جمہوریت کی پشت پر عسکری چاقو!!!

0
6
ماجد جرال
ماجد جرال

سیاسی قیادت کو اس کی کوتاہیوں، غلط فیصلوں اور ناکامیوں کی سزا ضرور ملنی چاہیے کیونکہ وہ صرف ایک ریاست ہی نہیں بلکہ کئی کروڑ افراد کی زندگیاں سنوارنے یا بگاڑنے کی ذمہ داری سر لیتے ہیں۔ اگر کوئی سیاست دان قانون توڑتا ہے یا بدعنوانی میں ملوث ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو عوام کو انتخابات میں اسے مسترد کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہی جمہوریت کا بنیادی حسن ہے کہ اقتدار بھی عوام دیتے ہیں اور واپس لینے کا اختیار بھی عوام ہی کے پاس رہتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا پہلو بھی پاکستان کی تاریخ میں نمایاں رہا ہے، جس کی حمایت میں مفاد پرست عناصر اپنے اپنے مقصد کے لیے چہرے اور زبان بدلتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں عسکری قیادت کا سیاسی معاملات میں کردار کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، مگر اس اصول پر بلا تفریق قائم رہنے والی جماعتیں یا افراد مشکل سے ہی ملتے ہیں۔
بطور پاکستانی یہ یقین پہلے سے زیادہ پختہ ہوچکا ہے کہ پاکستان کی فوج اپنے پیشہ ورانہ امور میں دنیا کی طاقتور ترین افواج سے کم نہیں۔ بھارت کا سر جھکانے سے لے کر امریکہ اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ سفارتی و سیاسی امور میں توازن قائم کرنے تک یقیناً عسکری قیادت کا اہم کردار رہا ہے، جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
تاہم عسکری ادارے کا سیاسی امور میں دخل انداز ہونا عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاست دانوں کو سیاسی میدان میں شکست دینے کے بجائے طاقت کے مراکز نے ان کی سیاسی قسمت کے فیصلے کرنے شروع کیے، جمہوریت کمزور ہوئی، اداروں کا وقار مجروح ہوا اور نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے بار بار وہی غلط راستہ اختیار کیا گیا۔
اسی تسلسل میں آج ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ عدالت عظمیٰ نے بھی ملاقاتوں اور طبی سہولتوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت 18 اگست کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔
یہاں اصل سوال کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کا ہے۔ اگر عمران خان نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالتیں سزا دے چکی ہیں۔ اگر ان کی سیاست عوام کے لیے نقصان دہ ہے تو فیصلے کے لیے عوام موجود ہیں۔ اگر ان کی جماعت نے حکومت میں رہ کر غلطیاں کیں تو ان کا محاسبہ کرنے کے لیے انتخابات کا ذریعہ موجود ہے۔ پھر کسی بھی سیاسی رہنما کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے غیر سیاسی طاقتوں کا سہارا کیوں لیا جائے؟
مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے سے لے کر دوبارہ انہی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے تک کی تمام مثالیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بالآخر سیاسی قوتوں کو ہی ایوان اقتدار میں آنا ہوتا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملاقاتوں پر ایسی پابندیاں کیوں عائد کی جاتی ہیں؟ اگر واقعی ایسے فیصلے کسی طاقتور ادارے کی ہدایات پر ہو رہے ہیں تو اس حقیقت کو بیان کرنے پر حب الوطنی پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں؟
ملک سے محبت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی بھی طاقتور ادارے کو جواب دہی سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ حب الوطنی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ فوج سرحدوں کی حفاظت کرے، سیاست دان عوام کا فیصلہ سر تسلیم خم کریں، عدالتیں قانون کے مطابق انصاف فراہم کریں اور عوام کو اپنے نمائندے منتخب ?ا مسترد کرنے کا کامل اور آزادانہ حق حاصل ہو۔
یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ سیاست دان فرشتے نہیں ہوتے اور عمران خان بھی تنقید سے بالاتر نہیں۔ ان کی حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، ان کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی جماعت کی غلطیوں پر انہیں سیاسی طور پر جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ لیکن کسی بھی سیاسی رہنما کو شکست دینے کا سب سے باوقار اور آئینی راستہ عوام کا ووٹ ہے، بند کمروں کے فیصلے نہیں۔
اسی طرح مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی یا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کو عسکری پشت پناہی کے ذریعے اقتدار میں لانا یا اقتدار سے باہر کرنا جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔ آج اگر کسی ایک جماعت کے خلاف طاقت استعمال کی جا رہی ہے تو کل یہی طریقہ کار کسی دوسری جماعت کے خلاف بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
اس پورے المیے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خود سیاست دان بھی اکثر اقتدار یا سیاسی فائدے کی خاطر طاقتور اداروں کی پشت پناہی حاصل کرنے کے لیے جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ کرتے رہے ہیں۔ اس سے سیاست دانوں کو عارضی فائدے تو حاصل ہو جاتے ہیں مگر مجموعی طور پر جمہوری نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کب تک عسکری پشت پناہی کے نام پر جمہوریت کو نقصان پہنچایا جاتا رہے گا؟ اب اس بات کا حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں سیاست اور اقتدار کا آخری منصف کون ہے، عوام یا طاقت کے مراکز؟
اگر اس کا جواب عوام ہیں تو پھر عمران خان ہوں یا کوئی اور سیاسی رہنما، انہیں سیاسی میدان میں شکست دینے کا اختیار صرف اور صرف عوام کو ہی ملنا چاہیے۔ جمہوریت کا مقصد کسی پسندیدہ سیاست دان کو بچانا نہیں بلکہ ناپسندیدہ سیاست دان کو بھی آئینی و سیاسی راستے سے مسترد کرنے کا حق عوام کے پاس محفوظ رکھنا ہے۔ اور یہ تبدیلی صرف اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی عمل سے عسکری مداخلیت کا خاتمہ ہوگا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here