فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! اللہ تعالیٰ کی عبادت میں انسان کا عروج اور بلندی ہے۔ اس لئے ہر وقت اور ہر گھڑی اس کی عبادت میں ہی رہنا چاہئے۔ عبادت میں عاجزی ہے جو شخص عاجزی وانکساری اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے رفعت اور شوکت عطا کرتا ہے جن لوگوں نے عروج پایا عبادت وریاضت کے بل بوتے پر پایا۔ عبادت وریاضت کے طریقے اور عبادت کرنے والے چند لوگوں کا تذکرہ برکت اور رغبت کے لئے پیش خدمت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک شخص سے زمین خریدی تو اس زمین میں سے ایک گھڑا نکلا جو سونے سے بھرا ہوا تھا تو خریدار نے زمین بیچنے والے سے کہا کہ تم یہ سونے سے بھرا گھڑا لے لو۔ کیونکہ میں نے تم سے صرف زمین خریدی ہے۔ یہ سونے سے بھرا گھڑا نہیں خریدا ہے۔ زمین بیچنے والے نے کہا میں نے زمین اور اس میں جو کچھ ہے سب تمہارے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ لہذا یہ گھڑا بھی تم ہی رکھو جب دونوں میں سے کوئی سونے کا گھڑا لینے کے لئے تیار نہ ہوا تو یہ دونوں اس کا فیصلہ کروانے کے لئے تیسرے آدمی کے پاس گئے تو اس نے پوچھا کہ کیا تم دونوں کے اولاد ہے۔ تو ایک نے کہا ہاں میرے ہاں ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میرے ہاں ایک لڑکی ہے تو فیصلہ کرنے والے نے یہ فیصلہ کیا کہ تم لڑکا اور لڑکی کی آپس میں شادی کر دو اور یہ سونا بخوشی لڑکے اور لڑکی کی شادی میں خرچ کر ڈالو۔ تو تم دونوں کو صدقہ کرنے کا ثواب مل جائے گا( بخاری شریف) ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا اللہ اور اس کے رسول علیہ الصّلواة و السّلام کی رضا کیلئے اور خوف خدا کی وجہ سے تو یہ بہت بڑی عبادت وبندگی اور عاجزی وانکساری ہے اس وجہ سے بلندیاں اور عروج ہی انسان کا مقدر ہوتے ہیں۔ حضرت انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے سے یقیناً خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھائے تو اس کی حمد کرے یا ایک گھونٹ پئے تو اس کی حمد کرے۔(مشکوٰة شریف) کھائے وقت ہر لقمہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور پینے کے وقت الحمد اللہ کہہ کر خدا کا شکر ادا کرنا اتنی بڑی اور بہترین عبادت ہے کہ خداوند کریم اس بندے سے خوش ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ہر عبادت کا مقصد اعلیٰ خداوند قدوس کی رضا اور اس کی خوشنودی ہی ہے اس سے بڑھ کر کسی بندے کی خوش نصیبی اور کیا ہوگی کہ کھانا کھانے اور پانی پینے ہی میں اس سے خداوند کریم خوش ہوجائے کاش ہر مسلمان کو اس حدیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے کھانے کے آداب میں یہ بھی خاص طور پر سنت ہے کہ تسمیہ پڑھ کر کھانا شروع کرے اور اپنے ہاتھ سے کھائے برتن میں سے اپنی ہی طرف کھائے پورے برتن میں ادھر ادھر سے ہاتھ نہ ڈالے۔ اور ہر لقمہ پر اگر نہ ہوسکے تو کھانا کھا کر الحمدللہ پڑھ کر خداوند کریم کا شکر ادا کرے۔ جب بھی سنت ادا ہوجائے گی۔ حضرت عبدالواحد بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک بار جہاز پر سوار تھا۔ ہوا نے ہم لوگوں کو ایک جزیرہ کی طرف جا پھینکا۔ وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بت کی پرستشی میں لگا ہوا ہے ہم نے اسے کہا یہ کیسا خدا ہے جس کی پرستش کی جارہی ہے ہم لوگوں میں تو ایسے لوگ ہیں جو ایسے ایسے کتنے ہی بنا ڈالیں۔ اس نے پوچھا: اچھا تم لوگ کس کی پوجا کرتے ہو؟ ہم نے کہا: خدا کی وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے اور جس کی پکڑ زمین میں ہے۔ اس نے پوچھا تمہیں بتلا یا کس نے؟ ہم نے جواب دیا کہ اسی خدا نے ہمارے پاس اپنا رسول بھیجا تھا جس نے ہم کو اس سے آگاہ کردیا اس نے پوچھا وہ رسول کیا ہوئے؟ ہم نے کہا: ان کا وصال ہو گیا ہے اس نے پوچھا: بھلا تمہارے پاس ان کی کوئی علامت بھی باقی رہی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں جو شاہی فرمان اس رسول علیہ الصّلواٰة والسّلام کے پاس آیا تھا وہ ہمارے پاس اب بھی باقی ہے اس نے کہا: اچھا میرے پاس لائو، ہم نے قرآن مجید موجود کردیا۔ اور سورہ رحمن پڑھ کر سنائی۔ وہ سورہ مبارکہ کرکے اختتام تک برابر روتا رہا۔ اور کہنے لگا جس کا یہ کلام ہے اس کی نافرمانی ہرگز مناسب نہیں اور یہ کہہ کر اسلام لایا اور پکا مسلمان ہوگیا۔
ہم نے اسے اسلام کے احکامات سکھائے۔ جب رات ہوئی تو ہم لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنی خواب گاہوں میں لیٹ رہے ہم لوگوں سے وہ پوچھنے لگا: اے لوگو! جس خدا تک تم نے میری رہنمائی کی ہے وہ سوتا بھی ہے؟ ہم نے جواب دیا: وہ ”حیّ وَقیوم” وہ سوتا نہیں ہے اس پر اس نے کہا: تو پھر تم کیسے بندے ہو کہ تمہارا مالک تو سوتا نہیں، اور تم سوتے ہو آخر جب ہم سفر دریا سے باہر آئے تو ہم نے چاہا کہ اس کو کچھ روپے دیں وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم! تم نے مجھے ایسا طریق بتایا ہے جس پر تم خود نہ چلے۔ دیکھو! میں پہلے غیر خدا کی عبادت کرتا تھا اس وقت تو اس نے مجھے ضائع ہونے نہ دیا اور اب تو مجھے اس کی معرفت حاصل ہوگئی ہے۔ بھلا مجھے کیسے ضائع ہونے دے گا اور میری خبر گیری نہ کرے گا؟ اس کے بعد جب تین دن گزر گئے تو سنائی دیا کہ وہ حالت نزع میں ہے۔ یہ سن کر میں اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کوئی حاجت تو نہیں ہے؟ اس نے کہا کہ وہ میری حاجت پوری کر چمکا ہے جو مجھے جزیرہ سے نکال کر باہر لایا ہے۔ اس کے بعد میں وہی سو گیا دیکھتا ہوں کہ ایک سرسبز لہلاتے باغ میں ایک قبہ میں ایک خاتون بیٹھی کہہ رہی ہے کہیں اسے جلدی لے بھی آئو۔ مدت گزر گئی کہ میں اس کی مشتاق ہو رہی ہوں۔ اس کے بعد میں بیدار ہوا تو اس کا انتقال ہوچکا تھا۔ خیر میں نے اس کا کفن دفن کیا اس کے بعد خواب میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی قبر میں بیٹھا ہوا قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں کے زمرہ سے بنائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












