پاکستان میں اکثر و بیشتر غیر ممالک کے ساتھ خونی رشتوں کا تذکرہ رہتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بعض اقوام یا گروہوں کا افغانستان کے ساتھ خونی رشتہ قائم ہے لہذا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی تقسیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ سوچ غالباً خونی اور ریاستی رشتے کے بنیادی فرق کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ دنیا بھر کے باشندوں کے آپس میں کہیں نہ کہیں خونی رشتے پائے جاتے ہیں مگر وہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہو کر وہاں کی ریاست کے وفادار بن چکے ہیں۔ آج کے امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا یا دیگر ممالک کے باشندوں کو دیکھیں تو ان کے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے ممالک کے ساتھ قریبی خونی رشتے موجود ہیں مگر وہ اپنے متعلقہ ممالک کے شہری کہلاتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے وطن کو بیرونی حملوں سے بچانے کا حلف اٹھاتے ہیں۔ اگر ایک ہی باپ کی اولاد کے الگ الگ گھر بن سکتے ہیں جن کے درمیان بعض اوقات شدید تنازعات بھی پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ دو مختلف ممالک کے خونی رشتے جغرافیائی تقسیم کو نہیں مانتے۔ یہی حال پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے باشندوں کا ہے جن کے کروڑوں لوگوں کے درمیان خونی رشتے قائم ہیں مگر وہ اپنے اپنے ملک کے جغرافیہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں پنجاب، بنگال اور شمالی و جنوبی بھارت کے وہ باشندے بھی شامل ہیں جن کی زبان، کلچر اور تہذیب و تمدن ایک ہے مگر یہ لوگ خود کو بھارتی، پاکستانی اور بنگالی شہری کہلانے پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ریاستی رشتے خونی رشتوں پر غالب آ جاتے ہیں۔
اگر مذکورہ ممالک کے باشندوں کے ریاستی تعلقات ان کے ذاتی رشتوں سے زیادہ اہم ہیں تو پھر پاکستان کے باشندے خود کو اس ملک میں اجنبی کیوں تصور کریں جس نے انہیں پناہ دے رکھی ہے۔ اس زمین کے گرد اب باقاعدہ حد بندیاں ہو چکی ہیں تاکہ کوئی غیر ملکی حملہ آور ماضی کی طرح پاکستانی سرزمین پر قبضہ نہ کر پائے۔ وہ دور لد چکا جب طاقتور قبائل اور گروہ امن پسند ممالک پر بزور طاقت قبضہ کر لیا کرتے تھے اور اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کوئی وسطی ایشیائی، ایرانی یا افغانی حملہ آور آکر ہندوستان یا پاکستان پر قابض ہو سکے جس کے باسیوں نے صدیوں کی غلامی کے بعد آزادی حاصل کی ہے۔ یہ اقوام اب اپنی آزادی کو کبھی کھونے نہیں دیں گی اور نہ ہی اب کوئی غزنوی، غوری، سوری، لودھی، مغل، ابدالی یا نادری نسل کا حملہ آور یہاں کی زمین پر قبضہ کر کے لوٹ مار کر سکتا ہے کیونکہ ہر قوم کو عروج و زوال کے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کل کے رومی، یونانی اور مصری فرعونوں کی نسلیں آج زوال پذیر یا مٹ چکی ہیں اور اسی طرح وسطی ایشیائی اور افغانی فاتحین کی طاقت بھی فنا ہو چکی ہے جو اب محض تاریخ کے پنوں یا مجسموں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔
راقم الحروف قوم پرستی کا مخالف نہیں ہے جو ایک مخصوص جغرافیہ، کلچر اور تہذیب و تمدن سے جنم لیتی ہے اور وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ متحدہ ہندوستان کی تمام اقوام اور نسلیں آج کئی ممالک میں تقسیم ہیں جن کے راجپوتوں کی طرح خونی رشتے تو ہیں مگر وہ سری لنکا، ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان میں مقیم ہو کر اپنی ریاستوں کے محافظ بن چکے ہیں۔ جنہیں تاریخ میں آرین قبائل اور بعد ازاں آرین قوم کہا گیا آج وہ بھی مختلف ممالک کے شہری ہیں اور اپنے اپنے وطن کے وفادار کہلاتے ہیں۔ یہ تمام شواہد ثابت کرتے ہیں کہ خونی رشتے اور ریاستی رشتے میں واضح فرق ہوتا ہے اور اسی فرق کو برقرار رکھنے میں ہی کسی بھی ریاست کا وجود اور بقا پنہاں ہے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











