عسکری محاذ پر ناکامی کے بعد ٹرمپ کا ایران کیخلاف معاشی ناکہ بندی کا فیصلہ

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مسلسل بمباری کے بعد معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا سہارا لیا گیا ہے۔ تاہم تہران نے اس حکمت عملی کے جواب میں اپنا موقف مکمل طور پر جارحانہ بنا لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکہ نے تعطل کا شکار مذاکرات اور معاہدوں پر جلد عمل درآمد نہ کیا تو ایران ناکہ بندی توڑنے کے لیے بروقت اور انتہائی دقیق حملہ کرے گا۔ ایرانی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک ہونیوالے تصادم صرف ابتدائی مرحلہ تھے اور اصل جنگ کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انقلابی گارڈز نے خلیج فارس میں مواصلاتی کیبلز کو نقصان پہنچانے اور علاقائی اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی اس نئی دفاعی ٹیکنالوجی نے امریکی اثاثوں اور علاقائی تیل کے تنصیبات کے لیے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دوسری جانب طویل عرصے سے سمندر میں موجود امریکی بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی اور عملے کی ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کی تعداد میں بھی کمی کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی تجارتی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل بحری ناکہ بندی ایران کی معیشت کے لیے براہ راست جنگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے حکومت ہر قیمت پر اس ناکہ بندی کو ختم کروانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here