کھوکھلی خوشحالی اور بیمار معاشرہ !!!

0
131

آج کا انسان ایک عجیب وغریب دوڑ میں مصروف ہے۔ زبان پر ہر وقت ”مہنگائی” کا شکوہ ہے، لیکن قدم بازاروں اور ریسٹورینٹس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر مہنگائی کا شورو غوغا، مگر عملی زندگی میں بازاروں کا ہجوم، شاپنگ مالز کی چمک دمک، اور فاسٹ فوڈ سینٹرز پر لگی ہوئی طویل قطاریں ایک اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔ شام ڈھلے سے رات گئے تک شہر کی گلیاں اور بازاریوں جگمگاتے ہیں گویا کوئی میلہ لگا ہو۔ ہر سڑک پر کھانے پینے کی دکانیں، ہر نکڑ پر بیٹھکیں، کوئی چائے کی چسکیاں لے رہا ہے، کوئی برگریا پیزا کھا رہا ہے، اور کوئی آئس کریم کے مزے لے رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر سوال اٹھتا ہے: اگر مہنگائی اتنی شدید ہے تو پھر یہ مصنوعی خوشحالی کہا سے اُمڈ رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب چمک دمک محض دکھاوا ہے۔ اندر سے ہم ایک بیمار معاشرہ بنتے جارہے ہیں، جہاں جسم بھی ناتواں ہے اور روح بھی زخمی ہے۔
فاسٹ فوڈ اور صحت کا زوال
گھر کے صاف ستھرے اور سادہ کھانے رفتہ رفتہ قصہ ماضی بنتے جارہے ہیں۔ ان کی جگہ باہر کے چٹپٹے، مصالحے دار اور غیر صحت بخش کھانوں نے لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نسل معدے(ایچ پائلوری) اور جگر(فیٹی لیور) کے امراض میں جکڑتی جارہی ہے۔ آج ہر دوسرا شخص، گیس، قبض، بدہضمی، السریا موٹاپے کا شکار ہے۔ نوجوان رات گئے تک جاگ کر پیزا اور برگر کھاتے ہیں اور صبح کمزوری اور تھکن کے ساتھ اُٹھتے ہیں۔ یہ صرف کھانے کا نہیں، بلکہ طرز زندگی کا بحران ہے۔ اسکرین ٹائم اور معصوم آنکھوں کا اندھیرا !
والدین کی سہولت نے بچوں کی معصومیت چھین لی ہے۔ چند لمحوں کے سکون کے لیے والدین بچے کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے ہیں، اور یوں وہ ننھی جان اسکرین کی دنیا میں گم ہوجاتی ہے۔ آج دو تین سال کے بچے موبائل اور ٹیبلٹ کے عادی ہوچکے ہیں۔ کیا افسوس کی بات نہیں کہ جو چشمے کبھی بڑھاپے کی علامت سمجھتے جاتے تھے، وہ اب چھ سال کے بچے کی آنکھوں پر لگ رہے ہیں؟ دماغی دبائو اور مصنوعی زندگی ۔ یہ دور جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی بیماریوں کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں دکھاوے اور موازنوں میں الجھا دیا ہے۔ ہم دوسروں کی تصویروں اور کہانیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ قناعت اور شکر کے بجائے حسد اور بے چینی دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے پاس کافی کا کپ ہے، سیلفی ہے، اور سوشل میڈیا کی اسٹوری ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اندر سے کھوکھلے ہوتے جارہے ہیں۔ سکون جو کبھی سادگی میں ملتا تھا، آج ہزاروں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی میسر نہیں۔ اصلاح کی راہ ! اپنی خوراک کو سادہ اور صحت بخش بنائیں، گھر کا صاف ستھرا کھانا ہی اصل نعمت ہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کریں، تاکہ آنکھیں، دماغ اور رویے محفوظ رہیں۔ روزانہ تھوڑا سا وقت چلنے، ورزش اور تلاوت قرآن کے لیے نکالیں، کیونکہ سکون اور صحت دونوں اسی میں ہیں۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا سے کبھی کبھی کنارہ کش ہوجائیں، تاکہ دل کو اصل سکون نصیب ہو۔ اپنی زندگی کو فضول خرچی، دکھاوے اور بے جا مقابلے سے پاک کریں۔ ہم اس درواہے پر کھڑے ہیں جہاں سب کچھ میسر ہے مگر سکون قلب غائب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سادگی، قناعت اور شکر گزاری کی طرف پلٹیں۔ ورنہ یہ مصنوعی خوشحالی ایک دن ہمیں اندھیروں کے ایسے غار میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی مشکل ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here