جماعت اسلامی ہی کیوں(قسط دوئم)

0
42
شبیر گُل

جماعت اسلامی کانام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہ سوچ کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کاسوچوں؟ آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟ آیئے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگی ہے تو دنیا کی ہرنعمت سے آپ لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اور آخرت کی ساری لازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہ رہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔لیکن سوچئییے، تو آپ کاد ل خود پکاراُٹھے گا کہ آج زندگی پریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہ اور تکلیف دہ کام بن گیا پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کواور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہوجاتی ہے پھر بھی ساری عمر ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ خرچ نہیں پورا ہوتا، رہنے کیلئے صاف ستھرا مکان میسرنہیں،بچوں کوداخلے نہیں ملتے اور اگر مل جائیں تو روزگار کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں،علاج کیلئے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر ہیں جو عام عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اورفسادکاراج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمین اور طاقت حاصل کر لی ہے۔ عام انسانوں کی گردن پرسوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کررکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوق ضبط کر لئے ہیں حکمران طبقہ نے لوگوں کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے محروم کررکھا ہے۔بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے ۔جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر ممکن نہیں۔پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالی کرکے بھی عدالتوں میں انصاف نصیب نہیں ہوتا ، تعلیم کا معیار پست ہے اوراخلاقیات سے بھی گرا ہوا ھے۔گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل ونگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجائے اپنی قوم کبھی مارشل لا اور کبھی منی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔سرکاری افسرعوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔ اُمت کو دیکھیے،تواگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگرمسلمان کادنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کولوٹنے اور دبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشا ئی ہے یا خوشی خوشی ان کیدام میں پھنستا ہے۔ آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اورزندگی اطمینان کاگہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔ ہمارا پیغام اگرمسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب سب سے بڑھکر ہیں تو وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے وہ مشن فراموش کردیا ہے، جسکے لیے یہ امت بنی تھی۔ ہم ا للہ اور اس کے رسولۖ سے بے وفائی کررہے ہیں۔ہم نے اس دنیا کوہی اپنا محبوب ومطلوب بنا لیا اور خدا کے دین کے لیے اپنے وقت اور مال کاکوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن پڑھتے اوررسولۖ کی محبت کادم بھرتے ہیں ،لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے بالکل نہیں جھجکتے۔جماعت اسلامی ہر مسلمان کویہ پیغام دیتی ہے کہ خداکوخدااوررسول کورسول مان کرتمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زندگی کے کسی حصے میں انکے خلاف چلو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم جمع ہوکرایک جماعت نہ بن جائو۔ اس کارِرسالت کے فرض کو اداکرنے کے لیے جماعت اسلامی بنی ہے۔یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں جس کی سرگرمیاں انتخابات تک محدود ہوں، نہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی مسائل ہی کے لیے مخصوص ہوں۔بلکہ ہماری ساری جدوجہد کامقصد صرف ایک ہی ہے کہ ہم اللہ کیمطیع اورفرمانبردار بن جائیں اور اس کی رضا اورقربت حاصل کریں۔ یہ رضا اورقربت ایک ایسے انقلاب کے لیے جدوجہد سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میںدلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہوجائے اور پوری زندگی پر بھی وہ پرائیویٹہوں یاپبلک۔ یہ اعلان کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اس ہمہ گیر کی دعوت ہے۔ جماعت اسلامی کاپروگرام یہی ہے کہ اپنے پیغام سے غافل لوگوں کوجگائے۔جوساتھ دیں ان کی تربیت کرکے ان کو منظم قوت بنادے، معاشرے میں صحیحاسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیداکرنے کیکوشش کرے اورعوام کی قوت سے زندگی کے ہر شعبہ میں بالخصوص حکومت میں،خدااور رسول کے باغیوں کے ہاتھوں سے قیادت اورفرماں روائی چھین کر اس کے مطیع فرماں بردار بندوں کے حوالے کردے۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوت پاکستان کو ایک ایسی فلاحی واسلامی ریاست بنانے میں لگارہی ہے:
