پاکستان کا ستر سال سے زائد کا سفر ایک ایسے طویل اور مسلسل امتحان کی مانند رہا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اس ملک کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان ترجیحات کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا خلیج قائم ہے۔ جہاں عام شہری کے لیے روزمرہ کی زندگی، بنیادی حقوق، روٹی، کپڑا اور انصاف کی فراہمی سب سے اہم مسائل ہیں، وہاں ہماری اشرافیہ اور حکمران طبقات کی تمام تر توانائیاں اور تشویش ایک ہی نکتہ پر مرکوز رہتی ہیں اور وہ ہے دنیا کے سامنے ملک کا تاثر یا امیج۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہمارے معاشی، سیاسی اور سماجی وڑن کو ہمیشہ دھندلا کر رکھا ہے۔ دنیا کے سامنے خود کو بہتر، پرامن اور ترقی پسند ثابت کرنے کی کوشش میں ہم نے ان بنیادی مسائل سے آنکھیں چرائیں جنہوں نے اندر سے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔اگر ماضی کے صحافتی تجربات اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے رویوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عالمی میڈیا کے سامنے ہمیشہ یہی تسلی دی جاتی رہی کہ حالات اگرچہ آج خراب ہیں لیکن مستقبل میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ غیر ملکی مبصرین اور خبر رساں اداروں کو یہ باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی کہ ہم ایک آزمائش سے گزر رہے ہیں اور اگلے مرحلے میں تمام معاشی و سیاسی بحران حل ہو جائیں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تسلیاں محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئیں اور امیج کی یہ بگڑتی ہوئی صورت حال مزید پیچیدہ اور نازک شکل اختیار کر گئی۔ ایک دور وہ تھا جب دنیا میں کہیں بھی کوئی منفی واقعہ یا غیر قانونی سرگرمی ہوتی تو اس ملک کے ہر باضمیر شہری کے دل میں یہ خوف اور دعا ہوتی تھی کہ اس کے تار پاکستان سے نہ جڑیں۔ لیکن اب صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ دنیا کے جن خطوں میں بھی ابتر حالات یا انتظامی بحران جنم لیتے ہیں، وہاں بلا واسطہ یا بالواسطہ اس ملک کا تذکرہ آ ہی جاتا ہے۔
ہم نے کہانیوں اور داستانوں میں یہ تو سنا تھا کہ کسی منفی کردار میں مثبت تبدیلی آ جائے اور وہ اصلاح کی طرف گامزن ہو جائے، لیکن یہاں کا منظر نامہ بالکل برعکس رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملک عالمی منظر نامے پر حساس اور خطرناک ترین علاقوں کی فہرست میں شمار ہونے لگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن مسائل کو اندرونی طور پر حل کرنے کی ضرورت تھی، انہیں صرف قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ ملک کے داخلی سیاسی حالات اور عوامی حقوق کی موجودہ صورت حال پر نگاہ ڈالی جائے تو حقیقت خود بخود آشکار ہو جاتی ہے۔ جب ملک کے سب سے زیادہ مقبول اور عوامی پذیرائی رکھنے والے رہنما جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوں اور جب حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پرامن کارکنوں، خطے کی محرومیوں پر بات کرنے والے نوجوانوں اور ناانصافی کے خلاف بولنے والی خواتین کی بات سننے سے انکار کر دیا جائے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاستی ڈھانچہ مکالمے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔جدید جمہوریت اور آزادی کا سب سے اہم ستون آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ یہاں سچ بولنے اور لکھنے پر قدغنیں لگانا ایک معمول بن چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ عبرت ناک صورت حال وہ ہے جب خود صحافت کے شعبے سے وابستہ کچھ نام نہاد سینئر افراد یہ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ زبانوں پر پابندی اور لگام ہونی چاہیے۔ جب سچائی کے راستے بند کر دیے جائیں اور تنقید کو جرم بنا دیا جائے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ہم کس قسم کی آزادی کا جشن منا رہے ہیں؟ کیا محض پرچم لہرانے اور سرکاری تقاریب منعقد کرنے کا نام آزادی ہے یا شہریوں کو اپنے تحفظ، اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا نام آزادی ہے؟
اشرافیہ اور حکمران طبقہ امیج کی اس مصنوعی جنگ میں اس لیے اتنی دلچسپی لیتا ہے کیونکہ ان کی تمام تر توجہ بیرونی دنیا سے حاصل ہونیوالے مالی امداد، قرضوں اور معاشی مفادات پر مرکوز ہوتی ہے۔ انہیں عالمی برادری کے سامنے ایک پرامن اور سازگار ماحول کی تصویر پیش کرنی ہوتی ہے تاکہ مالیاتی ادارے اور بیرونی طاقتیں ان سے اپنے معاملات جاری رکھیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ باہر سے آنے والے صحافی، عالمی ادارے یا بیرونی طاقتیں نہیں کر سکتیں۔ یہ فیصلہ کسی ملک کے اپنے عوام کرتے ہیں جو روز مرہ کی سختیوں اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا سامنا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک قوم کے طور پر ہمارا امتحان ہر روز ہوتا ہے اور اس امتحان میں ہم روزانہ کی بنیاد پر ناکام بھی ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود امید کا دامن چھوڑنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات انتہائی مایوس کن اور تاریک دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ وہی اقوام بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے داخلی نقائص کا اعتراف کرتی ہیں اور مصنوعی صورت گری کے بجائے حقیقی اصلاحات کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔ جب تک ہم اپنے عوام کو عزت، انصاف اور مساوی حقوق فراہم نہیں کریں گے، تب تک دنیا کے سامنے کوئی بھی امیج بہتر نہیں ہو سکتا۔ صرف اور صرف حقیقی جمہوریت، آزاد صحافت اور عوامی فلاح و بہبود کے ذریعے ہی اس امتحان کو پاس کیا جا سکتا ہے، ورنہ یہ مصنوعی اور سچائی سے محروم آزادی کا جشن یوں ہی محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
٭٭٭









