امریکی عسکری ساکھ کا زوال اور تبدیل ہوتی عالمی صف بندیاں!!!

0
6

امریکی عسکری ساکھ کا زوال اور تبدیل ہوتی عالمی صف بندیاں!!!

جنگِ ایران اور اس کے اثرات محض ایک جزوی یا عارضی علاقائی تصادم کی داستان نہیں ہیں، بلکہ یہ عالمی سطح پر کسی بھی سپر پاور کی جانب سے اپنے اعتماد اور ساکھ کو تباہ کرنے کی ایک ہولناک اور بے مثال مثال بن کر ابھرے ہیں۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط وہ طویل بین الاقوامی نظام، جس کی بنیاد واشنگٹن پر غیر متزلزل اعتماد اور اس کی ضمانتوں پر رکھی گئی تھی، اب تیزی سے بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ جب دنیا کا سب سے طاقتور ملک اپنے وعدوں کو محض دکھاوے، کھیل اور دھمکیوں میں تبدیل کر دے تو اس کے اتحادی مطیع ہونے کے بجائے اپنے لیے نعم البدل راستے اور مضبوط ضمانتیں تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں عسکری شکستوں کے بغیر بھی عظیم طاقتوں کا دبدبہ اور مرکزی کردار خاموشی سے ختم ہونے لگتا ہے۔
حالیہ دنوں میں مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے رہنماؤں کی ملاقات اور باہمی دفاعی معاہدے کا انعقاد عالمی سیاست میں ایک بڑا اور غیر معمولی غیر متوقع موڑ ہے۔ ماضی قریب میں شدید سیاسی، سفارتی اور نظریاتی اختلاف کا شکار رہنے والے ان اہم ممالک کا ایک مشترکہ دفاعی چھتری تلے جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اہم کھلاڑی امریکی وڑن یا سیکورٹی پر مکمل انحصار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ دوطرفہ تنازعات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسا آزادانہ سیکورٹی ڈھانچہ قائم کر رہے ہیں جو واشنگٹن کی مرضی یا ترجیحات کا مرہونِ منت نہ ہو۔
اس حیرت انگیز تبدیلی کا بنیادی سبب امریکی قیادت کی غیر متوازن، ناپائیدار اور تذبذب سے بھرپور پالیسیاں ہیں۔ اتحادیوں کو بارہا سیکورٹی کی زبانی ضمانتیں دی گئیں، لیکن عملی میدان میں ان وعدوں کی حیثیت ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ تہران کے ساتھ کسی حتمی سمجھوتے کے درجنوں طبل بجائے گئے اور بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ معاہدہ ہاتھ کی پہنچ میں ہے، مگر حقیقت میں سفارتی میز پر صفر پیش رفت ہوئی۔ اسی طرح آبنائے ہرمز پر مکمل تصرف کے بے بنیاد دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان وسیع خلیج نے غیر ملکی دارالحکومتوں کو حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب اعلانات اور عملی افعال کا تعلق ختم ہو جائے تو دنیا ان بیانات کو سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے صرف سیاسی شوبازی یا بے بنیاد ادعاؤں پر محمول کرتی ہے۔یہی بے یقینی یورپی براعظم میں بھی امریکی حکمتِ عملی پر بری طرح اثر انداز ہوئی ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک کو ایک دن افواج کے انخلا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اگلے ہی دن نئے فوجی دستے بھیجنے کے اعلانات سامنے آتے ہیں۔ کبھی باہمی دفاعی ذمہ داریوں سے انحراف کا اشارہ دیا جاتا ہے تو کبھی خود کو ان کا سب سے بڑا ضامن ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی اچانک اور متضاد پالیسیوں کے نتیجے میں کسی بھی ملک کے لیے اپنی طویل المیعاد دفاعی یا معاشی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اتحادی اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جن معاہدوں پر آج دستخط کیے جا رہے ہیں، وہ کل صبح تک برقرار بھی رہیں گے یا نہیں۔
اس عدمِ اعتماد کا نتیجہ اب دنیا بھر میں ایک عملی اور واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب اپنے دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کے لیے امریکی انحصار سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایئر ڈیفنس سسٹمز، جدید جنگی طیاروں اور اہم مواصلاتی یا ڈیجیٹل سروسز کے لیے اب یورپی، ایشیائی اور دیگر متبادل اور مقامی نظاموں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ جب کسی واشنگٹن کی طرف سے ملنے والی رعایتوں یا دھمکیوں کا کوئی طے شدہ اصول باقی نہ رہے تو معقول ترین ردِعمل یہی ہوتا ہے کہ اپنے لیے نئی اور مضبوط خود مختار تکنیکی و عسکری متبادل بنیادیں استوار کی جائیں۔
امریکی طاقت اگرچہ اب بھی معاشی اور عسکری اعتبار سے دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے، مگر اس طاقت کو اصل اثر و رسوخ اور تسلیم شدہ حیثیت فراہم کرنے والا سب سے بڑا اثاثہ یعنی امریکی لفظ کی حرمت اور اس کا ناقابلِ تردید سچ ہونا اب شدید متاثر ہو چکا ہے۔ ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی بحرانوں کے دوران جب امریکی صدر کی جانب سے دنیا کو کوئی بات کہی جاتی تھی تو اتحادی اور مخالفین دونوں اس کی صحت اور وزن پر شک نہیں کرتے تھے۔ لیکن جب سے وائٹ ہاؤس کے بیانات، پیغامات اور دھمکیوں کو سنجیدہ پالیسی کے بجائے صرف ایک عارضی داؤ پیچ سمجھا جانے لگا ہے، عالمی برادری نے واشنگٹن کو اپنا محور ماننا چھوڑ دیا ہے۔ سپر پاورز کا زوال ہمیشہ کسی بڑے تاریخی سانحے یا میدانِ جنگ میں حتمی شکست سے ہی نہیں آتا، بلکہ یہ زوال اس وقت خاموشی سے عمل میں آتا ہے جب بقیہ دنیا اس کے گرد گھومنے کے بجائے اپنا الگ راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here