خلیجی سیاست کے بدلتے رخ اور پاکستان کی ترجیحات کا کڑا امتحان

0
3

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین عشروں پر محیط برادرانہ تعلقات اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں معاشی مفادات اور علاقائی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے ایک دوسرے میں الجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ 18 اپریل 2026 کو پاکستان کی جانب سے دو ارب ڈالر کے قرض کی اچانک واپسی نے عالمی ایوانوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اسے ایک عام مالیاتی عمل قرار دے کر گرد چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ محض ہندسوں کا ہیر پھیر نہیں بلکہ اس کے پس پردہ بدلتے ہوئے وفاداریوں کے رخ اور مشرق وسطیٰ میں ابھرتی ہوئی نئی صف بندیاں واضح طور پر نمایاں ہیں۔ 2018 اور 2019 میں جب پاکستان معاشی دلدل میں پھنسا ہوا تھا تو اماراتی تعاون نے سہارے کا کام دیا تھا مگر اب اس رقم کی واپسی اس وقت عمل میں آئی ہے جب سعودی عرب کے ساتھ ستمبر 2025 میں ہونے والا دفاعی تعاون کا معاہدہ ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ حالیہ برسوں میں ریاض اور ابوظہبی کے مابین معاشی برتری اور یمن کی جنگ کے حوالے سے خلیج پیدا ہو چکی ہے اور پاکستان کے لیے ان دو بڑے بھائیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہمیشہ سے ہی ایک کٹھن مرحلہ رہا ہے۔
ریاض کی جانب سے اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی تڑپ اور عالمی کمپنیوں کو اپنے ہاں مراکز قائم کرنے پر مجبور کرنا براہ راست دبئی کی تجارتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اس معاشی رسہ کشی نے اسلام آباد کو ایک ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جہاں اسے اپنے پرانے محسن اور نئے تزویراتی ساتھی میں سے کسی ایک کی ترجیحات کو فوقیت دینی پڑ رہی ہے۔ مزید برآں تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی حالیہ ثالثی کی کوششوں نے بھی اماراتی حکام کے ماتھے پر بل ڈال دیے ہیں۔ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں جس طرح متحدہ عرب امارات کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کے بعد وہ ایران کی کسی بھی قسم کی سفارتی بحالی کو اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا امن پسندانہ کردار اماراتی مفادات سے متصادم نظر آتا ہے جس کا عکس ہمیں حالیہ مالیاتی لین دین اور سفارتی سرد مہری کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے 1971 میں امارات کے قیام کے وقت جس خلوص کے ساتھ اس نوزائیدہ ریاست کی آبیاری کی تھی وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ دفاعی شعبہ ہو یا فضائی خدمات کا آغاز ہر جگہ پاکستانی ماہرین نے اپنا خون پسینہ ایک کیا۔ ایمریٹس ایئرلائن کی بنیادوں میں پی آئی اے کا تجربہ اور مہارت شامل ہے جس کا اعتراف آج بھی دنیا کرتی ہے۔ تاہم آج کے دور کی سیاست جذبات سے زیادہ مفادات کے تابع ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اور اس کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا خواب بھی ان تعلقات میں ایک خاموش رکاوٹ بن کر ابھرا ہے کیونکہ دبئی اپنی بندرگاہوں کی اہمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتا۔
اس تمام منظرنامے میں لاکھوں پاکستانیوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہے جو وہاں محنت مزدوری کر کے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کو جگہ دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ خلیجی ممالک کی باہمی رقابت میں پاکستان کا مفاد مجروح نہ ہو۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی معاشی خود مختاری کے لیے سی پیک جیسے منصوبوں کو جلد مکمل کرے تاکہ بیرونی قرضوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سفارتی دباؤ سے مستقل نجات حاصل کی جا سکے اور ریاست اپنے فیصلے کسی بیرونی خوف یا لالچ کے بغیر کرنے کے قابل ہو سکے۔ یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ انتہائی دانشمندانہ تدبیر اور دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے تاکہ برسوں کی محنت سے بنے ہوئے یہ رشتے بھی قائم رہیں اور ملک کی خود مختاری پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here