نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی اعلان کردہ کابینہ میں چیف آف سٹاف ایلے بسگارڈ چرچ اور فرسٹ ڈپٹی میئر ڈین فولیہان سرفہرست ہیں، جیسے ہی نیو یارک سٹی کے میئر کا امیدوار الیکشن جیتتا ہے اور زیادہ ترمعاملات میں کئی مہینوں سے پہلے تک شہر کی سیاسی جماعت اور میڈیا کو اس خبر کا بے تابی سے انتظار تھا کہ وہ اپنے وژن کو حقیقت میں پورا کرنے کیلئے کس کی خدمات حاصل کرے گا۔ نیویارک کے معروف پاکستانی نژاد وکیل علی نجمی میئر ظہران ممدانی کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔میئر نیویارک نے علی نجمی کو عدالتی مشاورتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔ تقرری ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کی گئی، میئر ظہران ممدانی نے کہا عدالتی امور میں شفافیت کیلئے علی نجمی کا انتخاب کیا، اس کام کیلئے علی نجمی سے بہتر کوئی نہیں۔علی نجمی نے عدالتی کمیٹی کی سربراہی کو اپنے لئے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا عدالتی امور میں شفافیت کے فروغ کیلئے کوشاں رہوں گا۔ ممدانی نے پہلے ہی روز سابق میئر ایرک ایڈمز کے وہ تمام فیصلے جو انہوں نے 26ستمبر 2024ء کے بعد کیے تھے منسوخ کیے تو اسرائیل میں ہلچل مچ گئی کیونکہ ممدانی کے اس آرڈر سے نیویارک شہر کیلیے یہود دشمنی کی وہ وضاحت بھی منسوخ کر دی گئی جو ہولوکاسٹ یادگار اتحاد نے منظور کی تھی۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ممدانی کی جانب سے اسرائیل سے متعلق سابقہ انتظامی احکامات منسوخ کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔ صہیونی وزارت خارجہ نے ایکس پر کہا کہ میئر بننے کے پہلے ہی دن ممدانی نے اپنی اصل سوچ ظاہر کردی۔ سام دشمنی کی تعریف ختم کردی اور اسرائیل کے بائیکاٹ پر عائد پابندیاں بھی اٹھا لیں۔ ظہران ممدانی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈھائی مدت کے رکن اسمبلی سے میئر کا عہدہ سنبھالا لیکن اس کی جوانی (34 سال کی عمر میں ایک نوجوان ہزار سالہ) اور انتظام کے بہت کم تجربے نے پرانے ہاتھوں اور نئے آنے والوں کے توازن کی طرف خاص توجہ مبذول کرائی ہے جو اس کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نظریاتی میدان میں ان کے تنوع کو بھر دے گی۔











