نیویارک (پاکستان نیوز)نائن 11 کے المناک واقعات کی 25 ویں برسی سے کچھ روز قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں ذاتی طور پر حصہ لینے اور اپنے تعمیری مزدور موقع پر بھیجنے کے پرانے دعوے کا دوبارہ اعادہ کیا گیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ نائن 11 کے اگلے ہی روز وہ گراؤنڈ زیرو پہنچے تھے اور ان کی ٹیموں نے وہاں طویل اور سخت محنت کی تھی۔ تاہم نامور سیاسی مبصر ڈیوڈ پیکمین نے اس بیانیے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ پیکمین کے مطابق اس بات کا کوئی تاریخی ریکارڈ یا ثبوت موجود نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امدادی کاموں کے لیے کوئی مزدور بھیجے تھے۔ نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیدار رچرڈ ایلس نے بھی سابق صدر کے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر ایسا کوئی عمل ہوتا تو محکمہ پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس اس کی باقاعدہ دستاویزی معلومات موجود ہوتیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تاریخی واقعے کو بدلنے کی بنیادی وجہ ان کی اپنی انا کو تسکین پہنچانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نائن 11 کے واقعے کے فوری بعد دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے امدادی کاموں کے بجائے اپنی عمارت 40 وال اسٹریٹ کے اب سب سے اونچی عمارت بن جانے کا ذکر کیا تھا، جس سے ان کے اس حالیہ دعوے کی حقیقت اور اصلیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔











