عمران خان کی آنکھ میں خون کی نالی میں رکاٹ کے باعث پمز ہسپتال میں علاج بارے خبریں اس وقت میڈیا و سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں جس کے باعث اکثریت تشویش میں مبتلاہے ،کے پی کے اسمبلی میں امن جرگہ پھر سہیل آفریدی کی سٹریٹ مومنٹ اڈیالہ جیل اور سپریم کورٹ کے باہر دھرنہ یہ سب عوامل مقتدرہ کو کچھ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں، راقم کی سوچ کے مطابق بلوچستان یا پھر کے پی کے میں کچھ دہشت گردی کی کاروائی ہو سکتی ہے کیونکہ ان حالات میں بنتا یہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی بیماری سے مکمل توجہ ہٹا دی جائے دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مقتدرہ جانتی ہے کہ اس سے کیسے نمٹنا ہے اور وہ کرے گی بھی لیکن پاکستان کی سیاست اس وقت ایک بار پھر ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہی ہے کیا عمران خان جیل سے رہا ہو سکتے ہیں، اور اگر ہاں تو کن عوامل کے تحت؟ یہ سوال محض قانونی نہیں بلکہ گہرے سیاسی، ادارہ جاتی اور عوامی پہلوں کا مجموعہ ہے سب سے پہلا اور بنیادی راستہ عدالتی عمل ہے۔ عمران خان کے خلاف قائم جھوٹے یا سچے مقدمات اگر اعلی عدالتوں میں کمزور ثابت ہو جاتے ہیں، شواہد ناکافی قرار پاتے ہیں، یا ٹرائل میں قانونی نقائص سامنے آتے ہیں تو ضمانت یا بریت کی صورت میں رہائی ممکن ہو سکتی ہے پر یہاں تو اعلی عدالتوں میں اپیل کی شنوائی ہی نہیں ہو پا رہی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے اعلی فورمز پر تبدیل ہو جائیں دوسرا اہم عنصر سیاسی ماحول میں تبدیلی ہے۔ اگر ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور مفاہمتی فضا بنتی ہے، یا طاقت کے مراکز کسی تصادم کے بجائے استحکام کو ترجیح دینے لگتے ہیں تو عمران خان کی رہائی ایک سیاسی فیصلہ بھی بن سکتی ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اکثر سیاسی سیاق و سباق سے جڑی رہی ہے۔ تیسرا عامل عوامی دبا ہے۔ اگر عمران خان کی مقبولیت برقرار رہتی ہے، احتجاجی تحریکیں زور پکڑتی ہیں، جیسا کہ سٹریٹ موومنٹ کو دیکھا جا رہا ہے یا انتخابی سیاست میں ان کی غیر موجودگی نظام کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے تو ریاستی ادارے ایک درمیانی راستہ نکالنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ عوامی تاثر، خاص طور پر شہری طبقات اور سوشل میڈیا پر، اب ایک سنجیدہ سیاسی قوت بن چکا ہے۔ چوتھا پہلو بین الاقوامی ردِعمل ہے۔ اگر انسانی حقوق، جمہوری اقدار یا سیاسی آزادیوں کے حوالے سے عالمی دبا بڑھتا ہے یا بیرونی شراکت دار پاکستان میں سیاسی استحکام کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو اس کا اثر اندرونی فیصلوں پر پڑ سکتا ہے جیسا کہ یورپین یونین والے سوچ رہے ہیںاگرچہ یہ اثر بالواسطہ ہوتا ہے۔ پانچواں امکان سیاسی ڈیل یا بیک چینل مذاکرات کا ہے۔ پاکستانی سیاست میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بڑے بحران اکثر پسِ پردہ بات چیت سے حل کیے جاتے ہیں۔ اگر فریقین کسی حد تک لچک دکھائیں، تو رہائی کسی وسیع تر سمجھوتے کا حصہ بن سکتی ہے خواہ وہ وقتی ہو یا مشروط ، جس کے بارے سنا ہے کہ اچکزئی محرک ہیں اور وہ کوئی جوڑ توڑ کر رہے ہیں نواب زادہ نصراللہ اگر زندہ ہوتے تو وہ سرخیل ہوتے۔ چھٹا عامل صحت یا انسانی بنیادیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر طبی رپورٹس سنگین نوعیت کی ہوں تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت یا سزا میں نرمی کا راستہ نکل سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں دیگر سیاسی رہنماں کے ساتھ ہوا آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عمران خان کی رہائی کسی ایک فیصلے یا ایک ادارے کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی عمل ہے جس میں عدالت، سیاست، ریاستی مفادات اور عوامی دبا سب شامل ہیں حالانکہ عمومی تاثر اس کے برعکس ہے جو کہ فرد واحد کا فرمان ہو سکتا ہے سوال یہ نہیں کہ رہائی ممکن ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر، کس وقت، اور کس سیاسی سمجھوتے کے تحت پاکستانی سیاست میں ناممکن اکثر صرف تاخیر کا دوسرا نام ثابت ہوا ہے۔ پر سب سے ضروری یہ بھی دیکھنا ہے کہ عمران خان کسی سمجھوتے کے باعث رہا ہونا بھی چاہتے ہیں یا نہیں اور مقتدرہ بیرونی دبا کے تحت اسے رہا کرنا چاہتی بھی ہے یا نہیں تو کیا ان کے ٹارگٹ پورے ہو چکے۔ ٹارگٹس بارے مزید بحث کسی اگلے کالم میں انشااللہ۔
٭٭٭












