آج ایک کتاب پوش تھر یعنی شاخِ گل پڑھنے کی کوشش کررہا تھا جس میں تقریبا سو سال قبل پونچھ کے ایک اعلی پایہ استاد، شاعر، مصنف اور دانشور جناب تحسین جعفری کی ایک تصویر ملی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہی پونچھ جہاں آج کشمیری بولنے والے کم بچ گئے ہیں وہاں اس زمانے میں کشمیری شاعری کرنے والے لوگ موجود تھے۔ ماضی کی بات ذاکر ملک بھلیسی کا لکھا ہوا تحسین جعفری کا تعارف پیش کرتا ہوں۔ تحسین جعفری کا شمار اردو کے بلند پایہ شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے مگر انہوں نے صحافی، اور محقق کے طور پر بھی بہترین خدمات انجام دی ہیں۔ وہ کئی تصانیف کے خالق ہیں۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ کشمیری زبان و ادب پر بھی بہت کچھ لکھا ہے۔تحسین جعفری کا اصل نام سرفراز حسین تھا اور تحسین تخلص تھا۔ یہ 2جون 1908 کو منگناڑ پونچھ میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن ہی سے شاعری کا شوق تھا۔ انہوں نے ابتدا میں شعر کہنے شروع کیے اور بعد میں شعر کی پختگی آ گئی۔ 1947 میں جب تقسیم ہوئی تو اس کے اثرات پونچھ پر بھی پڑے اور لوگوں کے دیکھتے ہی دیکھتے پونچھ تقسیم کی زمین بن گیا۔ تقسیم کے بعد پونچھ کے حالات کافی نازک ہوگئے۔ تحسین جعفری بھی انہی حالات سے متاثر ہوکر پونچھ سے ہجرت کرکے راولپنڈی چلے گئے۔ ان کے ایک ایک فرزند جناب ڈاکٹر مقصود جعفری انگریزی کے پروفیسر رہے ہیں اور کم سے انگریزی، فارسی، اردو ، کشمیری اور فارسی میں شاعری ، فلسفہ ، سیاست اور عالمی مسائل پر 35 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آپ نے امریکہ سے انگریزی ادبیات میں پی ایچ ڈی اور فلسفہ میں ڈی فِل کی ڈگری حاصل کی۔ جبکہ ان کے شاگردوں نامور دانشور، شاعر ، سیاست دان، جرنیل ، اور وزیر شامل ہیں۔ کچھ تو وزیر اعظیم کی کرسی تک پہنچے ہیں۔ پونچھ میں آج بھی تحسین جعفری کا نام زندہ ہے اور بہت ہی ادب و احترام سے ان کا نام لیا جاتا ہے۔
٭٭٭