جو خلافت راشدہ کانمونہ ہو۔ جوہرشہری کوا س کی بنیادی ضروریات(روٹی،کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، انصاف) کی ضمانت دے اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کرے جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں۔ جہاں عوام انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لاناچاہیں لاسکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔ آپ کادل کیا کہتا ہے؟
اگرجماعت اسلامی کاپیغام اور پروگرام آپ کوبرحق لگتا ہے تو ہم آپ کودعوت دیتے ہیں کہ آپ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنیں اور جماعت اسلامی میں باقاعدہ شامل ہوں، جماعت اسلامی چندمخصوص لوگوں کا گروہ نہیں بلکہ عوام الناس کی جماعت ہے۔ وہ عوا م الناس جو ظلم اور ناانصافی پرکڑھتے ہیں اوراسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کاشکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یازبانی جمع خرچ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب آپ خودجدوجہد میں شامل ہوں گے۔ھماری جدوجہد اللہ کے دین کا مملکت خدادا پر احیا ہے۔ ہم نہ کسی توڑ پھوڑ کے، نہ جلا گھیرا کے قائل ہیں۔ نہ ہم مذہبی منافرت اور نہ کی نسلی تعصب کے قائل ۔ نہ ہم شخصیت پرستی کے گرویدہ ھیں اور نہ ہی مسلکی فرقہ پرستی کے قائل ۔ ہم دین الٰہی کو اس ملک پر نافذ کرنے کے داعی ہیں ۔ لہٰذا آپ خود اٹھ کراپنے وقت اورمال کاایک معقول حصہ اللہ کے کا میں لگا دیں۔ جب آپ کی طرح سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب ظلم اور بے انصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کاسورج طلوع ہوگا اور ہم سب پر صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔ آپ کا ضمیر ،آپ کاملک، آپ کی ملت، دکھی انسانیت ، سب آپ کو پکار رہے ہیں ۔ دنیا میں عزت و سربلندی اورآخرت میں جنت کی منتظر ہے۔آج سیاسی جماعتوں کا کردار منافقانہ ہے۔ ان جماعتوں پر چند خاندان قابض ہیں۔ وہی خاندان بار بار ہم پر مسلط ہوتے ہیں۔ ان سے جان چھڑانا ہم سب کا فرض ہے۔ کیونکہ یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ۔ اس کی بنیادوں میں ھمارے بڑوں کا خون ہے۔ اسکی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی گود میں پلنے والی جماعتیں شام کے اس اخبار کی طرح ہیں۔ جو رات کو پچاس روپے کلو میں بکتا ہے۔ دن میں پچاس روپے کا ملتاہے۔ کیونکہ قیمت وقت کی ہوا کرتی ہے۔ کبھی کوئی جماعت بھارتی ٹینکوں پر آنے کی بات کرتے ھیں۔ کوئی جماعت را سے فنڈنگ اور ٹرینگ لیتی رہی ہے۔ کوئی مودی کے یار ہیں۔ کوئی پاکستان کو بیرون ملک رسوا کرتے ھیں۔ اقتدار کے لئے یو ایس کانگرس میں پاکستان کے خلاف لابنگ کرتے ھیں۔بھارتی چینلز پر وطن عزیز کے خلاف پراپگنڈہ کرتے ہیں۔ اسکے برعکس جماعت اسلامی نظریہ پاکستان کی مخافظ ہے۔ ملک میں قرآن وسنت کے نظام کی داعی ہے۔ واحد جماعت ہے جس میں جمہوریت ہے۔ جماعت اسلامی ایک ٹیکسٹ بک ہے جس میں کردار و افکار اسکے صفحات ھیں ایمانت و دیانت اسکا دیباچہ ہے۔ اخلاقیات اور خدمت خلق اس کا مقدمہ ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جماعت ہے جو مسلکی فرقہ بندی کی قائل نہیں ۔ اس کے ارکان اور کارکنان ہر مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنہیں ہر مسجد میں نماز کی آزادی ہے۔ دستور جماعت میں مسلکی تفرقہ بازی کی اجازت نہیں ۔ پاکستان میں ایک بھی ایسی نہیں اخلاق و کردار میں جماعت اسلامی کا مقابلہ کرسکے۔جماعت اسلامی کے جلسے اور جلوسوں میں کبھی ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹتا۔ نہ قومی اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ واحد جماعت ہے جو نظریہ اسلامی کی حقیقی داعی ہے۔ نظریہ پاکستان کی پشتیبان ہے۔ قوم نے تمام جماعتوں کو باری باری آزما لیا ہے۔ ایک بار جماعت اسلامی کو ضرور آزما کر دیکھیں۔ جماعت اسلامی قوم کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف جماعت اسلامی ہی قوم کی ضرورت ہے۔

٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here