مسلح اور شوشلسٹ دو مجرم !!!

0
3
رمضان رانا
رمضان رانا

مسلح اور سوشلسٹ دو مجرم قرار پانے والے یہ اشخاص رمضان رانا کی نظر میں ایک اہم موضوع ہیں۔ نیویارک اور لندن کے دو شخصیات میئر ممدانی اور میئر صادق خان کو ان کی میئر شپ کے بعد بین الاقوامی سرمایہ داری، اجارہ داری، رسہ گیری اور جاگیرداری کے نظام کے لیے مجرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان کا سرغنہ امریکی صدر ٹرمپ کو قرار دیا جاتا ہے جو دن رات ان پر تنقید کرتے ہیں۔ جس طرح ماضی میں سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کو کافر، غدار اور باغی قرار دیا گیا تھا، اسی طرح جب چین اور روس میں سوشلسٹ اور کمیونسٹ انقلابات آئے جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو غریب اور مفلس دنیا کے دشمنوں نے اس انسانی نظریہ نجات کو مسلم دنیا میں کافروں کا نظام زندگی قرار دیا۔ اس وقت کے پیروکار مولانا بھاشانی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد اور باچا خان کو کافر قرار دیا گیا جبکہ وہ اسلام کے دلدادا تھے۔ مغربی دنیا نے اسے آزادی کا دشمن قرار دیا کہ اس میں جمہوریت کا خاتمہ ہوگا اور امریکی عوام میں نظریہ سوشلزم کے ماننے والوں کو غدار اور باغی قرار دے کر جیلوں میں ٹھونسا جاتا تھا۔ حالانکہ سوشلزم نے مذہب اسلام کی طرح انسانی مساوات، معاشی اور مالی انصاف کا درس دیا ہے کہ زمین ریاست کی ہے جس سے پوری دنیا مستفید ہوگی، جیسا کہ اسلام میں زمین اللہ کی قرار دی گئی ہے جس کا کوئی شخص مالک نہیں ہوسکتا اور ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسلام اور سوشلزم دونوں میں سود کے کاروبار کو منع کیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں سرمایہ داری کی اجارہ داری پیدا نہ ہو پائے جس سے انسان کو قدیم اور جدید دور میں غلام بنا رکھا تھا، یا پھر آج بھی دنیا بھر کا انسان سود خوری کا مقروض کہلاتا ہے۔ تاہم لندن کے صادق خان اور نیویارک کے میئر ممدانی کی شکل میں سوشلزم اور اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل رہا ہے، حالانکہ امریکہ میں مسلمان اور سوشلسٹ ہونا ایک جرم سمجھا جاتا رہا ہے۔ آج دنیا بھر کی سرمایہ داری کے گڑھ نیویارک میں سوشلزم کا نعرہ اتنا ہر دلعزیز ہو چکا ہے کہ نیویارک کے میئر ممدانی کے بعد تین کانگریس کے امیدوار بھی سوشلزم کے نعرے پر پرائمری انتخابات میں کامیاب ہو کر نومبر 2026 کے انتخابات میں کامیاب ہوں گے، جس کے بعد پورا نیویارک سوشلزم کے سایہ میں آجائے گا اور یہ لہر پورے امریکہ میں پھیل جائے گی جب ہر طرف سوشلسٹ امیدواروں کا چرچا ہوگا جس کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے پاسدار اور پاسبان سینیٹر برنی سینڈرز ہیں جنہوں نے سوشل ڈیموکریسی کی بنیاد گرین پارٹی کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر رکھی، جو اب مختلف شکلوں میں پورے امریکہ میں پھیل چکی ہے، چنانچہ آج نصف درجن سینیٹرز اور کئی کانگریس مین عوام کے بنیادی مسائل کا ذکر کر رہے ہیں کہ عوام کو مفت تعلیم، صحت اور رہائشی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ سوشلزم بھی اسلام کی طرح انسانیت کا نجات دہندہ نظریہ ہے جس میں انسانیت کو ظلم و ستم کے دور سے نجات دلوائی جائے، سیاسی، معاشی اور مالی انصاف قائم ہو اور انسانوں میں ہر طرح کی مساوات قائم کی جائے، جس کا خلافت راشدہ کے بعد خاتمہ ہو گیا تھا جب مسلمان خلافت کی بجائے ملوکیت کے پیروکار ہو گئے تو انسانی انصاف کا پیغام صرف بیان بن کر رہ گیا۔ اسی طرح سوشلزم کے خلاف بین الاقوامی سرمایہ داری، جاگیرداری اور اجارہ داری نے کھل کر اعلان جنگ کیا اور سوشلسٹ ملکوں کا بائیکاٹ کیا جو آج تک روس اور چین کی شکل میں جاری ہے، جبکہ آج دنیا بھر کا سرمایہ دار چینی کمیونزم سے دولت کما رہا ہے کیونکہ چین آج بھی اپنی ریاستی سرمایہ داری میں اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کر رہا ہے، اس لیے آج چینی عوام سے غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے جو صرف اور صرف سوشلزم کا پھل ہے جس کی قدر آج امریکہ میں محسوس کی جا رہی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here