کڑوا سچ اور چیدہ چیدہ باتیں!! !

0
7
کامل احمر

ہم پاکستانی ہیں چاہے کہیں بھی رہیں۔ بالخصوص ملک سے نکل کر دوسرے ملکوں میں آرام دہ زندگی گزار کر اور وہاں کی آزاد فضا سے فائدہ اٹھا کر اور بھی پاکستانی بن جاتے ہیں۔ حسب معمول اس 14 اگست کو ہم نے دیکھا کہ جگہ جگہ یوم آزادی منایا گیا اور بروکلین، کوئنز، لونگ آئیلینڈ ہر جگہ یوم آزادی کا شور تھا۔ 79 سال کی تاریخ میں سب سے بھرپور تقاریب کچھ تنظیموں کے تحت منعقد ہوئیں جن میں تقاریر کی گئیں اور پاکستان سے آئے حکومت کے اہل کار اور سہولت کار بھی موجود تھے۔ وہ لکھی ہوئی تقاریر کرکے لوگوں کو یقین دلا رہے تھے کہ ملک آزاد ہے اور ملک میں ہر رات شب برأت ہے بالکل جیسے جوش ملیح آبادی نے اپنی کتاب میں والئی دکن کے بلانے پر جائزہ لے کر لکھا تھا جو یقیناً سچ تھا۔ لیکن یہاں پر حکومت کی نمائندگی کرنیوالے اور مراعات لینے والے کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ ہم نے کئی جگہوں کا جائزہ لیا اور لوگوں کو نعرے لگاتے دیکھا تو سوچا کہ عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان کے ساتھ نوجوان اور سچ بات لکھنے اور کہنے والے باہر کے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بہت سے جیلوں میں وقت گزار رہے ہیں، پھر یہ کون لوگ ہیں جو آزادی کے نام پر جشن منا رہے ہیں۔ کیا آزادی ایسی ہی ہوتی ہے جو ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں تھی اور آج بھی ہے۔ حبیب جالب کیا خبطی تھے جنہوں نے آمروں کی تاریخ اپنی شاعری کی زبان میں بیان کی تھی اور کیا وہ غلط تھے۔
آج جبکہ ملک پر وہ لوگ قابض ہیں جو اپنی من مانی کر رہے ہیں اور سزا یافتہ رہے ہیں، وہ عمران خان سے چن چن کر بدلہ لے رہے ہیں۔ ایک ہی وقت میں اپنے مفاد اور امریکہ کے مفاد کو دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کیسا پاکستان ہے جہاں ملک کے سب سے مشہور بین الاقوامی لیڈر کو تین سال سے قید تنہائی میں بند کر رکھا ہے۔ وہ کسی سے نہیں مل سکتے، نہ ہی اپنے بیٹوں سے اور نہ ہی اڈیالہ جیل کے باہر گرمی اور سردی میں بیٹھی بہنوں سے۔ یہ کیسا پاکستان ہے جہاں کی آمرانہ حکومت نے عوام کو خوفزدہ کر رکھا ہے اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ آزادی کی جنگ لڑیں تاکہ ان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو نہ اٹھا لیا جائے۔ 74 سالہ لیڈی ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل میں بند کر رکھا ہے اور 9 مئی 2023 کے پیدا کردہ ہنگاموں میں، جن کی کوئی غیر جانبدارانہ تحقیق نہیں ہوئی، ایک گھناؤنی سازش کے تحت کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل کو ملک کے ہیرو اور اس کے لیے قربانی دینے والے لیڈروں سے بھر دیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان کی نوجوان لیڈر ماہ رنگ بلوچ کو بھی صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے گمشدہ باپ کی مسخ شدہ لاش دیکھ کر آواز اٹھائی تھی۔ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔
اس ہفتے ایک جشن آزادی کے پروگرام میں ایک صحافی اور اس کی بیگم سے ملاقات ہوئی۔ صحافی کو جیل میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، چہرے کو مسخ کیا گیا اور وہ کسی طرح بھاگ کر امریکہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی سنائی۔ اگر ان کی بات کو جھوٹ سمجھا جائے تو باقی لوگ یہاں کیوں پناہ لیے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے چینل کھول کر عاصم منیر اور موجودہ حکومت کے کارنامے سناتے ہیں۔ یہاں جو لوگ فیس بک اور ٹک ٹاک پر پوسٹ ڈال رہے ہیں وہ بھی پڑھنے کے قابل ہیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔ عاصم منیر فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ نے اس قوم کا سرپرست اعلیٰ چنا ہے جبکہ ہمیں تو ایسی باتوں پر تعجب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان بنا کر کیسے کیسے لوگوں کو مسلط کیا ہے۔ ہمارے فیس بک دوست ارشد شیخ نے یوم آزادی پر پوسٹ ڈالی کہ پاؤں میں بیڑیاں، زبان پر تالے اور اظہار رائے پر پابندی ہے اور پھر بھی جشن آزادی مبارک ہو۔ ایک اور صاحب نے پوسٹ ڈالی کہ آپ سب کو 14 اگست مبارک لیکن جشن کس بات کا، کیا ہم آزاد ہیں اور کیا یہاں حقوق اور انصاف مل رہا ہے۔ ایسا ہی معاملہ عاصم منیر کے ماتحت محسن نقوی کا ہے جنہوں نے بلوچستان کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک SHO کی مار ہے اور تب سے اب تک وہ اسی SHO کو ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ اس دوران سینکڑوں بلوچی اور فوجی مارے جاچکے ہیں۔ کیا یہ غلط ہے اور کیا عاصم منیر خواب خرگوش میں ہیں کیونکہ آپ دنیا میں کہیں بھی انصاف نہیں پا سکتے جہاں سزا یافتہ مجرم وہاں کے قانون بنائیں اور وہی اپنے دوسرے ملزم برادری کے 355 افراد کو، جن میں محسن نقوی اور اسحاق ڈار شامل ہیں، ایوارڈ دیں گے۔ کیا حامد میر کی یہ بات غلط ہے کہ 79 ویں یوم آزادی پر ہم اتنے آزاد ہیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے غم میں سوگ کی بجائے آزادی کا جشن منا رہے ہیں تو آپ پاکستانی تو ہیں مگر انسان نہیں۔ یہاں بیٹھ کر جشن آزادی منانے والوں کو آئینہ دکھایا جائے کہ ملک میں عوام غربت، ناانصافی اور مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں اور کیا یہ ضروری نہیں کہ جھنڈے کو سرنگوں رکھیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر نیتن یاہو اور عاصم منیر میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here