پاک افغان سلگتی آگ بڑھنے کا خدشہ!!!

0
11
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان کا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو سرجیکل سٹرائیکس کے ذریعے نشانہ بنانا بہت اہم ہے کہ اس سے پورے خطے کا منظرنامہ ہی بدل سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ننگرہار کے علاقہ کامی اور پکتیکا کے ضلع برمل میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں بعض ٹی ٹی پی کمانڈروں اور دہشت گردوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔ افغان طالبان البتہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ سویلین ہلاکتیں بھی ہوئیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جن علاقوں میں یہ دعوی کر رہے ہیں، وہاں ائیر سٹرائیکس کی اطلاعات ہی نہیں۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق پاکستان نے ننگر ہار صوبے میں جلال آباد کے قریب ضلع کامی اور بشمول دیگر علاقوں میں دو سے تین کیمپس (ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی کے ٹریننگ سینٹرز) تباہ کیے۔ جبکہ پکتیکا صوبہ میں ضلع برمل کے پہاڑی علاقوں میں کم از کم چار ٹھکانے، جن میں عمر میڈیا سینٹر، خودکش ٹریننگ کیمپس اور ٹی ٹی پی کمانڈروں کے ٹھکانے شامل تھے۔ حالیہ کارروائی خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی نزاکت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری جدوجہد کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان تنظیموں نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ مہینوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے ملتے ہیں اور ان کے سہولت کار افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان میں قائم عبوری حکومت، جسے وہ اسلامی امارت افغانستان کے نام سے موسوم کرتے ہیں، پر پاکستان کی جانب سے بارہا زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مقف ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ مؤقف بین الاقوامی قانون میں موجود حقِ دفاع کے اصول سے جڑا ہوا ہے، تاہم اس کی عملی تعبیر ہمیشہ پیچیدہ اور حساس ہوتی ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھا سے بھرپور رہی ہے۔ سوویت دور سے لے کر نائن الیون کے بعد کی عالمی جنگ تک، افغانستان مسلسل عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ اس طویل عدم استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی علاقوں میں اسلحے اور منشیات کا پھیلائو اور شدت پسند گروہوں کی مضبوطی نے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کو متاثر کیا۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کی، مذاکرات کی سہولت کاری کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، مگر زمینی حقائق آج بھی پیچیدہ ہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد جب امریکی افواج کا انخلا ہوا اور طالبان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو امید تھی کہ افغانستان میں استحکام آئے گا اور سرحد پار دہشت گردی میں کمی ہوگی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خدشات بڑھنے لگے کہ کچھ شدت پسند گروہ نئی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، اگر یہ دعوی درست ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے، کیونکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کی موجودگی کسی بھی ریاست کی رٹ کو کمزور کرتی ہے۔ حالیہ فضائی کارروائی کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا گیا تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر افغانستان کی عبوری حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتی ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لیے ایسی شرائط طے کی جائیں جن میں دہشت گردی کے خلاف واضح اور قابل تصدیق اقدامات شامل ہوں، اگر افغانستان معاشی بدحالی اور سفارتی تنہائی کا شکار رہے گا تو وہاں غیر ریاستی عناصر کے لیے جگہ پیدا ہوتی رہے گی۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سرحد پار کشیدگی کا اثر دونوں ممالک کے عوام پر پڑتا ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہوتی ہے، قانونی آمد و رفت میں رکاوٹیں آتی ہیں اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔ اس لیے ایک متوازن حکمت عملی ضروری ہے جس میں سختی اور لچک دونوں شامل ہوں۔جہاں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،وہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے، دراصل ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر وغیرہ کے مختلف گروپس یہیں پر موجود ہیں ، ان کے ٹریننگ سنٹر، رہائشی کمپاونڈو وغیرہ ادھر ہی ہیں جبکہ یہیں پر ٹی ٹی پی کا عمر میڈیا سنٹر بھی موجود ہے۔ حافظ گل بہادر گروپ شمالی وزیرستان سے بے دخل ہونے کے بعد افغان سرحد کے قریب منتقل ہوا۔ حافظ گل بہادر گروپ بنیادی طور وزیر قبائلیوں پر مشتمل ہے جو روایتی طور پر محسود قبیلے کے ساتھ مخاصمت کا رویہ رکھتے ہیں، اسی وجہ سے یہ خاصے عرصے تک ٹی ٹی پی کا حصہ نہیں بنا جس کے مسلسل محسود سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ آج کل بھی نورولی محسود سربراہ ہے۔ تاہم پاکستانی فورسز کے آپریشنز کے بعد کمزور ہونے کی وجہ سے گل بہادر گروپ دو ہزار اکیس کے بعد نور ولی محسود کے تحت ٹی ٹی پی میں ضم ہو گیا۔ اب یہ گروپ افغان طالبان کی مدد سے مالی،لاجسٹک سپورٹ لیتا ہے، جبکہ پاکستانی فورسز پر حملے کرتا ہے۔ افغانستان پر ان حملوں کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی، پاکستان بھی ہرگز ایسا نہیں چاہتا تھا۔ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات ماننا ہوگی کہ پاکستان نے بڑے صبر وتحمل سے کام لیا اور بار بار افغان طالبان کو سمجھانے کی کوشش کی، انہیں کئی بار ٹھوس شواہد دئیے گئے کہ افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لئے استعمال ہو رہی ہے، اسے روکا جائے۔ کئی بار پاکستان نے دوست ممالک کے ذریعے بھی دباو ڈالا کہ افغان طالبان پیچھے ہٹ جائیں،دوحا معاہدے کے مطابق افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دیں، دہشت گرد گروپوں کو سہولت کاری، فنڈنگ فراہم نہ کریں۔ ان کے حملوں سے پاکستان میں بہت نقصان ہو رہا ہے۔ یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔ بعض غیر رسمی مذاکرات کے دور بھی چلے۔ کئی لوگ اپنے طور پر بھی افغانستان گئے یا بیک ڈور ڈپلومیسی کے طور پر بھی۔ چند دن پہلے سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بھی افغانستان جانے اور اہم طالبان لیڈروں ملا حسن اخوند، امیر خان متقی اور سراج حقانی (خلیفہ)سے ملاقاتوں کی خبر آئی تھی۔ جماعت کے ذرائع اس کی تردید کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی خاص ایجنڈا تھا، مگر ظاہر ہے ایسی ایکٹویٹیز محض شوقیہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی صرف کرٹسی کال مقصد ہوتا ہے۔ بہرحال ان تمام کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here