بین الاقوامی سیاست اور جنگی تاریخ میں ہمیشہ یہ مانا گیا ہے کہ فتح کا دارومدار صرف بمباری یا مادی تباہی پر نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے حصول پر ہوتا ہے۔ آج مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور سمندری گزرگاہوں میں ایک ایسا ہی تزویراتی منظر نامہ ابھر رہا ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں قید ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے جاری شدید فضائی مہم اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے باوجود واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادی اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ یہ معرکہ اب محض فوجی برتری کا نہیں رہا بلکہ اعصاب کی جنگ اور معاشی بقا کا کھیل بن چکا ہے جس میں تہران نے اپنی پائیدار حکمت عملی سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
جب فروری 2026 میں اس نئی جنگ کی شروعات ہوئی تو مغربی دارالحکومتوں میں یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ چند ہفتوں کی شدید بمباری تہران کے حکومتی نظام کو مفلوج کر دے گی اور وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ امریکی فضائیہ نے اپنے جدید ترین جنگی طیاروں اور بمباروں کے ذریعے ایران کے متعدد فوجی ٹھکانوں، کارخانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ فضائی برتری کے اس زعم میں کئی اہم کمانڈروں اور رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس پر واشنگٹن کی فوجی قیادت نے فتح کے شادیانے بجانے شروع کر دیے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے لیے جنگ بقا کا مسئلہ بن جائے تو وہ بیرونی نوآبادی بننے کے بجائے آخری حد تک لڑنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ایرانی قیادت نے اپنے انقلابی نظام کی بقا کی خاطر اس دباؤ کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ انتہائی مہارت سے جوابی وار کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کیا۔
اس پورے تنازع کا سب سے نازک اور فیصلہ کن پہلو معاشی محاذ ہے جہاں ایران نے دنیا کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ امریکہ نے اگرچہ ایران کی بحری ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی لیکن تہران نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ یعنی آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر لیا۔ عالمی منڈی میں بیس فیصد تیل اور گیس کی فراہمی اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی ہے اور اس اہم ترین راستے کی بندش یا وہاں پیدا ہونے والے خطرات نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سفید مکان کے حکام نے اپنے ملک کے اندر مہنگائی کو روکنے اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنے ہنگامی اور تزویراتی ذخائر سے پچاس کروڑ بیرل سے زائد تیل منڈی میں جھونکا، مگر اب یہ ہنگامی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اگر جنگ کا یہ جمود برقرار رہتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دو سو یا تین سو ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ مغربی دنیا برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
دفاعی میدان میں ایران نے دنیا کو ایک نیا سبق سکھایا ہے کہ اسپیڈ اور مادی طاقت کا مقابلہ برقیاتی جنگ اور جدید ترین تکنیک سے کیسے کیا جاتا ہے۔ تازہ ترین فوجی شواہد بتاتے ہیں کہ تہران نے برقیاتی جنگ کے ایسے نظام تیار کر لیے ہیں جو دشمن کے جدید ترین طیاروں اور ڈرونز کے مواصلاتی رابطوں کو منقطع کر کے انہیں اندھا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ کے بیالیس سے زائد فضائی اثاثے تباہ کیے جا چکے ہیں جن میں انتہائی مہنگے جاسوس طیارے اور ایندھن بھرنے والے ٹینکر بھی شامل ہیں۔ جب بھی کوئی طیارہ ایرانی حدود یا اس کے زیر اثر علاقوں کی طرف بڑھتا ہے تو اس کا اپنے مرکز سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے، جس سے اس کی تمام تر جدید ٹیکنالوجی مٹی کا ڈھیر بن جاتی ہے۔
اس تزویراتی تعطل نے امریکی صدر کو اپنے ہی ملک کے اندر شدید سیاسی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر دو سال بعد ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سر پر ہیں اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیل کی گرتی ہوئی رسد نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ صدر کی مقبولیت تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ان کے بیانات میں ہر لمحہ بدلتا تضاد ان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ اب واشنگٹن کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں؛ یا تو وہ ایران کی شرائط پر ایک کمزور سفارتی معاہدہ قبول کرے جس سے اس کی عالمی ساکھ خاک میں مل جائے گی، یا پھر وہ ایک اور بڑی اور لامتناہی جنگ کا آغاز کرے جس کا انجام کسی کو معلوم نہیں اور جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
عالمی سطح پر بھی طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ بیجنگ کے دورے کے دوران امریکی صدر کو چینی قیادت کی جانب سے پختگی اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا درس سننا پڑا، جبکہ روس اور چین کے مشترکہ اعلانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب دنیا میں جنگل کا قانون اور کسی ایک طاقت کی اجارہ داری نہیں چلے گی۔ ماضی میں ویتنام، کوریا، عراق اور افغانستان جیسی جنگوں میں امریکہ کو معاشی نقصان تو ہوا تھا لیکن وہاں دنیا کے تیل کی سپلائی داؤ پر نہیں لگی تھی۔ اس بار واشنگٹن نے ایک ایسے ملک پر ہاتھ ڈالا ہے جو عالمی معیشت کو پٹری سے اتارنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ مئی 2026 کے یہ آخری ایام تاریخ میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جہاں ایک طرف مادی طور پر کمزور لیکن پرعزم قوم کھڑی تھی اور دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی فوجی مشینری جو اپنی تمام تر طاقت کے باوجود شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بمباری کرنا کبھی بھی جنگ جیتنے کے مترادف نہیں ہوتا، اصل فتح سیاسی مقاصد کا حصول ہے اور اس محاذ پر ایران کا تزویراتی وار کامیاب رہا ہے۔
٭٭٭














