی گرفت میں آنے کے خوف سے روپوش ہیں تاکہ ان کا نام اس غیر قانونی کاروبار کے شراکت دار یا خریدار کے طور پر سامنے نہ آ سکے۔
ان تمام کرداروں میں پہلی پنکی یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملکی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے اپنے دور کے دو آمر جرنیلوں کا دلیری سے مقابلہ کیا اور عوامی سطح پر بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ جب وہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹیں تو لاکھوں ہم وطنوں نے ان کا تاریخی استقبال کیا جس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ محترمہ نے سیاسی اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے ہمیشہ سر اٹھا کر سیاست کی۔ وہ اس قدر بہادر تھیں کہ کارساز کراچی میں ان کے قافلے پر ہونیوالے پہلے ہولناک خودکش حملے کے بعد بھی وہ خوفزدہ نہیں ہوئیں بلکہ اگلی ہی صبح ہسپتالوں اور متاثرین کے گھروں میں جا کر زخمیوں کی عیادت اور شہدا کے لواحقین سے تعزیت کرتی رہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری جیسے سیاست دان کو جنم دیا جو آج عالمی سطح پر پاکستان کے ایک بہترین ترجمان کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ اس خوبصورتی سے لڑا کہ ملک کا وقار بلند ہوا۔
دوسری جانب بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے دورِ اثر و رسوخ میں فرح گوگی جیسے کرداروں کا عروج دیکھا گیا جن پر کرپشن کے بڑے اسکینڈلز بنے۔ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ کے قیمتی سرکاری تحائف اور گھڑیاں بیرونِ ملک فروخت کرنے اور ریاستی تحائف میں خرد برد کرنے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں میں ایک طاقتور مافیا کی طرح اثر انداز رہیں جہاں ان کی منظوری کے بغیر وزرائے اعلیٰ کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے قاصر تھے۔ ان پر شرعی قوانین سے انحراف کرتے ہوئے عدت کے دوران ہی عمران خان سے شادی کرنے کا الزام ثابت ہوا جبکہ ان کے مخالفین ان پر مذہبی تعلیمات کے برعکس توہم پرستی اور جادو ٹونے کو فروغ دینے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
موجودہ دنوں میں تیسری پنکی ملکی میڈیا کی سرخیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے جو ایک منظم منشیات فروش کے طور پر جانی جاتی ہے اور اس کے گاہکوں میں معاشرے کے انتہائی بااثر افراد شامل ہیں۔ اپنی گرفتاری کے وقت اس خاتون نے انکشافات کرنے کی دھمکی دی تھی جس نے ملک کی مقتدر اشرافیہ کو پریشان کر دیا ہے۔ اب اس کی آواز کو دبانے اور کالے دھندے میں ملوث افراد کے نام چھپانے کے لیے اس کے مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہی کی جا رہی ہے تاکہ وہ میڈیا کی پہنچ سے دور رہے اور اس غلیظ کاروبار میں شامل بڑے سرکاری اہلکار، اداکار اور ذمہ دار شخصیات قانون کی گرفت سے محفوظ رہ سکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here