شرم الشیخ کا تفریحی مقام، مصر کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، اردن اور فلسطین سے بھی زیادہ دور نہیں۔ بس اگر بہت دور ہے تو شرم و حیا کی ان اعلی صفات سے، جو انسانیت کیلئے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی مقام ہے جہاں کئی سال پہلے ایک معاہدے کے ذریعے غزہ کو نام نہاد حق خود ارادی ملی تھی لیکن جب وہاں کے باشندوں نے اپنی مرضی کی حکومت منتخب کی تو اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ سپر پاور کیلئے اپنے صیہونی پراجیکٹ کو بچانے کیلئے یہ محاصرہ اور قتلِ عام شاید آخری موقع تھا، اسی لئے انسانیت کے سارے لبادے اتار پھینکے گئے۔ تمام بین الاقوامی قوانین توڑ کر انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ بہت سے ظلم کے باوجود بالآخر نام نہاد سپر پاور کو، دنیا بھر کے منافق اور بے شرم حکمرانوں کو ایک مرتبہ پھر اسی شرم الشیخ میں جمع کر کے وہ بوجھ اتارنا پڑگیا، جسے اس کی آئندہ نسلیں اب اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ استاد قمر جلالوی کے بقول!
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
شرم الشیخ کے اس عالمی اسٹیج پر سپر پاور کے سپر مین کے حضور ویسے تو تقریبا سارے ہی وہ بے شرم حکمران سجدہ ریز تھے جو اپنے فلسطینی بھائیوں کا قتلِ عام کئی دہائیوں سے نظر انداز کرتے رہے لیکن عالمی اسٹیج پر وقوع پذیر ہونے والی اس انتہائی بے شرمی کی قیادت کا شرف امتِ مسلمہ کی واحد جوہری طاقت کے نام نہاد سربراہ کے حصے میں آیا۔ اس سانحے پر مشتمل ویڈیو کلپ دیکھ کر نظریں شرم سے جھک گئیں اور علامہ اقبال یاد آئے کہ!
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
اقبال نے یہاں یقینا ضعیفی کو بڑھاپا نہیں کہا تھا۔ بوڑھا ہونا تو کوئی جرم ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ ضعیفی تو وہ جرم ہے جس کا ارتکاب قومیں اپنی مسلسل غلطیوں اور ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کرتی ہیں۔ جب ملک کے بظاہر صاحبِ اقتدار و با اختیار لوگ، یہ کہنا شروع کردیں کہ وہ تو میں پوچھ کر بتاں گا تو سمجھ لیں کہ اب اس قوم کو جرمِ ضعیفی کی سزا یعنی مرگِ مفاجات مل چکی ہے۔ کچھ لوگ اب اسے بوٹ پالش کا نام دے رہے ہیں اور کچھ اسے اردلی پن کہہ رہے ہیں لیکن بقولِ شاعر، حقیقت یہی ہے کہ!
جن کی گھٹی ہی میں ہو بے شرمی
وہ کہیں شرمسار ہوتے ہیں
سپر پاور کے سپرمین کا تجویز کردہ ابراہیمی معاہدہ در حقیقت صیہونی ریاست کی حفاظت کا بوجھ امتِ مسلمہ پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہمارے بے شرم حکمران، مسلمانوں کا جان و مال لگانے کا سودا بہت پہلے ہی کر چکے ہیں تاکہ ان کی اپنی بادشاہتیں اور ڈکٹیٹرشپس برقرار رہ سکیں۔ خطرہ یہ ہے کہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کو اپنی آزادی کی جنگ اب اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف نہ لڑنی پڑجائے۔ دعا یہ ہے کہ اس غاصب فوج میں پاکستان کے فوجی شامل نہ ہوں۔ مجھے اپنے سفرِ اردن کے دوران، میزبانوں نے وہ علاقے دکھائے تھے جہاں جنرل ضیاالحق کی کمانڈ میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہزاروں فلسطینیوں کا قتلِ عام ہوا تھا۔ مقامی دوست اس سانحے کا ذکر میرے ساتھ ایک خاص احتیاط سے کرتے رہتے تھے لیکن میری آنکھیں پھر بھی شرم سے جھک جایا کرتی تھیں۔ پتہ نہیں ہمارے حکمرانوں کی بے شرمی کب ختم ہوگی؟ شرم الشیخ کا حالیہ واقعہ دیکھ کر تو لگتا ہے کہ کافی مدت لگے گی جالب تو بہرحال کافی پراُمید تھے۔
یزید سے ہیں نبرد آزما فلسطینی
اٹھائے ہاتھوں میں اپنے حسینیت کا علم
شکست جہل کو ہو گی شعور جیتے گا
کرے گا جہل کہاں تک سرِ شعور قلم
٭٭٭













