مرکزی بینک کی خود مختاری اور صدارتی اختیارات کی فیصلہ کن کشمکش

0
3

حالیہ دنوں میں امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم عدالتی فیصلہ عالمی مالیاتی نظام اور سیاسی حلقوں میں گہری بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی اختیارات اور امریکی مرکزی بینک کی آزادی کے مابین قائم نازک توازن کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ فیڈرل ریزرو بینک کی گورنر لیزا کْک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی صدارتی کوششوں کے گرد گھومتا ہے جسے ملکی عدالتِ عظمیٰ نے غیر آئینی اور قانون کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت محض ایک سرکاری ملازم کی ملازمت کا تنازع نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں اس بنیادی آئینی سوال میں پیوست ہیں کہ کیا منتخب صدر کی سیاسی خواہشات ملکی معیشت کے مرکزی ستونوں کی خود مختاری پر حاوی ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ سن انیس سو تیرہ میں جب امریکی کانگریس نے اس مرکزی مالیاتی ادارے کی بنیاد رکھی تھی تو اس کا بنیادی مقصد اسے روزمرہ کی سیاسی ہلچل اور حکومتوں کے عارضی مفادات سے بالاتر رکھنا تھا تاکہ ملک کی شرح سود اور مالیاتی پالیسی کا تعین ماہرین کی بصیرت اور طویل مدتی معاشی استحکام کی روشنی میں ہو سکے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے لیزا کْک کو برطرف کرنے کا اقدام دراصل ایک طویل عرصے سے جاری اس کشمکش کا حصہ ہے جس میں وائٹ ہاؤس اور مرکزی بینک کے مابین سود کی شرحوں کے تعین پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ صدر کا موقف رہا ہے کہ مرکزی بینک کو حکومت کی معاشی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں۔ اس کے برعکس مرکزی بینک کے حکام کا یہ کہنا ہے کہ ان کا فریضہ کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ افراطِ زر کو کنٹرول میں رکھنا اور طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ جب انتظامیہ نے لیزا کْک پر دستاویزات میں کوتاہی کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا تو قانونی ماہرین نے اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا تھا کیونکہ اگر صدر محض اپنی مرضی کے مطابق مرکزی بینک کے ارکان کو فارغ کرنا شروع کر دیں تو ادارہ جاتی آزادی کا تصور ہی ختم ہو کر رہ جائے گا۔
سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے اکثریتی فیصلے میں یہ نکتہ واضح کیا کہ اگرچہ صدر کو انتظامی اختیارات حاصل ہیں مگر وہ قانون کے تابع ہیں اور کسی بھی سرکاری عہدیدار کو ہٹانے کے لیے ٹھوس اور قانونی وجوہات کا ہونا ناگزیر ہے جس کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا لازم ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بینک کے گورنرز کا تقرر ایک مخصوص قانونی مدت کے لیے کیا جاتا ہے جس کا مقصد انہیں ہر قسم کے دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد لیزا کْک کی اپنے منصب پر واپسی یا ان کا برقرار رہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی نظامِ حکومت میں ادارہ جاتی توازن اب بھی اپنی جگہ قائم ہے اور طاقت کا ارتکاز عدالتی جانچ پڑتال کے بغیر ممکن نہیں۔ اس فیصلے نے جہاں ایک طرف صدر ٹرمپ کی انتخابی کامیابیوں کے بعد بڑھتے ہوئے اختیارات پر ایک حد مقرر کی ہے وہیں دوسری طرف عالمی سرمایہ کاروں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی مالیاتی پالیسی کے بنیادی ستون سیاسی تبدیلیوں کے طوفان میں اپنی جگہ پر مستحکم رہیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عدالتی نشست کے دوران ایک دوسرے مقدمے میں عدالت نے فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی ایک رکن کو ہٹانے کے صدارتی فیصلے کو درست تسلیم کیا جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے ہر ادارے کی نوعیت اور اس کے قانونی تحفظات کا الگ الگ جائزہ لیا ہے۔ یہ دوہرا معیار دراصل امریکی آئینی نظام کی وہ باریکی ہے جہاں ہر ادارے کو ملنے والے اختیارات اور تحفظات کا تعین اس کے فرائض اور معاشرے میں اس کی اہمیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ مرکزی بینک کی آزادی کو برقرار رکھنا اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ عالمی معیشت پر اس کے فیصلوں کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کی معاشی قسمت کا دارومدار بھی انہی فیصلوں پر ہوتا ہے۔ جب امریکہ کا مرکزی بینک شرح سود میں ردوبدل کرتا ہے تو اس کے براہ راست اثرات ایشیا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے اسٹاک بازاروں اور کرنسی کی قدر پر پڑتے ہیں۔
اس عدالتی فیصلے سے یہ بھی واضح ہوا کہ امریکی سیاست میں صدر کا ہر فیصلہ حتمی نہیں ہوتا اور عدالتیں بطور محافظ آئین ان فیصلوں کو رد کرنے کی طاقت رکھتی ہیں جو ملکی سالمیت یا اداروں کی خود مختاری کے منافی ہوں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا سیاسی جھٹکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جمہوریت کے اس اصول کو تقویت دی ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست کے اہم ترین مالیاتی ادارے اپنے قواعد و ضوابط کے تابع آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ لیزا کْک کی چودہ سالہ مدتِ ملازمت جو سن دو ہزار اڑتیس تک جاری رہے گی، اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس کی جانب سے وضع کردہ قوانین کے سامنے انتظامیہ کی طاقت بے بس ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ عدالتی فیصلہ امریکی معاشی نظام کی مضبوطی اور اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کامیاب کوشش ہے جس کے دور رس نتائج آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی معاشی پالیسیوں پر مرتب ہوتے رہیں گے۔ یہ تنازع اس حقیقت کو بھی ثابت کرتا ہے کہ طاقت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، قانون کا دائرہ کار اس سے ہمیشہ وسیع تر ہوتا ہے اور جمہوری نظام کا حسن اسی توازن میں مضمر ہے کہ کوئی بھی شخصیت یا عہدہ آئین اور قانونی تقاضوں سے بالا تر نہ سمجھا جائے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here