کل کے دشمن آج کے دوست !!!

0
7
رمضان رانا
رمضان رانا

گزشتہ کئی دہائیوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جنگ و جدل کے بعد لاتعداد ریاستیں کل کی دشمن اور آج کی دوست بن چکی ہیں۔ یورپین قومیں آپس میں سینکڑوں جنگوں اور کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کے بعد آج یورپین یونین کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ویتنام کل امریکہ کا دشمن تھا اور آج اس کا دوست بن چکا ہے، جبکہ ویتنام جنگ میں 2.5 ملین ویتنامی اور 70 ہزار امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ کل افغانستان روس کے خلاف پرائی جنگ لڑ چکا ہے جس میں 2 ملین افغان مارے گئے، اور آج وہی افغان حکام روس کے قریب ہو چکے ہیں۔ کل کا بنگلہ دیش جو پاکستان سے الگ ہو چکا تھا اور جس کی جنگ میں لاکھوں عوام متاثر ہوئے تھے، وہ بھی آج پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر رہا ہے۔ کل کا شام جو امریکہ مخالف چلا آرہا تھا، وہ آج امریکہ کے ساتھ روابط قائم کر چکا ہے۔ کل کے روس اور چین جو ایک دوسرے کیخلاف نظریاتی اختلاف رکھتے تھے، وہ آج ایک دوسرے کے قریب اور دوست بن چکے ہیں۔ کل کا بھارت جو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے گریزاں اور فلسطین کا حامی تھا، وہ آج اسرائیلی طاقت کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ اسی طرح اگر ترک اور عرب جو ماضی میں ایک دوسرے کے مخالف تھے، آج مکہ دفاعی معاہدے کی صورت میں قریب آرہے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، حالانکہ پہلی جنگ عظیم کے دوران خلافت عثمانیہ کے خلاف عربوں کو برطانیہ کی سازشوں اور بغاوتوں کا حصہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور خطے کے حالات بدل گئے۔ چونکہ عرب قوم اپنی بے تحاشہ دولت کی وجہ سے بعض آسائشوں کا شکار ہو چکی ہے، لہٰذا وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ ایک دن یہی معاشی طاقت اور وسائل ان کے وجود اور سلامتی کے لیے چیلنج بن جائیں گے۔
آج واضح دکھائی دے رہا ہے کہ عرب ریاستوں کی سلامتی کو مختلف سمتوں سے خطرات درپیش ہیں۔ ایک طرف اسرائیل اپنے وسعت پسندانہ عزائم اور قدیم سلطنت کے قیام کی پالیسی پر گامزن ہے جس کی زد میں متعدد عرب ممالک آسکتے ہیں، تو دوسری طرف ایران اپنی قدیم تاریخی سلطنت کے اثر و رسوخ کو بحال کرنا چاہتا ہے جس کے تحت وہ قبل از اسلام کے زیر اثر علاقوں اور ریاستوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ آج ایران اپنی پروکسی تنظیموں یعنی حوثی جنگجوؤں اور حزب اللہ کے ذریعے عرب علاقوں پر دوبارہ اثر و رسوخ قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر سعودی عرب کو ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدہ کرنا پڑا ہے تاکہ دونوں جانب کے خطرات سے مقدس مقامات کی حفاظت کی جا سکے۔ اس معاہدے کے بارے میں دنیا بھر میں طرح طرح کے تجزئیے اور قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں کہ یہ سب کیسے اور کیوں ممکن ہوا۔
اس پیش رفت کی مخالفت میں بھارت، اسرائیل، افغانستان اور دیگر مخالف عناصر پیش پیش ہیں جو عرب ریاستوں کو مختلف حربوں اور دباؤ سے متاثر کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اردگرد بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر تمام عرب ریاستیں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی خواہشمند ہیں تاکہ اپنے دشمنوں کے ممکنہ حملوں اور سازشوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ بہرحال مکہ معاہدہ ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے جو اللہ کے گھر اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کا بھی ضامن ہوگا، اور مقامات مقدسہ کی ہر مشکل وقت میں حفاظت کرنا ہر مسلمان کا دینی و اخلاقی فرض ہے۔ یہ پیش رفت بلاشبہ ان حکمرانوں اور عناصر پر ناگوار گزری ہے جو قدیم حمل آوروں کی طرح مکہ پر قبضہ یا حملے کے منصوبے بنا رہے تھے، لیکن وہ اپنے ان ناپاک عزائم میں فی الحال مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here