اوٹاوا (پاکستان نیوز) کینیڈا کی حکومت نے نیا ڈیجیٹل سیفٹی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، البتہ ایسے پلیٹ فارمز کو استثنا دیا جا سکے گا جو مخصوص حفاظتی معیار پر پورا اتریں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا کے وزیر برائے شناخت و ثقافت مارک ملر نے گزشتہ روز بتایا کہ اس بل کا مقصد مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹس کو بھی زیادہ محفوظ بنانا ہے،اس کے لیے ایک ڈیجیٹل ریگولیٹر قائم کیا جائے گا جو حفاظتی معیار طے کرے گا،قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدنی کے 3 فیصد یا ایک کروڑ کینیڈین ڈالر (تقریباً 72 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اے آئی چیٹ بوٹس صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، یہ بچوں کی صحت مند نشوونما میں مددگار نہیں اور بہت سے نوجوان کینیڈینز کے لیے بے چینی، تنہائی، ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرے گی تاکہ وہ لوگوں سے براہ راست رابطے بنائیں ، تعلیم پر توجہ دے سکیں اور عملی مہارتیں سیکھ سکیں۔یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حال ہی میں کینیڈا میں بدترین اجتماعی فائرنگ سے متاثرہ خاندانوں نے OpenAI کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔










