میں لندن میں مقیم منظر صاحب کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اردو دان طبقہ کے لیے میرے انگریزی مضمون کا اردو میں ترجمہ کر کے اسے محفلِ اہلِ ذوق اردو ادب پر پوسٹ کیا تاکہ اردو پڑھنے والے بھی اسے پڑھ سکیں۔ قرآن کریم ہدایت، رحمت اور حکمت کی کتاب ہے۔ یہ ایک الہامی وحی ہے جو اصلاح کے بنیادی اصولوں کا تعین کرتی ہے جس کی بنیاد نیکی، انصاف، امن اور مساوات پر ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج مسلمان اسے بنیادی طور پر روحانی انعامات کے لیے تلاوت کی کتاب کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہم اسے ضابطہ حیات کے طور پر نافذ نہیں کر رہے۔ اتحاد کے بجائے ہم اسے تقسیم کے لیے استعمال کرتے ہیں جہاں فرقہ واریت اور مذہبی تعصب حاوی ہے۔ تمام فرقوں کے علماء نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور بادشاہت و ملاّئیت کے سبب ہم اپنا اصل مقصد کھو چکے ہیں۔ اس لیے ہمیں قرآن کی روشنی میں اسلام کی صحیح تفہیم کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں تقسیم کرنے والے تاریخی، فرقہ وارانہ اور فقہی اختلافات کو ترک کرنا ہو گا۔
دولت اور سماجی انصاف کے بارے میں قرآن پاک کے ارشادات کا جائزہ لیا جائے تو سورة الماعون میں ارشاد ہوتا ہے کہ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو قیامت کے دن کا انکار کرتا ہے، وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا، ان لوگوں کے لیے افسوس ہے جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنی نماز سے غافل ہیں، جو تقویٰ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مسکینوں کو خیرات نہیں دیتے۔ اسی طرح سورہ التکاثر میں ارشاد ہوتا ہے کہ تمہیں کثرتِ مال کی ہوس نے آخرت سے غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے، نہیں تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا، پھر نہیں تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا، اگر تم یقین سے جانتے تو تم جہنم کی آگ کو دیکھ لیتے، پھر اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو تم نے حاصل کی تھیں۔ مزید برآں سورہ حمزہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر اس شخص کے لیے ہلاکت اور خرابی ہے جو طعنہ زنی کرنے والا اور عیب جوئی کرنے والا ہے، جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دے گا، ہرگز نہیں وہ ضرور تباہ کن شعلے میں ڈالے جائیں گے۔ پھر سورہ الفجر میں قرآن پاک کہتا ہے کہ نہیں لیکن تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور وراثت کو لالچ سے کھا جاتے ہو اور مال سے بے پناہ پیار کرتے ہو۔ علاوہ ازیں سورہ لیل میں قرآن پاک اعلان کرتا ہے کہ جو شخص صدقہ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے اور نیکی پر یقین رکھتا ہے تو ہم اس کے لیے نجات کا راستہ آسان کر دیں گے لیکن جو نہ کبھی دیتا ہے، نہ اللہ سے اجر طلب کرتا ہے اور نیکی سے انکار کرتا ہے ہم اس کے لیے مصیبت کا راستہ ہموار کر دیں گے اور جب وہ آخری سانس لے گا تو اس کا مال اس کے کام نہ آئے گا۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ صرف نماز، روزہ اور حج ہی نجات کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ قرآن کے مطابق سماجی اور معاشی انصاف رسومات سے زیادہ اہم ہے۔ رسومات منزل کا راستہ ہیں، منزل نہیں ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ صدیوں سے ظالمانہ اور آمرانہ بادشاہت کے تحت مسلمان فقہاء ، دانشور، علماء اور یہاں تک کہ بہت سے صوفیوں نے قرآن کے انقلابی مشن کو نظر انداز کیا ہے۔ آج بھی ہم آزادی، جمہوریت، سماجی انصاف اور میرٹ پر مبنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنے کے بجائے فرسودہ معاملات پر بحث کرتے ہیں۔ اس طرح ہم مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں حالانکہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اب تمام استحصالی قوتوں کے خلاف اٹھنے کا آخری موقع ہے خواہ وہ مذہبی، روحانی یا سیاسی ہوں۔
جیسا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں کہا ہے:
چیست قرآن خواجہ را پیغامِ مرگ
دستگیرِ بندہ بے ساز و برگ
قرآن کیا ہے؟ سرمایہ دار کے لیے موت کے پیغام کے سوا کیا ہے؟ یہ ان بے سہاروں کا سہارا ہے جس کے پاس نہ اسباب ہیں اور نہ ہی رزق۔ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف مذہبی، اخلاقی اور روحانی ہے بلکہ قانونی، عقلی، سماجی اور سیاسی بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور قیامت کے دن نجات کے لیے ہمیں لالچ، دولت کے ارتکاز اور اقتدار کی ہوس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ قرآن اس غریب انسان کے لیے واحد پناہ، طاقت اور رہنما ہے جس کی کوئی دولت یا حیثیت نہیں ہے۔ نیک لوگوں کے لیے یہ موت کی یاد دہانی اور ضرورت مندوں، لاچاروں اور بے سہاراؤں کے لیے حتمی مدد ہے، لہٰذا ہمیں قرآن کی طرف واپس آنا ہو گا۔
ان آیات کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ غریبوں کی ضروریات سے غافل معاشرہ اور ریاست تباہی کی طرف گامزن ہے۔ اس سے یہ سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اسلامی معاشرے اور ریاست میں کوئی غریب، محتاج یا بے سہارا ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب بالکل واضح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس مسلم ریاستیں تو ہیں لیکن اسلامی ریاستیں نہیں ہیں۔ اسلامی ریاست وہ ہے جو جمہوری ہو اور اس کی بنیاد سماجی انصاف پر ہو کیونکہ ایک سماجی فلاحی ریاست کا قیام ہی قرآن کریم کا بنیادی اور حتمی پیغام ہے۔















