جماعت اسلامی کا دھرنا!!!

0
7
شبیر گُل

ظالمانہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی نے چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کے سامنے دھرنے دے دئیے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی عیاشیاں اور بے جا اخراجات ختم کرنے کو تیار نہیں، جس کا تمام تر خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیل پر عائد پیٹرولیم لیوی دراصل جگا ٹیکس کی ایک شکل ہے اور اس کا خاتمہ کرائے بغیر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ حکمرانوں کے پروٹوکول، بلٹ پروف گاڑیاں، ہیلی کاپٹر، بھاری سیکورٹی، خطیر تنخواہیں اور شاہانہ اخراجات عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے برداشت کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ہر سال آئی پی پیز یعنی نجی بجلی گھروں کو نا جائز طور پر اربوں ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی حکمت عملی پر حیرت ہوتی ہے کہ چودہ سو ارب روپے کی لاگت سے ڈیم بن سکتا تھا جو کہ نہیں بنایا گیا، مگر ہر سال پچیس سو ارب روپے ان نجی بجلی گھروں کو بغیر بجلی پیدا کیے ادا کر دیے جاتے ہیں اور یوں ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ میں بیٹھے نمائندے مراعات کے نام پر قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر پاکستان کی پارلیمنٹ کا خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ ماہانہ 3,500 ڈالر کے مساوی تنخواہ لیتا ہے، جو کہ اس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر نیپال میں رکن پارلیمنٹ کو 600 ڈالر، سری لنکا میں 1,000 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1,400 ڈالر اور بھارت میں رکن پارلیمنٹ کو 2,500 ڈالر ملتے ہیں۔ ان تنخواہوں کے علاوہ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو نیلا پاسپورٹ، روزانہ 2,000 روپے کا الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس، مفت طبی سہولیات، ہوائی جہاز کی بزنس کلاس کا ٹکٹ، بذریعہ سڑک سفر پر 25 روپے فی کلومیٹر اور 11,500 روپے کا روزانہ الائونس دیا جاتا ہے۔ ان تمام مراعات اور تنخواہوں کو ملا کر ہر رکن پارلیمنٹ کو ماہانہ کم و بیش دس لاکھ روپے کا فنڈ ملتا ہے۔
انگریزوں کے دور میں شراب اور افیون کے ٹھیکے ہوا کرتے تھے مگر اب یہ اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ ماضی میں چوری اور ڈکیتی کی سخت سزائیں تھیں، جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ بڑے عہدوں پر قابض افراد ہی کرپشن میں ملوث ہیں۔ آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی صورت میں ایک خاص طبقاتی نظام عوام کی تقدیر سے کھیل رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور ان کی مرکزی قیادت کے برعکس دیگر تمام سیاسی رہنما کروڑوں روپے کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، ان کی اربوں روپے کی جائدادیں اور غیر ملکی بینکوں میں کھاتے موجود ہیں، اور وہ درجنوں سیکورٹی گارڈز کے پروٹوکول میں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مذہبی قیادت کا بھی یہ شاہانہ انداز زندگی دیکھ لیا ہے۔ چاہے جمیعت علمائے اسلام ہو، جمیعت علمائے پاکستان، تحریک لبیک ہو یا دعوت اسلامی، بیشتر کے اعلیٰ رہنما مہنگی گاڑیوں والے گروپس بن چکے ہیں جن کا عوام کے حقیقی مسائل سے تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اس وقت ملک میں کوئی ایسا خودمختار ادارہ نظر نہیں آتا جو قومی دولت لوٹنے والوں کا بلا تفریق احتساب کر سکے۔
ہمارے ہاں عدلیہ اور دیگر اہم اداروں کے عہدیداروں کو مراعات دے کر ان کا موقف خاموش کرا دیا جاتا ہے، جبکہ کچھ طاقتور طبقات اپنے اثاثے بڑھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ جب کسی اعلیٰ عہدے سے کوئی بڑا افسر ریٹائر ہوتا ہے تو وہ کروڑوں اور اربوں روپے کا مالک بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش، بھارت، ایران اور افغانستان جیسے ممالک میں ریٹائرڈ اعلیٰ افسران اپنے پرانے اور سادہ گھروں میں زندگی گزارتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں طاقتور طبقات یورپ اور امریکہ میں رہائش گاہیں بنا لیتے ہیں۔ جو طبقات سب سے زیادہ محب وطن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، بالآخر وہی ملک چھوڑ کر باہر منتقل ہو جاتے ہیں۔
اللہ کے فضل سے اس ملک میں ہر نعمت موجود ہے اور یہ زمین قدرتی خزانے اگل رہی ہے، لیکن ان قدرتی وسائل پر عوام کا کوئی حق نہیں اور محض چند بااثر افراد ان سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ عام عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا گیا ہے۔ قائد اعظم کے اقوال اور علامہ اقبال کے اشعار سنا کر قومی جذبہ ابھارنے کا ڈرامہ کیا جاتا ہے، مگر ان حکمرانوں کے تمام تر مفادات، پیسہ اور جائدادیں ملک سے باہر ہیں۔ عوام کا شعور بظاہر ساکت ہو چکا ہے جو ان تمام صورتحال کے باوجود ان رویوں کو قبول کر رہے ہیں۔
پاکستان کی تقدیر صرف وہی لوگ بدل سکتے ہیں جو تقویٰ اور خوفِ خدا رکھتے ہوں۔ عوام کو حقیقی انصاف صرف وہی قیادت فراہم کر سکتی ہے جس کے دل میں آخرت کی جوابدہی کا احساس موجود ہو۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اپنی تقدیر کے فیصلے ان بددیانت حکمرانوں کے ہاتھ میں دینے کے بجائے ایک متبادل اور دیانت دار قیادت کا انتخاب کرے۔ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جو امانت و دیانت کے معیار پر پورا اترتی ہے اور خدمتِ خلق کے جذبے پر یقین رکھتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی کو موقع ملا تو بدعنوان عناصر کا بلا تفریق احتساب کیا جائے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو نظریاتی، محب وطن اور دیانت دار حکمران نصیب فرمائے جنہیں ان چودہ لاکھ قربانیوں کا ادراک ہو جن کے لہو سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا تھا اور جن کا خون اس مملکت کی بنیادوں میں شامل ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here