معلوم نہیں کون سی ٹیم اﷲ تعالی سے یہ دُعا مانگ رہی تھی کہ بارش ہوجائے اور میچ نہ ہوسکے . بچپن میں ہم لوگ یہ دُعا مانگا کرتے تھے کہ بارش ہوجائے اور معلم گھر پر پڑھانے کیلئے نہ آسکیں لیکن بعض اوقات ٹیوٹر بارش میں بھیگتے ہوے اور اپنی سائیکل کو کھینچتے ہوے نمودار ہوجاتے تھے اور ہم لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے تھے کہ آیا وہ ٹیوٹر ہیں یا سینٹرل جیل کے حولدار۔ ہمارے ٹیوٹر کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا . وہ وہاں کی ساری تہذیب اور ثقافت کو لے کر پاکستان آگئے تھے یا شاید پاکستان آنے کا اُنکا نصب العین یہی تھا کہ وہ حیدر آباد کی تہذیب و ثقافت کو پاکستانیوں پر جن کی اکثریت پودے بونے والوں کی تھی اُن پر مسلط کرسکیں۔ ہم لوگ پودے بونے والوں میں سے نہیں تھے لیکن پھر بھی اُنہیں ہمیں یہ سکھانا پڑتا تھا کہ کھانا کھاتے وقت گدھے کی طرح آواز نہیں نکالی جاتی ہے اور صرف ہاتھ کی اُنگلیاں استعمال کی جاتی ہیں سارے ہاتھ کو استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ اب ایسے معلم کا ملنا دشوار ہے جو بچوں کو کھانے پینے ، گفتگو کرنے اور آداب سُخن سے آگاہ کر سکے، لیکن ایسے ٹیوٹر ضرور دستیاب ہیں جو ہر لمحہ بعد اپنی گھڑی کو دیکھتے ہیں۔ بہرکیف عرض یہ ہے کہ پاکستان اور نیوزی کے مابین کھیلے جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت جس نے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کی دوڑ دھوپ لگا رکھی تھی کیوں نہیں وہاں بارش سے بچنے کیلئے چھترے والی اسٹیڈیم بنانے کی زحمت کی۔لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے تو کمال کردیا، خود بھی ڈوبے اور بنگلہ دیش کو بھی لے ڈوبے۔ مبصرین کرکٹ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس نے بھی پاکستان پر انحصار کیا اُس کا یہی حشر نشر ہوا۔ اوّل تو پاکستان کے ارباب حل و عقد بنگلہ دیش کو یہ کہتے رہے کہ وہ بھارت نہ جائے کیونکہ اُن کی جان کو وہاں خطرہ لاحق ہے۔ اگر وہ گئے تو بھارت کے اسٹیڈیم میں اُن پر پھولوں کے بجائے کھانے کے ڈبے ، سوڈا کے کین جو سب کے سب خالی ہونگے برسائے جائینگے۔ سوائے رسوائی اور گالیوں کے سوا اُنہیں کچھ نہیں ملے گا اور اُنہیں بھارت جانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ سارا کام اُن کا بھائی پاکستان کردے گا۔ پاکستان ورلڈ کپ جیت کر اُن کیلئے لے آئیگا۔ بنگلہ دیش دیکھ لے گا کہ پاکستان کس طرح جیت کر لاتا ہے لیکن جب پاکستان اور بھارت کا میچ شروع ہوا تو بنگالی بیچارے زاروقطار رورہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو بھی ہوا ٹھیک نہ ہوا ۔ بھارت کے بیٹر ایشان کشن نے پاکستانی بالروں کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں۔ پاکستان کے کپتان اور کوچ دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے پاکستان کی کوئی ٹیم ہی نہ ہو وہ گلی کے لچھے کو سو روپے کی لالچ میں ساتھ لے کر آگئے ہیں۔ ایک زمانہ ہوتا تھا جب پاکستان کے بالروں کا ایک رعب ایک دبدبہ ہوتا تھا جس کی بال کو ہٹ کرتے وقت مخالف ٹیم کے بیٹسمین کے ہاتھ کپکپانے لگتے تھے اور اب جو بالرز پاکستان کی ٹیم میں شامل ہیں اُن کے بال کو تو ہِٹ کرنے کیلئے بھارتی بیٹسمین آگے بڑھ کر چھکے اور چوکے مارتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی نااہل اور ناکارہ ٹیم کو لے جانے کی ضرورت کیا تھی۔ فیصلہ کھیل کے میدان میں بھی کیا جاسکتا تھا اور وہی فیصلہ سود مند ثابت ہوتا۔ لیکن کھیل کے میدان کو تو دیکھ کر ایسا معلوم ہورہا تھا جہاں پاکستان ٹیم کا کوئی کپتان ہی نہ ہو۔ جہاں فلڈرز تعینات کئے جارہے تھے بال اُس سے بیس فٹ کے فاصلے سے گذر جاتی تھی اور کھلاڑی اتنے کاہل تھے کہ بال اُن کے سر تک پہنچنے کا انتظار کرتے تھے اُنہیں یہ بھی توفیق نہ ہوتی تھی کہ آگے بڑھ کر کیچ کرلیں۔
ورلڈ کپ کی نامور ٹیمیں پِٹ رہی ہیں اور چھوٹی چھوٹی ٹیمیں عمدہ کھیل پیش کر کے شائقین کا دِل موہ رلے رہی ہیں۔ اِن ہی ٹیموں میں نیپال بھی شامل ہے۔ گذشتہ سترہ فروری کو نیپال نے اسکاٹ لینڈ سے اپنا میچ کھیلا تھا. کہاں نیپال اور کہاں اسکاٹ لینڈ ایک دوسرے کے مد مقابل آسمان زمین کے فرق پر تھے، لیکن چند لمحہ بعد ہی فینز کی توجہ کھیل پر مبذول ہوجانے پر مجبور ہو گئی۔ نیپال کی ٹیم کی خاص بات یہ تھی کہ اُس میں کئی مسلمان کھلاڑی تھے جن میں آصف شیخ، عارف شیخ، گلشن، عادل انصاری ، انیل شاہ
شہاب عالم ، بشیر احمدقابل ذکر تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ پاکستان یا بنگلہ دیش کی ٹیم ہو. لیکن نیپال کے ایک کھلاڑی دیپندرا سنگھ نے تو 23 بال میں 50 رنز بنا کر اسکاٹ لینڈ کا چھکا چھڑا دیا ۔
سلمان علی آغا کی کپتانی اِن دنوں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ لوگ نہ صرف اُن کے کھیل کے معیار پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اُن کے چیونگم چبانے کی عادت کو بھی نشانہ بنایا ہوا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایک دِن میں ایک ٹن چیونگم چبا ڈالتے ہیں۔نمیبیا کے خلاف میچ میں موصوف نے 38 رنز بنائے تھے لیکن ایک بھی وکٹ لینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جب کپتان ہی اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کرسکتا تو پھر وہ کس طرح اپنے زیر ماتحت کھلاڑیوں سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ اُس کی بات سنیں۔
پاکستان کی ٹیم کی طرح بھارت کی ٹیم میں بھی کئی کھلاری سفید ہاتھی ہیں. اُن میں ابھیشک شرما نے
سارے سابقہ کھلاڑیوں کا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ وہ پہلے امریکا کے مقابلے میں بحیثیت اوپنر صفر کے رن پر پویلین لوٹ گئے تھے اور پھر پاکستان سے مقابلے میں بھی اُنہوں نے وہی قصہ دہرایا تھا۔ اُن کا یہ سلسلہ جاری رہا اور 18 فروری کو نیدرلینڈسے مقابلے میں بھی اُن کی قسمت کی لکیر اپنا رخ نہ بدل سکی اور وہی
صفر کا نمبر اُن کی تقدیر کا مقدر بن گیا۔












